لوگ پاگل تو نہیں!


بودی سرکار لاہور آئے ہوئے ہیں، میں نے پوچھا خیریت ہے؟ کہنے لگے ”خیریت کہاں، جس معاشرے کی بنیاد نا انصافی پر رکھی گئی ہو وہاں خیریت کیسی؟ کل ایک جگہ تعزیت پر گیا تو وہاں نئے حکومتی سیٹ اپ کی باتیں ہو رہی تھیں، بڑے بڑے عہدوں پر پرانے چہرے، کسی نے پوچھا کہ آخر ہوا کیا ہے؟ ایک صاحب نے سنسنی خیز جواب دیا کہ ایک بندہ دو چرسیوں سے ملا، چرسیوں کے لباس سے بدبو آ رہی تھی، اس نے چرسیوں سے کہا، تم کپڑے تبدیل کر لو! چرسیوں نے آپس میں کپڑے تبدیل کر لیے، تعفن وہیں رہا، اقتدار کے سنگھاسن پر یہی ہوا ہے، آپس میں کپڑے تبدیل ہوئے ہیں۔ لوگ پریشان ہیں کہ انہوں نے نشانات ڈھونڈ کر جن لوگوں کو ووٹ دیے تھے ان کی بجائے چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر کی شکلیں اللّٰہ تعالیٰ کے مبارک ناموں کے نیچے حلف اٹھا چکی ہیں مگر فارم 45 کا قصہ ختم نہیں ہوا، الیکشن کمیشن نے جو فارم 45 اپلوڈ کیے ہیں وہ اس قدر داغ دار ہیں کہ پرانے پرائمری سکول یاد آ گئے ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہمارا الیکشن کمیشن بال پن اور وائیٹنر کا استعمال کر رہا ہے۔

اب سمجھ آئی ای وی ایم کی مخالفت کیوں ہو رہی تھی، دولت کا چکر بھی تو بحال رکھنا ہوتا ہے۔ اگر ہیرا پھیری ضروری ہو بھی گئی تھی تو پرانے محسنوں کا خیال رکھا جاتا۔ جنہوں نے فیصل صالح حیات اور کرنل ہاشم ڈوگر سے دھوکہ کیا ہے ان کے ساتھ بھی دھوکہ ہونے والا ہے۔

دوسری طرف خان بھی بات کا پکا ہے، اس نے 2013 ء کی طرح ایک مرتبہ پھر پہلے چار حلقوں کی بات کی ہے، لاہور کے دو اور پشاور کے ایک حلقے کی نشاندہی کرنے کے ساتھ اسلام آباد کا کوئی بھی حلقہ کھولنے کا کہا ہے۔ سنا ہے اب بڑے میاں صاحب ہار کا بوجھ دل پر لیے لندن پہنچ جائیں گے، عون چوہدری پرانی ڈیوٹی پر واپس، اب تم ڈیوٹی کے بارے میں مجھے نہ پوچھنا۔ نور عالم خان بھی اعتکاف پر بیٹھ جائیں کیونکہ وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔

اسلام آباد سے دیکھیں کس کی قسمت جاگتی ہے، عامر مغل، شعیب شاہین یا پھر سید علی بخاری۔ اسلام آباد سے ایک حلقہ کھلا تو ایک کی قسمت جاگے گی، یہیں سے اگلا کام شروع ہو جائے گا، ہر طرف سے آوازیں اٹھیں گی۔ یار ایک لڑائی بھی ہوئی ہے، ایک جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آپس میں الجھ پڑے ہیں، ایک کا کہنا ہے کہ جس کرسی پر عمران خان بیٹھے ہیں یہ میں اپنے گھر لے جاؤں گا، دوسرا کہتا ہے، نہیں میں لے جاؤں گا، اب ان دونوں میں سے کوئی ایک کرسی لے گیا ہے، کرسی اس کے گھر میں ہے اور اس کا بچہ اس کرسی پر کسی کو بیٹھنے نہیں دیتا، وہ کہتا ہے کہ اس کرسی پر ہمارا لیڈر بیٹھ چکا ہے اب اس کرسی پر میں کسی اور کو نہیں بیٹھنے دوں گا۔

بچے تو بچے ہوتے ہیں، وہ کسی کو ایچی سن نہ آنے دیں یہ ان کی مرضی ہے، وہ سٹیڈیم میں کسی کے نعرے لگائیں، یہ بھی ان کی اپنی مرضی ہے، یہ اپنے اپنے سکولوں میں جس مرضی لیڈر کے نعرے لگائیں یہ بھی ان کی مرضی ہے البتہ میرا بھتیجا اور بھانجا دیسی کام کرتے ہیں، وہ سکول جاتے اور آتے وقت سیدھا سیدھا ”نک دا کوکا“ سن لیتے ہیں، ان کا شوق پورا ہو جاتا ہے اور ملکو کے ثواب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ میرے جگری دوست! لوگ پاگل نہیں ہیں، لوگ اپنے ووٹ کا حساب مانگ رہے ہیں۔

آپ وائیٹنر استعمال کریں یا ایک ہی بندے سے چالیس رزلٹ بنوائیں، کام پھر بھی نہیں چلے گا۔ ہماری 65 فیصد یوتھ کے علاوہ ان پڑھ دیہاتی بھی حساب مانگ رہے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم نے نشان ڈھونڈ کر ووٹ دیے تھے، ہمیں ہمارا حساب چاہیے، آج نہیں تو چند ہفتوں بعد سہی، یہ حساب دینا پڑے گا۔ تمہیں کچھ لوگوں نے پوچھا ہے کہ بودی سرکار تو کہتے تھے کہ بہت بڑی تحریک چلے گی، ہاں تو میں کہتا ہوں بہت بڑی تحریک چلے گی، لوگوں کو بتا دو 23 مارچ سے کام شروع ہو جائے گا اور اپریل کے وسط میں کانپیں ٹانگنا شروع ہو جائیں گی۔

آپ کو بدلتا ہوا منظر نظر آئے گا، سندھ کے پیر پگاڑو فرما رہے ہیں کہ ”ہم نے تین الیکشن ملک کے وسیع تر مفاد میں برداشت کیے، اب ایسا نہیں ہو گا“۔ یہی باتیں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہو رہی ہیں۔ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں بھی یہی قصے ہیں، لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے، لوگوں نے ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیا چند لوگوں نے فیصلہ نہیں مانا، اب لوگوں کے پاس انقلابی تحریک کے سوا کوئی راستہ نہیں، مہنگائی اس راستے کو جلا بخشے گی اور تم دیکھو گے کہ انقلاب فرانس کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ آج تم میری مرضی سے قتیل شفائی کے اشعار لکھو کہ

گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں
چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Facebook Comments HS