مُرشد! گرد رنگ شجر اور روٹھے دریا


ہمیں ایک عرصے سے یہ گماں ہو چلا ہے کہ ہمارے جیسے سست روؤں کے لئے اس ملک خداداد میں کرنے کو کچھ خاص نہیں بچا۔ ماشاءاللہ ”سوشل میڈیائی ماہرین سماجیات“ ہر نوع کی نیم حکیمانہ کیمیا گری سے معاشی، سیاسی اور ذاتی مسائل کا بخوبی ادراک نہ صرف کر چکے ہیں بلکہ تمام مسائل پہ اپنی بے بسیط دانائی کا جھنڈا کب سے گاڑ چکے ہیں سو اس بے پناہ ذہنی عسرت ( بمعنی فرصت ) میں جب ہم سب کی پیاری نگہت جی کا دعوت نامہ بلکہ مسافرت نامہ ملا۔ تو عذر برائے عذر بھی بدتر لگا۔

نگہت النساء اسلام آباد میں رہتی ہیں ایک بین الاقوامی ادارے میں اعلی عہدے پہ فائز ہیں۔ ہماری گرائیں ہیں از حد خلیق، جس سے ملے اسی کی قرین جاں! کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کی شیدائی۔
صنف نازک کا اس معاشرے میں صحتمند کردار اور معاشی ترقی کی خواہاں!
اوائل عمری سے جو تلوار جہد اٹھائی آج تک اسی کی برق سے اپنا اور دوسروں کا راستہ اجلایا۔
ملتان کے سفر کا سندیسہ اور وہ بھی زندگی میں پہلی بار، ”دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں“

ایک مقبول بس سروس ہماری سواری ٹھہری۔ وقت مقرر پہ ذرا سے ابر آلود موسم کے پیش نظر ممکنہ سردی اور مع اس کے اونی تدارک کے لشٹم پشٹم پہنچے تو جھنگی سیداں کے پوٹھوہاری مزاج نے خبرداری کی گھنٹی بجا دی۔ پھر جوں جوں ہم سکندر اعظم کی فرضی معیت میں چلتے گئے۔ یہ وارننگ گرد میں لپٹے میدانوں کی خوئے آہن کا پتہ بتلاتی گئی۔

کہاں تو کچھ دن قبل ہونے والی یخ بستہ ”گیلی بارش میں دھلے خطۂ پوٹھوہار“ کے اجلے لینڈ اسکیپ کا مزا ڈھونڈتی ہماری نگاہیں اور

کہاں یہ دھول اڑاتے، دھندلے مناظر،
طبیعت بھی گدلے پانی جیسی ہونے لگی۔

مرکزی شاہراہ ( موٹروے ) سے ہٹتے ہی شام اور مناظر وسیع ہوتے جا رہے تھے۔ لینڈ اسکیپ میں مقامی درختوں کی ہیئت میں تیزی سے تبدیلی ہوتی جا رہی تھی۔ درختوں کے گھنے، سیدھے اور گہرے جھنڈ نمایاں ہوتے چلے گئے۔ زمین پہ سبزہ اولین قطعات کے برعکس بہت ہی اجلے سبز رنگ کا لگنے لگا۔ (ملک خداداد کے پرچم کی مانند) نئے مسافر کی حیرت چشم کشا بہت سے مانوس منظروں کو غیر شعوری طور پہ اپنی یاداشت میں محفوظ کرتی جا رہی تھی۔ رات گئے اپنے لئے مختص جائے رہائش پہنچے۔

ہماری تیسری ہمراہی ایک سرعت قدم، نازک اندام مگر شیر جگر فرح عرفان تھیں۔ لاہور میں رہتی ہیں۔ لکھنو اور پنجاب کی باہمی معاشرت و مبارزت کی حقیقی آئینہ دار۔

قلباً ماحول دوست اور نسل انسانی کی خیرخواہ۔ ولائتی تعلیم اور دیسی طریقہ علاج کی حامی اور ماہر۔
اب اس ”سہ آتشی منڈلی“ کی اخوت وموانست اگلے کچھ دنوں میں میلوں کا سفر طے کرنے جا رہی تھی۔

ملتان کی زمین اور سفر کا اولین دن! ساکنان دل گرفتہ کی منزل بزرگان دین کی چوکھٹ کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی!

وارفتگان بریدہ دل پلکوں کو ہتھیلیوں پہ رکھے شاہ شمس کے دو ارے پہنچے، وہاں سے حضرت شاہ رکن دین عالم کے مزار اقدس کی زیارت کی۔ اور بعد ازیں حضرت بہاالدین زکریا کی سلامی کو جا ٹھہرے!

سرخی مائل چھوٹی اینٹوں سے بنے نیلی ملتانی ٹائلوں سے مزین اللہ کے نیک بندوں کے فلک پیما مزارات سنٹرل ایشین ہیبت و سطوت کے نشاں لگے۔

ہر سہ جا پہ مرشد کی شان پذیرائی کا جلوہ ملا۔ سراپا نیاز گروہ عاشقاں کے ساتھ گریہ کناں عاصیاں بھی بکثرت حضوری میں مشغول ملے۔

دربان ہمیشہ کی مانند اکھڑ، بلند صوت اور ادب سے کوسوں دور نظر آئے۔ اس بات سے لاعلم کہ اے ظالمو، محبت کے قریوں میں ادب ہی تو پہلا نشان ہے مگر وہاں اسیر خواہش قید مقام کا معاملہ ہی رہا ہمیشہ کی طرح!
کبوتر نیاز مند سے بھی سبق نہیں سیکھا جس کی طاقت پرواز اس کی عاجزی کی والہانہ گواہی ہے

یقین نہ آئے تو اللہ کے بندوں پہ تنے آسمان ان کے زرین، لاجوردی اور سیاہ پروں سے رنگین اور لبریز فضا پہ غور کیجئیے۔ یہ اپنے مدار پہ ایک مستقل شیفتگی کے امین پرواز میں ہمہ تن مصروف ہیں ان کا بے ساختہ تحرک، عقیدت اور مسلسل پرواز، حیات انسانی کی ازلی اساس اور اس کا انکشاف ہے۔

دل سارا دن کبوتر بنا رہا! گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں!
دیار شمس ہو یا دربار رومی!
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سیپارہ
اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ
شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگی ہے کہ بنجارہ!
دروازہ کھلا رکھنا!

شام ڈھلے دریا کنارے جا نکلے! سارا رستہ سیوریج کے زہر رنگ پانی کے نکاس کے ساتھ رستہ طے ہوا کچھ دور یہی پانی بے پناہ تعفن سمیت دریائے چناب میں حل ہوتا دکھائی دیا۔ ایک بے بس ملاح کا خاندان دریا کنارے صنعتی فضلے سے آہستہ آہستہ مردہ ہوتے پانی کے سوگ میں لتھڑا ملا۔ کشتی کی سیر کی دعوت دی۔ پانی میں گندے مواد اور تعفن زدہ فضا کی طرف توجہ دلائی تو دریا رنگ کے بوڑھے ملاح نے شکستہ آواز اور کشادہ دل جواب دیا

ہم بھی رہ رہے ہیں آپ بھی رکیے
فلک کج رفتار مگر منادی پہ متمکن ہے کہ
دریا روٹھنے لگے ہیں۔ سفید رنگ پرندے کب تک زہر آلود پانیوں کی رکھوالی کر ہائیں گے؟
اور مسموم ہوا ان تیل رنگ بدنوں کی طاقت کی کب تک امین بنی رہے گی؟
خفا پانی اور وفادار کبوتر کا بھی تک مسلسل حرکت اور پرواز میں مصروف ہیں۔ اس یقین کے ساتھ
کہ ”انسان“ روٹھے دریاؤں کو منا لیں گے اور
کبوتروں کی گھمن گھیریاں یونہی
مرشد کے دوار پڑتی رہیں گی۔

Facebook Comments HS