زکوٰۃ کیسے خرچ کریں؟


دنیا میں طبقاتی کشمکش ہمیشہ سے قائم ہے۔ بعض طبقے نہایت دولت مند اور انتہائی اثر و رسوخ کے مالک ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ غریب ہوتے ہیں جن کے پاس کھانے کے لئے ایک سوکھا ٹکڑا اور سونے کے لئے ایک بالشت زمین بھی نہیں ہوتی۔ ایک طرف دولت مند طبقوں کی خود غرضی، دکھاوا، خود پسندی اور عیاشی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دولت اور حکمرانی ان کے علم و ہنر سعی و کوشش اور دست و بازو سے حاصل ہوئی ہے۔

قارون کو جب زکوٰۃ و خیرات کا حکم ہوا تو اس نے جواب میں یہی کہا ”مجھ کو تو ایک ہنر سے جو میرے پاس ہے یہ سب ملا ہے۔“ بنیادی طور پر وسائل کی تقسیم میں نا انصافی یا وسائل کو چند طاقتوروں کی جانب سے اپنے مفاد کے لئے غصب کرنا دنیا کے تمام مسائل کی بنیاد ہے۔ انسانوں میں طبقاتی، معاشرتی و معاشی تفریق اپنی جگہ لیکن پھر بھی مل جل کر رہنے کی صلاحیت، بھلائی اور نیکی کے خمیر کی وجہ سے دنیا قائم ہے۔ نماز کے بعد اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکٰوۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور معاونت کا نام ہے۔

اسلامی شریعت میں زکوٰۃ کے علاوہ کسی ٹیکس کا جواز نہیں لیکن عدم مساوات اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشی حالات بہتر نہیں ہو رہے۔ فقہی اصطلاح میں ”زکٰوۃ“ صرف اس مالی امداد کو کہتے ہیں جو ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔ اسلام نے زکٰوۃ کی مدت سال بھر کے بعد مقرر کی اور ہر سال اس کا ادا کرنا ضروری قرار دیا۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز کا ذکر ہے اس کے متصل ہی ہمیشہ زکوٰۃ کا بھی بیان ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں بیس مقامات پر اقام الصلوٰۃ کے بعد ایتاء الزکوٰۃ آیا ہے۔ 9 ہجری میں جب آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذؓ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا تو اسلام کے مذہبی فرائض کی یہ ترتیب بتائی کہ پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا، جب وہ یہ جان لیں تو ان کو بتانا کہ دن میں پانچ وقت کی نماز ان پر فرض ہے جب وہ نماز پڑھ لیں تو انھیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔

دوسرے الفاظ میں زکوٰۃ کی صورت میں غریبوں کی چارہ گری، مسکینوں کی دستگیری، مسافروں کی امداد، یتیموں کی خبر گیری، بیواؤں کی نصرت، قیدیوں اور مریضوں کی مدد جیسا سماجی کام نماز کے بعد اسلام کی عبادت کا دوسرا رکن ہے۔ لیکن شریعت محمدی نے ان کو جو سرمایہ نہیں رکھتے اس سے بالکل مستثنیٰ کر دیا۔ نیز دولت کی کم مقدار رکھنے والوں پر بھی ان کی اپنی حسب خواہش اخلاقی خیرات کے علاوہ کوئی باقاعدہ زکوٰۃ عائد نہیں کی۔

شریعت نے مصارف زکوٰۃ کا تعین اس لیے بھی کیا ہے تاکہ ہر شخص کو مانگنے کی ہمت نہ ہو۔ زکوٰۃ کا اصلی اور مرکزی مقصد وہی ہے جو خود لفظ ”زکوٰۃ“ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاکی اور صفائی کے ہیں یعنی گناہ اور دوسری روحانی قلبی اور اخلاقی برائیوں سے پاک و صاف ہونا۔ انسانوں کی روحانی و نفسانی بیماریوں کے بڑے حصہ کا سبب تو خدا سے خوف اور تعلق و محبت کا نہ ہونا ہے اور اس کی اصلاح نماز سے ہوتی ہے۔ لیکن دوسرا بڑا سبب غیر اللہ کی محبت اور مال و دولت اور دیگر اسباب دنیا سے تعلق کا ہے۔

زکوٰۃ اسی دوسری بیماری کا علاج ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات کے مصارف کا بڑا حصہ غریبوں اور حاجت مندوں کی امداد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طبقہ کے ساتھ اپنی عملی ہمدردی کا ثبوت دیا اور اس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کے لئے عملی تدابیر کیں۔ خود اپنی زندگی غریبوں اور مسکینوں کی صورت سے بسر کی اور دعا فرمائی کہ خداوند! مجھے مسکین زندہ رکھ، مسکین اٹھا اور مسکینوں ہی کے زمرہ میں میرا حشر فرما۔ آپ کے گھر کا چبوترہ (صفہ) غریبوں اور مسکینوں کی پناہ کا سایہ تھا۔

آپ کی نظر میں کسی انسان کی غربت اور تنگدستی اس کی ذلت اور رسوائی کے ہم معنیٰ نہ تھی۔ حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا کہ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہت انہیں کی ہے۔ آنحضرتﷺ نے اس سے زیادہ اختصار و ایجاز کے ساتھ اس مطلب کو ادا فرمایا: ”جو دولت مند ہیں وہی غریب ہیں۔“ پھر انھیں خوشخبری دی کہ غریب دولت والوں سے 40 سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ اسلام نے ان روحانی تسلیوں اور بشارتوں کے ساتھ جو مزید کام کیا وہ ان کی دنیاوی تکلیفوں اور مصیبتوں کو کم کرنے کی عملی تدبیریں ہیں جن کا نام صدقہ اور زکوٰۃ ہے۔

اور اس کے لئے دو تدبیریں اختیار کیں۔ ایک یہ کہ ہر مسلمان کو نصیحت کی کہ جس سے جتنا ہو اپنی دولت سے ان کی مدد کرے۔ یہ اخلاقی خیرات ہے جس کا نام قرآن کی اصطلاح میں انفاق ہے لیکن چونکہ یہ اخلاقی خیرات ہر شخص کو اس ضروری نیکی پر مجبور نہیں کرتی اس لیے ایک مقدار معین کے مالک پر ایک ایسا قانونی محصول عائد کیا جس کا سالانہ ادا کرنا اس کا مذہبی فرض ہے اور اس مجموعی رقم کا بڑا حصہ غریبوں اور محتاجوں کی امداد کے لئے مخصوص کیا۔

صحابہ ؓ نے آپ کی ہدایت کے بموجب ان دونوں قسموں کی خیراتوں پر اس شدت سے عمل کیا کہ جو استطاعت نہ بھی رکھتے تھے وہ بازار جا کر مزدوری کرتے تھے تاکہ جو رقم ہاتھ آئے وہ غریب و معذور بھائیوں کی اخلاقی اعانت میں خرچ کریں اور اس معاملہ میں خود آپ نے یہاں تک اس طبقہ کی دلجوئی کی اور فرمایا ”اگر کسی کے پاس کچھ اور نہ ہو تو لطف و مہربانی سے بات کرنا ہی اس کا صدقہ ہے۔“ رمضان کے مقدس مہینہ میں مسلمان بڑھ چڑھ کر صدقات، عطیات اور زکوٰۃ دیتے ہیں جن سے غریب افراد اور فلاحی ادارے مستفید ہوتے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔

اندرون اور بیرون ملک بہت سے مخیر حضرات اس سلسلے میں فلاحی اداروں کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں اپنے عطیات جمع کرا کر انھیں ذہنی آسودگی حاصل ہو کہ حق، حق دار تک پہنچ گیا۔ میں ایسے لوگوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے عطیات، صدقات اور زکوٰۃ میں پاکستان بیت المال کو بھی یاد رکھیں جہاں میڈیکل، تعلیمی وظائف، بیواؤں اور یتیم بچوں کی دیکھ بھال، چائلڈ لیبر کی بحالی اور خواتین کو ہنر مند بنانے سمیت سماجی تبدیلی کے دیگر بہت سے پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔

ہر سال ہزاروں لوگ مستفید ہوتے ہیں اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے ہزاروں درخواستیں التوا کا شکار بھی رہتی ہیں۔ یوں بھی عوام سرکاری فلاحی اداروں سے توقع سب سے زیادہ رکھتے ہیں اور تنقید بھی زیادہ کرتے ہیں لیکن صدقات و عطیات اور مالی طور پر ایسے اداروں کی مدد کے لئے کوئی آواز بلند نہیں کرتے۔ پاکستان دنیا میں خیرات و عطیات دینے والا ایک بڑا ملک ہے لیکن غربت پھر بھی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، وجہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور انھیں ہنر مند بنانے کی بجائے انھیں پیراسائٹ (طفیلیے) بنانے پر خرچ کرتے ہیں۔

ہمارے صاب ثروت طبقات تعلیم، ہنر اور صحت پر خرچ کرنے کی بجائے لایعنی اور فضول کاموں میں صدقات و عطیات ضائع کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تمام صدقات و عطیات حکومت کی طرف سے ریگولیٹ ہونے چاہئیں اور اس حوالے سے غربت کے خاتمے کی ایک جامع پالیسی کی تشکیل کے بعد صرف گورنمنٹ کے پاس ان صدقات و عطیات کو نجی اداروں اور این جی اوز کو دینے کا اختیار ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS