ہرے بھرے تصور کی موت


جب سے نت نئے گیجٹس گھر گھر پہنچنے لگے ہیں ؛ ہر کوئی انہیں ہاتھوں میں تھامے یا منہ کے آگے دھرے ان کے ڈسپلے پر نظریں ٹکائے ملتا ہے۔ اس کا اچھا برا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ انٹرنیٹ پر تحریریں پڑھی جانے لگی ہیں۔ اخبارات اور جرائد کی اشاعتیں سکڑ گئی ہیں۔ آن لائن بکس پلیٹ فارمز کھل گئے۔ ریختہ جیسی ویب سائٹس پر ہزاروں کتابیں چڑھا لی گئی ہیں اور کتابوں سے بھری لائبریریوں میں دھول اڑنے لگی ہے۔ جب ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، سیل فون یا کنڈل پر کتاب میسر ہے تو کوئی لائبریری میں کیوں جائے؟ یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ لو جی کتاب تو گئی۔ وہ کتاب جسے ہم چھو سکتے ہیں اسے گود میں رکھ کر یا چھاتی پر ٹکا کر پڑھ سکتے ہیں۔ جسے پڑھتے پڑھتے ہم اپنے تخیل کو ایڑھ لگا سکتے ہیں ؛ کہا گیا وہ نہیں رہے گی۔ اب ہم اسکرین پر پڑھیں گے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب کاغذ پر لکھنے کا رواج ختم ہو جائے گا۔

ابھی میں بینک سے ریٹائر نہیں ہوا تھا بلکہ اس سے بھی پانچ سات برس پہلے دفتر میں ’پیپر لیس فائلنگ/ای فائلنگ‘ کے چرچے ہونے لگے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بات کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، کریڈٹ کارڈ اور اس سے بھی آگے ’ای ٹرانزیکشنز‘ تک جا پہنچی۔ ایسے میں کتاب کیسے پیچھے رہ سکتی تھی سو یہ بھی اب اس ٹیکنالوجی کی بدولت ’ای بک‘ ہو گئی۔ ای کتاب کے کئی فارمیٹس ہیں ؛ پی ڈی ایف، الیکٹرانک پبلی کیشن، کنڈل بکس وغیرہ وغیرہ۔

پی ڈی ایف یعنی پورٹ ایبل ڈاکومنٹ فارمنٹ سے ہم روزمرہ کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کرتے رہتے ہیں اور پوری کی پوری کتابیں، اسکین کر کے، یا مسودے کی سافٹ کاپی کو کنورٹ کر کے بالکل اس فارمیٹ میں لے آتے ہیں کہ وہ اسی کتاب جیسی لگتی ہے جس کے ہم عادی ہوتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ ڈیزائن کے مطابق کتاب بنانا اور اسے خوب صورت (چاہیں تو رنگین تصاویر، نقشہ جات وغیرہ کے ساتھ) شائع کرنے کی سہولت ایسی ہے کہ اس کتاب سے دلچسپی رکھنے والے جہاں بھی ہوں فوراً کتاب حاصل کر کے اپنے ہاں محفوظ کر سکتے ہیں۔

ای پبلی کیشن میں انہیں اس مقصد کے لیے بنائی گئی مختلف ڈیوائسز جیسے سونی ریڈرز، نوک، آئی فون، آئی پیڈ، اینڈرائڈ فون وغیرہ پر بہ سہولت پڑھا جاسکتا ہے جبکہ کنڈل والوں نے اپنی ڈیوائس کے لیے الگ فارمیٹ بنایا ہوا ہے، اس میں مطالعے پر آپ بک مارک رکھ سکتے ہیں، لغت کا استعمال کر سکتے ہیں، اور اس طرح کی دوسری سہولیات سے اپنے مطالعے کو اور زیادہ بامعنی بنا سکتے ہیں۔ اچھا، یہ جو بستر پر لیٹ کر چھاتی پر رکھ کر کتاب کے صفحے الٹنے کا لطف ہے، وہ بھی ان ڈیوائسز میں کسی حد تک فراہم کر دیا گیا ہے۔ وہ کتابیں جو نیٹ پر یونی کوڈ میں فراہم کی گئی ہیں، سہولت سے تلاش کی جا سکتی ہیں، نہ صرف کتابیں تلاش ہو سکتی ہیں مواد بھی چھانٹا جا سکتا ہے۔ یہ سب سہولیات محدود چھپنے والی کاغذی کتاب میں نہیں ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ صاحب:

1۔ ای بک زیادہ سہولت سے میسر آ سکتی ہے۔
2۔ اس کو کئی گنا زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
3۔ کتاب کی ترسیل میں وقت اور سرمائے کی بچت ہوتی ہے۔
4۔ کتاب کو ہارڈ ڈسک میں ڈال کر یا انٹرنیٹ کے ذریعے لمبے عرصے کے لیے محفوظ بنا یا جا سکتا ہے۔
5۔ ای بک کہیں بھی زیادہ سہولت سے پڑھی جا سکتی ہے۔
6۔ اس کے ذریعے پرانی کتابوں کے پیلے پڑ جانے والے کاغذ کی ناگوار بو اور اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔

7۔ سرچ ایبل ہونے کی وجہ سے حوالہ جات فوری طور پر تلاش کیے جا سکتے ہیں اور زیادہ تیزی سے مواد سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

اس سب کے باوجود مجھے لگتا ہے کہ ابھی تک سب سے موثر ذریعہ یہی روایتی کتاب ہے جو ہم سب کا جی لبھاتی رہی ہے۔ جی یہ میں اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ چند سالوں میں بہت زیادہ ای بکس پڑھی ہیں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ پیپر بک کے مطالعے کے دوران میں متن پر زیادہ توجہ مرکوز کر پاتا ہوں۔ اچھا ہو سکتا ہے ایسا اس لیے ہو کہ ہمارے مطالعے کی تربیت میں روایتی کتاب دخیل رہی ہے اور جب نئی نسل جس کا کلی انحصار ای کتاب پر ہو گا، وہ اس مشکل کو محسوس نہ کرے۔

خیر، اس باب میں ایک ریسرچ پیپر کی طرف دھیان جاتا ہے، کچھ برس پہلے نیٹ پر یہ ریسرچ پیپر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق ناروے کی استاوانگر یونیورسٹی کی این مانگان نے کنڈل پر ای کتاب کو کاغذ پر طبع روایتی کتاب پر ایک جیسا مواد پچاس قارئین کو مہیا کیا تھا۔ اس نے اٹلی میں ایک کانفرنس میں اپنی ریسرچ کے نتائج پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جو مواد پڑھنے والوں کو دیا گیا وہ الزبتھ جارج کا لکھا ہوا 28 صفحات پر مشتمل ایک افسانہ تھا۔

آدھے قارئین کو کاغذ پر مطبوعہ افسانہ پڑھنا تھا اور باقی نصف کو کنڈل پر ای کتاب میں۔ این مانگان (جو اپنے کام کی وجہ سے ریسرچ کے شعبے میں وہاں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ) نے مطالعے کی اس نئی سہولت کا بہت گہرائی میں مطالعہ کیا اور بعد ازاں دونوں طرح کے قارئین کو ایک امتحان سے گزارا گیا۔ ایسا کرتے ہوئے نوٹ کیا گیا تھا کہ وہ قارئین جنہوں نے کاغذ پر مطبوعہ افسانہ پڑھا تھا یا وہ جنہوں نے کنڈل پر پڑھا ان کی کہانی پر بظاہر گرفت ایک سی تھی مگر جب 14 واقعات کی درست درست ترتیب بیان کرنے کی باری آئی تو کنڈل پر پڑھنے والے ایسا کرنے سے قاصر تھے جبکہ کاغذ پر مطبوعہ افسانہ پڑھنے والے اسے بہتر طور پر اور مقابلتا درست ترتیب میں بیان کر سکتے تھے۔ مطبوعہ کتاب سے پڑھا ہوا یادداشت میں لگ بھگ ساری تفصیلات اور اجزا کے ساتھ جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔

اب اگر میں یہ کہوں تو نادرست نہ ہو گا کہ اسکرین کا پڑھنا بھی کیا پڑھنا ہوا؛ کر سر اوپر نیچے کرتے ہوئے کچھ اچٹتی نگاہ ڈالی لی ؛کچھ لفظ لپکتی نظر نے پکڑ لیے، باقی پر سے پھسلتی گزر گئی یوں جیسے ہم بچپن میں ایک ٹھیکری کسی پوکھر یا تالاب کے کنارے کھڑے ہو کر کچھ یوں ہاتھ گھما کر پھینکتے تھے کہ اس کی چپٹی سطح پانی پر پڑتی تھی اور وہ پانی کے اوپر تیرتی پھسلتی پار نکل جاتی تھی، ۔ اچھا، بات یہاں رکی نہیں کہ اب لکھنا جان کا روگ ہو گا نہ پڑھنا۔ آپ موضوع مشین کے حوالے کریں گے ؛ یہ اپنے ذخیرے میں ڈبکی لگائے گی، مواد مرتب کرے گی اور ٹھیک ٹھاک مضمون مرتب کردے گی۔ پڑھنے کو تکلف بھی نہ کرنا پڑے گا کہ اسے ہر زبان آتی ہے، ترجمہ کرنا اور پڑھنا بھی؛ بس آپ ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے بیٹھ جائیں اور اس کے کرشمے دیکھتے جائیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم سوچنے اور اپنے تخیل کو ایڑ لگانے سے بھی گئے۔ کیا ہم اپنی اس ذہنی استعداد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے؟ مجھے یاد ہے 1993 ء تک ہم کسی ویب براؤزر کی بابت نہیں جانتے تھے مگر دو سال بعد ہمارے پاس ایمزون تھا، 1998 ء میں گوگل آیا اور 2001 ء میں وکی پیڈیا نے دھوم مچا دی تھی۔ انٹرنیٹ نے جس سرعت سے ترقی کی اس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ، انسٹا گرام، یو ٹیوب اور نہ جانے کیا کچھ۔

تعجب خیز بات یہ ہے کہ میرے پاس کتابوں کی آمد کا سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ میری دلچسپی کا علاقہ ادب و شاعری ہے لہٰذا میرے پاس آنے والی یا وہ کتب جو میں خرید کر لاتا ہوں ؛ شاعری، فکشن، اور تنقید یا دوسری ادبی اصناف ہی سے متعلق ہوتی ہیں۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابوں کو پڑھتے ہوئے مجھے شدت سے احساس ہونے لگتا ہے جیسے لکھنے والوں کے ہاں تخیل کی موت واقع ہو چکی ہے ؛ جی ہرے بھرے تخیل کی موت۔ وہ تخیل جو تخلیقیت کو جگاتا ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی کی یہ چکا چوند اور دوسری طرف تخلیقیت کو جگانے والی متخلیہ سے محرومی کا احساس۔ خمار بارہ بنکوی نے کیا خوب کہا تھا:

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے
کیا تصور بھی لٹنے والا ہے

تخیل اور تصور متبادل حقیقتوں کو ترتیب دینے کی صلاحیت کے نام ہیں۔ جس طرح کوئی مغنی گاتے ہوئے تان، پلٹا، مرکی اور زمزمہ سے کام لیتا ہے ہماری یادداشت بھی ایک ایسے پلٹے کا اہتمام کرتی رہتی ہے کہ امکانی مستقبل کی تصویر بنتی چلی جائے۔ یادداشت ہو یا تخیل دونوں فیکلٹیز دماغی علاقے ہی کی مقیم ہیں۔ دماغ میں ایک خاص علاقے کی مقیم ؛ سائنس والے اسے ’ہپپوکیمپس‘ کا نام دیتے ہیں۔ یادداشت کا انجن ہر دم چلتا رہتا ہے۔

عین اس لمحے، جب آپ یہ حروف پڑھ رہے ہیں، توبھی یہ انجن چل رہا ہے۔ ہم جو کچھ پڑھتے ہیں، جو کچھ سنتے ہیں، ہمارے مشاہدات، تجربات، سنی سنائی باتیں، جذبوں کی اتھل پتھل، خواہشیں، تمنائیں، آرزوئیں، نفرتیں، محبتیں، منہ میں پانی آنا یا ابکائیاں ؛ سب کچھ یادداشت کے اس انجن کے لیے توانائی کا ساماں ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تخیل کا زیادہ تر انحصار یادداشت پر ہوتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے یہ دونوں جڑواں بہنیں ہیں۔

دیکھیے نا! جب تخیل کی بات ہوتو یادداشت بھی حاضر و موجود ملتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ماضی کے بغیر کسی چیز کی بابت نیا تصور قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔ تخیل ہو یا یادداشت، دونوں انسانی جذبات کے ساتھ نتھی ہیں۔ ہمارے باطن میں ہر یاد مختلف ٹکڑوں کی صورت میں موجود ہے۔ یاد کے ٹکڑے ایک خاص ترکیب میں تہ بہ تہ پڑے ہوتے ہیں۔ تخیل میں یوں ہوتا ہے کہ یاد داشت میں پڑے یہ ٹکڑے ٹوٹ بکھر کر اور پھر سے انسانی حسیات کے پانیوں میں آٹے کی طرح گندھ کر ایک نئی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔

کہہ لیجیے یہ ارتقائی عمل ہے ؛جو ہو چکا اس سے آگے کا اور معلوم کے تختے سے نامعلوم کی وسعتوں میں جست لگانے کا ۔ تازہ خیالات، تصویروں اور صورتوں کی تشکیل کا عمل۔ کیا نئے زمانے میں بڑھتی ہوئی مشینی ذہانت کی مداخلت سے دماغ کی یہ فیکلٹی بند ہو جائے گی اور تخلیقیت کا دھارا سوکھ جائے گا؟ یہ وسوسہ ایک سوال کی صورت بار بار سامنے آتا ہے۔ اسے سوال کہیں یا محض ایک خیال۔ خدا کرے کہ یہ محض خیال کی حد تک رہے اور ہمیں مصنوعی ذہانت کے منہ زور گھوڑے کی لگامیں تھامنے اور اسے انسانی تخلیقی ذہانت کے آہنگ میں لانے کا حوصلہ اور قرینہ آ جائے۔

تبدیلی اور وقت کے پہیے کو جس نے بھی روکنے کی کوشش کی وہ اس کے نیچے کچلا گیا تاہم بے ہنگم تبدیلی بھی اس وہیکل کی طرح ہے جس کی بریکیں فیل ہو چکی ہوں۔ تبدیلی کی رفتار متعین کرنا اور اسے ایک سمت عطا کرنا کبھی انسانی اختیار سے باہر نہیں رہا۔ یہ کیسے ممکن ہو پائے گا؟ ہمارا تخیل ہی اس باب میں ہماری مدد کو آ سکتا ہے۔ جی، تخیل کی ایسی جہت جو ہمارے حسی ادراک سے جڑی ہوئی ہے۔

کتاب کے ساتھ، پڑھنے اور لکھنے سے ساتھ، سوچنے اور توجہ کے ارتکاز کے ساتھ اپنے تعلق کو بڑھانا ہو گا کہ اسی طرح اپنے تخیل کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ زندہ تخیل والوں کے لیے نئی سہولتیں مددگار ہو کر اس آہنگ کی ذیل میں آ جائیں گی جو کسی جینؤئن فن کار کا تخلیقی آہنگ ہوتا ہے۔ ’تخلیقی آدمی کا تخیل علم سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ ‘ یہ آئن سٹائن نے کہا تھا اور اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’علم محدود ہے جب کہ تخیل دنیا کو گھیرے ہوئے ہے۔‘

 اور ہاں ایک جانور مناظر کی مدد سے حرکت کی ضرورت محسوس کرتا ہو گا مگر انسان کو متخیلہ کی عطا ہوئی ہے۔ آدمی اپنی متخلیہ کا حاکم نہ سہی مگر یہ اس کی سچی رفیق ہے۔ اس رفاقت کی بھی کچھ شرائط اور اپنے تقاضے ہیں۔ یہ اتھلے مزاج والوں، پڑھنے پڑھانے سے دور رہنے والوں، معاملات اور مسائل پر اوپر اوپر سے تیر کر گزر جانے والوں، کسی کے دکھ سکھ میں شریک نہ ہونے والوں اور زندگی کی جستجو کرنے کی بجائے سہولتوں کے اسیر ہو جانے والوں کی رفیق نہیں ہوتی۔ یہ زندہ انسانوں کی رفیق ہوتی ہے، زندگی کی تگ و دو میں شریک انسانوں اور اپنی حسیات کو بیدار رکھنے والے انسانوں کی رفیق۔

مجھے یوں لگتا ہے جیسے سارے علوم رفتہ رفتہ تصویری ثقافت کا پاورقی حاشیہ ہو رہے ہیں۔ ہمارا تصور، ہماری نفسیات اور ہمارے تخیل کی دنیا بھی تصویری صنعت کی نوآبادی بنتی جا رہی ہے۔ کتاب کی ثقافت کے کامل طور پر تصویر کی ثقافت میں ڈھلنے سے ہمارے تصور اور تخیل کی فیکلٹی کا دائرہ عمل سکڑ بھی سکتا ہے۔ ہمارے پڑھنے سوچنے سمجھنے کو کسی اسکرین کی مدد سے پڑھنے یا کسی آلے کی مدد سے سننے میں بدل کر اسے اس عمل کے التباس کی صورت تو دی جا سکتی ہے، کامل فیض نہیں اٹھایا جاسکتا۔ یہ التباس کی وہی دنیا ہے جس میں تخلیقی آدمی محض صارف ہو کر رہ جاتا ہے اور فنون بھی تخلیقی سطح سے اتر کر اوسط درجے کی مقبول عام ہو جانے والی پراڈکٹس بن جاتی ہیں۔ اپنے آپ کو محض صارف ہونے اور اپنی تحریروں کو تخلیقات کی بجائے منڈی میں پھینکی جانے والی ’شے‘ ہو جانے سے بچانا ہو گا۔

۔

Facebook Comments HS