جوابی اعتراف
بستر مرگ پر زندگی کی آخری سانسیں لیتے ہوئے جناب نیک محمد نے اپنی چہیتی بیوی کو اپنے پہلو میں بٹھا کر کہا: ”میری جان سے عزیز زوجہ عالیہ! میں دنیا سے جاتے ہوئے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں تاکہ میرے دل پر گناہوں کا جو بوجھ ہے، کچھ ہلکا ہو جائے۔“ ۔ یہ کہتے ہوئے اس پر کھانسی کا ایک طویل دورہ پڑا۔ اس وقفے کے دوران اس کی چہیتی بیوی گٹکا کھانے میں مصروف رہی۔ کھانسی کا دورہ ختم ہوتے ہی راہی عدم ہونے والے شوہر نے اپنا بیان دوبارہ شروع کرتے ہوئے کہا: ”اے سرور جان و دل!
آج میں آپ کو اس نقب زنی کی واردات کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو پچھلے سال ہمارے گھر پر ہوئی تھی جس میں آپ کا دس تولہ سونا چوری ہوا تھا۔ دراصل نقب زنی کا ڈرامہ کر کے سونا آپ کے سر کے تاج یعنی میں نے چرائے تھے“ ۔ اس اعترافی بیان کے بعد شوہر تاج دار، جناب نیک محمد نے اپنی چہیتی بیوی کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کو جاننے کے لیے ایک وقفہ کیا مگر وہاں تو بلا کا اطمینان تھا، چہرے پر جیسے نور برس رہا ہو۔
عالم نزاع کی تکالیف سے دوچار شوہر نے اپنے جرم کی صفائی دیتے ہوئے مزید فرمایا: ”دراصل نقب زنی کی واردات سے ایک دن قبل میں جوئے میں ایک بڑی رقم ہار گیا تھا اور اڈے کے مالک نے دھمکی دی تھی کہ اگر پیسے ادا نہ کیے تو نہ صرف وہ مجھ سے شراب اور چرس پینے کی سہولت واپس لے گا بلکہ اپنے کارندوں کے ذریعے میری دھنائی بھی کروائے گا لہذا“ مرتا کیا نہ کرتا ”کے مصداق مجھے اپنے ہی گھر میں چوری کرنی پڑی“ ۔
دنیا سے جلد ہی منہ موڑنے والے شوہر کا اعترافی بیان سن کر اس کی چہیتی بیوی نے نہایت سکون اور اطمینان سے اپنے مرحوم ہونے والے شوہر سے کہا: ”اے دلدار من! اب جب کہ آپ نے خود حقیقت سے پردا اٹھا دیا ہے تو مجھ پر بھی لازم ہے کہ ایک جوابی اعتراف اپنے گناہوں کا میں بھی کروں تاکہ دنیا سے جاتے ہوئے آپ کے دل میں کوئی خلش باقی نہ رہے۔“ شوہر کے دیدہ نمناک میں سوال زیست کو دیکھ کر بیوی نے اپنا جوابی اعتراف کچھ اس طرح بیان کیا:
”مجھے گھر میں ہونے والی نقب زنی کے پس پردہ تمام حقائق کا پہلے ہی سے علم تھا لیکن میں اس لیے خاموش تھی کہ جو سونا ہاتھ سے گیا وہ آپ کی جیب سے چرائے ہوئے پیسوں ہی سے بنا تھا۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ایک افسر ہونے کی وجہ سے آپ کی اوپر کی آمدنی اتنی تھی کہ خود آپ کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ آپ جب بھی گھر آتے تو آپ کے قمیض اور پتلون کے پانچوں جیب رشوت کے نوٹوں سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے تھے جب کہ آپ نشے میں دھت ہوتے لہذا رقم کو گنے بغیر ہی سو جاتے۔ میں ان جیبوں سے کافی رقم چرا کر اپنی الماری میں چھپا لیتی اور آپ کو پتا بھی نہ چلتا“ ۔
بیوی کی باتیں سن کر شوہر مہجور پر ایک بار پھر کھانسی کا دورہ پڑا جس کے دوران بیوی تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی۔ جیسے ہی کھانسی کا طوفان تھم گیا تو بیوی دوبارہ گویا ہوئی: ”مجھے دنیا میں دوسروں کے حوالے کر کے جانے والے میرے مسافر! رشوت سے کمائے ہوئے ان پیسوں کو چرا کر میں نے نہ صرف اپنے لیے زیورات بنائے بلکہ اماں اور ابا کو حج بھی کروایا، بہنوں کی شادیاں کیں اور بھائیوں کو کاروبار کے لیے دکانیں کھلوا کر دیں۔ مزید برآں، محلے کی مسجد میں باقاعدگی کے ساتھ جمعہ کے جمعہ چندہ بھی دیتی رہی تاک جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوں تو آپ کو جہنم میں کم سے کم عذاب ملے (اب رشوت کے پیسوں سے جنت تو نہیں مل سکتی تھی) ۔“
چہیتی بیوی کے اعترافی بیان سے عالم نزاع کی تکالیف میں مبتلا شوہر کے چہرے پر اچانک غم و غصے کے تاثرات ابھرنے لگے اور کھانسی کا ایک شدید دورہ پڑا، جسے نظرانداز کرتے ہوئے بیوی نے اپنے اعترافی بیان کا آخری حصہ بھی انھیں سنا ڈالا جو کچھ یوں تھا:
”اے دنیا کی رنگینیوں سے منہ موڑنے والے میرے (برائے نام) نیک شوہر! یہ جو آج آپ بستر مرگ پر نزاع کی کیفیت سے دوچار ہیں اس کا سبب وہ سریع الاثر زہر ہے جو میں نے اپنے آشنا سے منگوا کر رات کو آپ کے کھانے میں ملا دیا تھا۔ اب آپ سے چھٹکارا پاتے ہی ہم یہ مکان فروخت کر کے کسی اور شہر جاکر شادی رچا لیں گے، جس کے لیے میں آپ سے پیشگی معافی چاہتی ہوں“ ۔
بیوی کے اعترافی بیان کا آخری حصہ سن کر نیک محمد پر ایک اور دورہ پڑا لیکن یہ دورہ کھانسی کا نہیں بلکہ دل کا تھا جس کی وجہ سے اس کی روح کا رابطہ جسم سے منقطع ہو گیا۔



Wah mama