سائنس اور خدا کا تصور


ہماری سوسائٹی کے ایک بڑے حصے میں یہ تصور عام ہے کہ
سائنس مذہب کی شدید مخالف ہے، اور سائنسی سوچ الحاد کی طرف لے جاتی ہے۔
اس سوچ نے ایک سائنس مخالف رویے کو جنم دیا ہے۔
سائنس اور مذہب کے تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک تاریخی پس منظر کی ضرورت ہے۔

پچھلے مضمون میں میں نے سائنس اور سائنسی سوچ کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اس مضمون میں، میں پہلے اس سوال پر توجہ مرکوز کرتا ہوں : خدا کیا ہے اور وہ ہماری زندگیوں میں کب اور کیسے آیا؟ یہ ایک لمبی کہانی ہے، مگر میں انتہائی اختصار سے بیان کرتا ہوں۔

زمین پر زندگی کا آغاز تقریباً چار ارب سال پہلے ان حالات میں ہوا جن کے بارے میں ہم فی الحال کچھ نہیں جانتے۔ ابتدائی طور پر ، زندگی اپنی سب سے قدیم شکل میں ایک خلیے پر مشتمل تھی۔ زندگی اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی موجودہ انسانی شکل میں تقریباً بیس لاکھ سال قبل افریقہ میں نمودار ہوئی۔ جلد ہی انسان افریقہ سے نکل کر یورپ اور ایشیا میں پھیل گئے۔

تقریباً ڈھائی لاکھ سال پہلے انسانوں نے آگ پیدا کرنے اور اسے کھانا پکانے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ سیکھا۔ یہ ایک مہذب طرز عمل کی طرف پہلا قدم تھا جس نے انہیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کیا۔

انسانی تاریخ کا سب سے نمایاں واقعہ دس ہزار سال قبل زراعت کا عروج تھا۔ حیرت انگیز طور پر زرعی انقلاب ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف حصوں میں رونما ہوا۔ ایسا کیوں ہوا اس کی کوئی اچھی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تاہم انسانی تہذیب کے لیے اس انقلاب کے نتائج بہت اہم تھے۔ ایک زرعی معاشرے کو زمین جوتنے، فصلوں کی کاشت کرنے اور پیداوار کو بانٹنے کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت تھی۔ اس کوشش کے نتیجے میں قدرتی طور پر ایک قبائلی ڈھانچے کی بنیاد پڑی جو بالآخر شہر اور ریاستی ڈھانچے کی شکل میں نمودار ہوئی۔

ایک زرعی معاشرہ قدرتی واقعات جیسے بارش اور دھوپ پر انحصار کرتا ہے، انسانی زندگی زیادہ تر سورج، چاند، آگ اور پانی جیسی چیزوں سے وابستہ ہے۔ ان اشیاء سے جڑے قدرتی مظاہر کے سامنے انسان نے خود کو بے بس پایا۔ بارش کی کمی یا اس کی بہت زیادہ مقدار یا سال کے مخصوص اوقات میں غیر معمولی طور پر گرم یا سرد موسم تمام کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس بے بسی نے انسان کو نامعلوم کے سامنے جھکا دیا۔ انسان نے اس نا معلوم کو خدا کا نام دیا۔ آخر کار انسانی سوچ نے خدا کے تصور کو جنم دیا۔

پہلی الہی عبادت تقریباً اسی وقت شروع ہوئی جب زرعی انقلاب آیا۔ اس طور خدا کا تصور انسانی زندگی میں داخل ہو گیا، ابتدائی طور پر یہ قدیم دیوتاؤں کی شکل میں تھا۔ خدا کا تصور اس سماجی اور سیاسی ڈھانچے کے ساتھ بھی مضبوطی سے جڑا ہوا تھا جو تشکیل پا رہے تھے۔ حکمران طبقات نے اپنے مراعات یافتہ مقام کا فطری جواز خدا سے براہ راست رابطہ قائم کر کے پایا۔ کانسی کا زمانہ جو تقریباً پانچ ہزار سال پہلے شروع ہوا اس میں دریاؤں جیسے دجلہ اور فرات، سندھ اور نیل کے آس پاس شہر آباد ہونا شروع ہوئے۔ اس دور میں قومیت کے تصور کے ساتھ خدا کا تصور بھی مضبوط ہوتا جا رہا تھا۔ مندر اور عبادت گاہیں کھلنے لگیں۔

اس دور کے دوران تقریباً تمام مذاہب جن کے بارے میں آج ہم جانتے ہیں، زرتشت، ہندو مت، بدھ مت اور یہودیت، اچھی طرح سے متعین نظریات کے ساتھ تیار ہوئے۔ یہ سلسلہ تقریباً اٹھ سو قبل مسیح سے دو سو قبل مسیح تک جاری رہا۔ ایسا کیوں ہوا کہ تقریباً ایک ہی وقت میں دنیا کے دور دراز مختلف علاقوں میں مذاہب کا ظہور ہوا، یہ ایک دلچسپ سوال ہے۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذاہب تہذیبوں کے مختلف پہلوؤں میں ترقی کا ایک فطری نتیجہ تھے۔ دو سب سے بڑے مذاہب، عیسائیت اور اسلام، نے جلد ہی ایک طاقتور خدا کے مضبوط نظریے کی بنیاد پر جنم لیا۔ ایک ایسا خدا جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور جو انسانوں کی زندگیوں میں روز بروز رونما ہونے والے واقعات کو کنٹرول کرتا ہے۔

خدا کی ہستی پر یقین رکھنے کی انسان کی اپنی جبلی وجوہات بھی تھیں۔

سب سے اہم وجہ جو ہمیں خدا کی تلاش میں سرگرداں رکھتی رہی ہے، یہ ہے کہ ہم اس کائنات میں اپنا مقام بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے لئے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم فطرت کے ارتقائی عمل کی پیداوار ہیں۔ اور اس وسیع و عریض کائنات میں ہمارا کوئی منفرد رتبہ نہیں ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اگر وہ منفرد مقام کا حامل نہ رہا تو اس کی زندگی شہد کی مکھی جیسی ہو جائے گی۔ بے کیف و بے سرور، پیدا ہوتے ہی اپنی بقا کی جنگ، رزق کی تلاش کی جد و جہد، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو فطرت کی حشر سامانیوں، موسم اور دیگر ضرر رساں اسباب سے حفاظت کا بندوبست اور پھر ایک دن موت۔

یا ایک پھول کی مانند، پہلے ایک کونپل پھر ایک جاذب نظر پھول اور آخر میں فنا۔ لہٰذا ہم بڑے شوق سے اس زعم میں مبتلا رہنا چاہتے ہیں کہ ہم اس کائنات کا مرکز ہیں اور اشرف المخلوقات ہونے کے ناتے ساری کائنات بالخصوص یہ زمین ہمارے کھلواڑ کے لئے بنائی گئی ہے۔ مگر دوسری مخلوقات کے مقابلے میں اتنا اعٰلی و ارفع مقام ہمیں کوئی عظیم ہستی ہی عطا کر سکتی تھی۔ ایسی عظیم ذات خدا کے علاوہ اور کیا ہو سکتی تھی۔ جس نے یہ جہاں اور ہر بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ہمیں کائنات میں بلند مقام پر فائز رکھنے کے لئے خدا کا موجود ہونا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور خواہش بھی انسان کے دل میں مچلتی رہی ہے اور وہ ہے زندگی کو کوئی مقصد دینے کی خواہش۔ کسی مقصد کے بغیر زندگی انسان کو بے معنی لگتی ہے۔ یہ بات ہمیشہ ہماری سمجھ سے بالا تر رہی ہے کہ کیا ہم کسی کائناتی حادثے کے نتیجے میں یہاں موجود ہیں، یا ہمارے اس دنیا میں موجود ہونے کے پیچھے کوئی الہیاتی منصوبہ بندی موجود ہے۔ ایک با مقصد زندگی ایک عظیم طاقت یعنی خدا کی دین ہونی چاہیے اور جس کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جانی چاہیے۔

لہٰذا ہماری زندگی کا مقصد یہ ٹھہرا کہ ایسا خدا جو ہر قسم کی زندگی کا خالق، ہر جگہ موجود اور قادر مطلق ہے، نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ دیگر مخلوق بالخصوص انسانوں کے ساتھ ہمارا رشتہ و پیوند طے کرتا ہے۔ ہماری زندگی کا مقصد خدا کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے۔ اس دنیا میں ایسی بامقصد زندگی گزارنے کا صلہ ہمیں آخرت کی زندگی میں جنت کی صورت میں ملے گا۔

انسانی تاریخ میں یہ بات بھی ملتی ہے کہ ذہین اور فطین لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہ بھی قیاس رکھتی آئی ہے کہ اس جہان میں راست باز زندگی گزارنے کے لئے خدا کا وجود ضروری ہے۔ اگرچہ ہمیں فطرت نے اچھائی اور برائی کی تمیز ودیعت کر رکھی ہے، ہم سب کو معلوم ہے کہ قتل کرنا، چوری کرنا اور جھوٹ بولنا برے کام ہیں، جبکہ سچ بولنا، خیرات کرنا اور ایماندارانہ زندگی گزارنا نیک کام ہیں، مگر اس کا تعین انسانوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اور اس پر عمل درآمد کروانے کے لئے خدا کی صورت میں ایک عظیم و کبیر ہستی کی ضرورت ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی میں قوانین کا نفاذ اسی طرح کرے جیسے ریاست، اپنے معاشرے میں عدل و توازن قائم رکھنے کے لئے کرتی ہے۔

زمانہ قدیم سے جدید دور تک، بادشاہوں اور حکمرانوں کو بھی، اپنا اقتدار طویل سے طویل تر کرنے کے لئے، ایک طاقتور ہستی کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے۔ حاکم وقت اپنے آپ کو الوہیاتی شخصیت گردانتے تھے تاکہ ان کے پاس عوام پر مسلط رہنے کا جواز قائم رہے۔ لہٰذا طاقت کے سیاسی اور مذہبی مراکز کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔ اس گٹھ جوڑ کی ایک مثال مصر کی قدیم تہذیب ہے۔ قرون وسطٰی میں اس کی مثال سلطنت روم ہے۔ جہاں پر پوپ، خدا کے نمائندے کے طور پر بادشاہ کو تخت نشین کرتا تھا۔ آج بھی انگلستان کا بادشاہ ”انگلیکن چرچ“ کا سربراہ بھی ہوتا ہے۔ اور برطانیہ کے حکمران خدا کو اپنی طاقت کا سرچشمہ اور حکمرانی کا جواز سمجھتے ہیں۔

خدا کے تصور کی ایک اور اہم وجہ موت کا خوف بھی ہے جو انسان کی سرشت میں ہے۔ اگر ’موت‘ کا مطلب ’خاتمہ‘ ہوا تو کیا ہو گا؟ یہ ایک بھیانک خیال ہے۔ انسان کی شدید تمنا ہے کہ زندگی کو موت کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔ مگر ایسا کیسے ممکن ہے؟ ظاہر ہے خدا کی موجودگی کے بغیر حیات بعد الموت پر یقین کون کرے گا؟ لہٰذا اپنی موجودہ زندگی کو جاوداں رکھنے کے لئے بھی انسان کو خدا کی ضرورت ہے۔

انسانی تہذیب سے وابستہ مختلف مذاہب نے اپنے اپنے طریقے سے ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ قریب قریب ہر مذہب میں خدا کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جو زندگی دیتا ہے، اخلاقیات سکھاتا ہے اور تقدیر کا مالک ہے۔

اس تفصیل سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ مذہب کی بنیاد انسانی ضروریات سے وابستہ ہے اور یہ کہ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی معاشرہ ایسا رہا ہو جس میں خدا اور مذہب کا تصور موجود نہ ہو۔ مذاہب انفرادی اور قومی، دونوں سطحوں پر طاقتور محرک قوتیں رہے ہیں۔ کوئی بھی اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا کہ کسی بھی معاشرے کی زیادہ تر ثقافتی اور سماجی اقدار مذاہب سے آتی ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مذاہب کی بنیادیں عقل کی بجائے روایات پر رکھی گئی ہیں۔

لیکن سولہویں صدی سے پہلے ایک اور اہم مسئلہ درپیش تھا، جس کا عام طور پر ذکر نہیں کیا جاتا۔

موجودہ دور کے تقریباً تمام مذاہب اس وقت تشکیل پذیر ہوئے جب سائنس اور سائنسی سوچ کی جدید شکل موجود نہیں تھی۔ مذہبی روایات اس دور سے وابستہ ہیں جب سائنس کا جدید دور، جس کی بنیادیں کوپرنیکس، گلیلیو، نیوٹن اور دوسرے سائنس دانوں نے رکھیں، شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ دہ دور تھا جب قدرت کے بہت سے مظاہر انسان کے لیے عجوبے سے کم نہیں تھے۔

ایک لمحے کے لیے رک کر ذرا غور کریں کہ سولہویں صدی سے پہلے کا انسان اس بات کی کیا توجیح دے سکتا تھا کہ

· بادلوں میں کڑک اور چمک کہاں سے آتی ہے؟
· جب ہم پتھر کو دھکا دیتے ہیں، تو وہ کیوں حرکت کرتا ہے؟
· جب ہوا چلتی ہے تو پھل درخت سے زمین پر کیوں گرتا ہے؟
· چاند زمین کے گرد گردش میں کیوں ہے؟
· جب بادل آتے ہیں تو بارش کیوں ہوتی ہے؟
·۔

اس وقت کوئی ایسا فکری فریم ورک نہیں تھا جس میں ان تمام مظاہر کو سمجھنا ممکن تھا اور جس پر تمام انسانوں کا اتفاق ممکن ہوتا۔ اس صورت حال میں یہ سمجھنا آسان ہے کہ مذاہب سے وابستہ خدا کا تصور کتنا مناسب رہا ہو گا۔ ان تمام واقعات کی توجیح علیحدہ علیحدہ طور پر ہی دی جا سکتی تھی۔ اس نے اس مذہبی سوچ کو فروغ دیا جس کے مطابق ہر واقع کے پیچھے خدا موجود ہے۔ یہ خدا ہی ہے جو ہر واقع کے رونما ہونے کا فیصلہ کرتا ہے اور ان واقعات کا ذمہ دار ہے۔ اس طور مذہبی سوچ نے ایک انتہائی گھمبیر مسئلے کو سادگی سے حل کر دیا۔

لیکن مذہب کائنات کے اسرار کو سمجھنے کا واحد ذریعہ نہیں تھا۔

دوسری طرف ایک فلسفیانہ سوچ پیدا ہوئی جس نے عقلیت اور منطق کی بنیاد پر کائنات کے مظاہر کو سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ، جیسا کہ میں نے اپنے مضامین کے پچھلے سلسلے میں بیان کیا، ان فلسفیوں کی سوچوں کا محور بھی اس خدا کی تلاش تھی جو اس کائنات کا سبب ہے۔ یہاں تک کہ افلاطون اور ارسطو نے، جنہیں عقلیت کا باپ سمجھا جاتا ہے، اپنے طور پر خدا کا تصور پیش کیا۔

اس طور یہ سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے، کہ سائنسی انقلاب سے قبل خدا اور اس سے وابستہ مذاہب ایک طرح سے وقت کی ضرورت تھے۔ خدا کے تصور کے بغیر بہت سے مسائل تشنہ رہتے۔

پھر، جیسا کہ پچھلے مضمون میں بیان کیا گیا، سولہویں صدی میں وقوع پذیر سائنسی انقلاب نے ثابت کیا کہ یہ سب اور ان جیسے دوسرے واقعات کی وضاحت تو چند سائنسی قوانین کے ذریعے ممکن ہے۔ اور اہم بات یہ کہ ہم پوری کائنات میں کوئی ایسی حرکت نہیں دیکھتے جو ان قوانین سے انحراف کرتی ہو۔ اس حقیقت کے ادراک نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو یک دم تبدیل کر دیا۔ اس سائنسی انقلاب کے نتیجے میں کائنات ایک مشین کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے، جس میں ہونے والا ہر واقعہ ایک دوسرے سے مربوط ہے۔

یہ انسانیت کی بدقسمتی ہے کہ مذہب کی بنیادیں ایسے وقت میں رکھی گئیں جب جدید سائنس موجود نہیں تھی۔ مختلف مذاہب کے رہنما سائنسی تعلیمات سے نابلد تھے۔ اس حقیقت نے مذہب میں توہمات کی بنیاد ڈالی اور مذہبی سوچ کو غیر سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔

ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچیں کہ اگر مذاہب کی بنیادیں ایسے وقت میں رکھی جا رہی ہوتیں جب سائنس اور سائنسی سوچ نمایاں ہوتی۔ ایسی صورت میں مذہب کی نوعیت کتنی مختلف ہوتی۔ ذرا تصور کریں کہ افلاطون اور ارسطو کی جگہ گلیلیو اور نیوٹن ہوتے۔ اس صورت میں پچھلے دو ہزار سال کی مذہبی تاریخ کتنی مختلف ہوتی۔ اس بات کا امکان ہے کہ شاید مذاہب کا وجود ہی نہ ہوتا۔

اس مضمون کے شروع میں اٹھائے گئے سوالات
کیا سائنس مذہب کی شدید مخالف ہے؟ اور
کیا سائنسی سوچ الحاد کی طرف لے جاتی ہے؟
کے جواب اگلے مضمون میں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy