سماجی اسلاموفوبیا اور پاکستانی عورت


”میں دیکھوں گا یہ اس رشتے پر کیسے نہیں مانے گی“
”ہم وراثت میں حق نہیں، جہیز دیتے ہیں“
”شوہر نے مارا ہی ہے، شکر کرو مار نہیں دیا“

ان جیسے ہزاروں اور ان سے تلخ جملے ہم روانہ سنتے ہیں۔ جو ہماری عورت کے رہن سہن کی تصویر کھینچ کر ہمارے منہ پر مارتے ہیں۔ عورت نے ساری عمر اپنے پر ہونے والے جسمانی، نفسیاتی اور معاشی تشدد کے حق میں بہت سے دلائل سنے ہیں۔ جن کی توجیہات عزت، آبرو، مذہب، معاشرے سے شروع ہو کر وہیں پر دم توڑ دیتی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں اسلاموفوبیا کا بہت چرچا ہے۔ لوگ بڑھ چڑھ کر اس اصطلاح کا تب استعمال کرتے ہیں جب مغرب میں مسلمانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے۔ اسلاموفوبیا اور مسلمان عورت کا بہت گہرا تعلق ہے۔ ایک مسلمان عورت اسلام کے تحت یا اسلام کے فراہم کردہ حقوق کے زیر سایہ اگر زندگی بسر کرنا چاہے تو اس میں کسی کو اخلاقی، سماجی، اور سیاسی طور پر اختلاف نہیں ہونا چاہیے بالخصوص اس اختلاف کا تشدد اور غیر انسانی رویوں میں تبدیل ہونا ایک نہایت گمبھیر عمل ہے۔ اسلامو فوبیا کی اصطلاح کو فقط چند سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شعوری اور علمی بددیانتی ظاہر کرتا ہے جبکہ اس کا اطلاق زندگی کے ہر پہلو پر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صرف مغرب کی مسلمان عورت ہی اسلاموفوبیا کا شکار نہیں ہوتی، مشرقی مسلمان عورت بھی برابر میں متاثرین کی فہرست میں شامل ہے۔

ہم یہ طے کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا یا اسلام دشمنی سے مراد ہے کہ سامنے والے کے دل و دماغ میں اسلام کو لے کر خاص امتیاز کا پایا جانا۔ امتیاز کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لاعلمی، غلط فہمی، یا صرف اپنے موجودہ خیالات و نظریات کو بالا تر سمجھنا وغیرہ۔ مثال کہ طور پر اسلام کے کچھ ایسے اصول جن سے سامنے والے کے نظریات یا طرز زندگی کو خطرہ لاحق ہو اور وہ اس کے تحت کوئی عملی قدم اٹھائے۔ اگر جوان اولاد اپنی مرضی سے کوئی قدم اٹھانا چاہے ان حدود کے تحت جو اسلام کی متعین کردہ ہیں مگر خاندان اولاد کو اس بنیاد پر رنج یا تکلیف دے تو کیا یہ اسلام کے خلاف نہیں ہے؟ ضروری نہیں کوئی آپ کو نماز کی ادائیگی سے روکے تو وہی امر اسلام کے خلاف ہو گا۔ اسلام کا تعلق فقط سیاسی نوعیت کے پہلوؤں سے نہیں ہے، اس میں زندگی سے منسلک ہر پہلو کار فرما ہے۔ اسلاموفوبیا سیاسی ہی نہیں سماجی بھی ہے۔

سنہ 1948 کی قانون ساز اسمبلی میں ایک خاص کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے کہ پاکستان میں مسلمان خواتین کے وراثت میں حق پر ایک بل پیش کیا جائے گا۔ مجلس شوریٰ کا اجلاس شروع ہوتا ہے اور مسلمان خواتین کے وراثت میں حق کے بل کو پیش ہی نہیں کیا جاتا۔ مجلس شوریٰ میں موجود دو خواتین بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم جہاں آراء شاہنواز ہیں جنہوں نے بہت محنت سے اس پر کام کیا تھا۔ بیگم جہاں آراء شاہنواز احتجاجاً مجلس شوریٰ سے نعرے بلند کرتی باہر نکل جاتی ہیں۔ پاکستان میں یہ اسلاموفوبیا کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ عورت کو جو حقوق قرآن اور اسلام دیتا ہے، ان حقوق سے انکھیں چرانا اور عورتوں کو ان سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محروم رکھنا اسلاموفوبیا کی بڑی نشانی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو حقوق اسلام نے خود مسلمان عورت کو دیے، ان حقوق کو سوچی سمجھی سازش کے تحت چھیننا اور مسلمان عورت کو وراثت سے محروم رکھنا اگر اسلام دشمنی نہیں ہے تو کیا ہے؟

کیا یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ وہ خاندان یا معاشرے اسلاموفوبیا کا شکار ہیں جو بیٹیوں کی ان کی خواہش اور رضامندی کے خلاف شادی کرتے ہیں جبکہ اسلام نے عورت کو شادی کے معاملے میں یہ حق دے رکھا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی پسند سے کرے یا کسی دوسرے کی پسند کو انکار کر دے۔ اس سے بڑی اسلامو فوبیا کی مثال اور کیا ہوگی کہ بیٹی نکاح سے مسلسل انکاری ہو اور والدین اس کو صرف اس لئے تشدد کا نشانہ بنائیں یا زک پہنچائیں کہ وہ اقرار نہیں کر رہی۔ کیا اسلام نے یہ توجیح پیش کی ہے کہ اگر بیٹی نکاح پر رضامند نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسے کوئی اور پسند ہے جس کی بنیاد پر اس کو تکلیف دی جائے؟

اسلاموفوبیا کی ایک روایت 9 فروری 1979 میں حدود آرڈیننس کے تحت آنے والے زنا آرڈیننس نے بھی خوب قائم کی۔ جس کے تحت متاثرہ عورت کو ہی چار گواہ پیش کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔ جب کہ قرآن میں اس مرد کو چار گواہ پیش کرنے کا حکم ہے جو کسی عورت پر بہتان لگائے۔ اس سے بھی زیادہ نمایاں اسلاموفوبیا کی مثال مل سکتی ہے؟

ایسی ہزاروں امثال اور نکات ہمیں بآسانی مل جائیں گے جس میں ہمارے خاندانوں اور معاشرے میں موجود لوگوں کے اندر اسلاموفوبیا کے تمام شواہد مل سکتے ہیں۔ ہمیں اسلاموفوبیا کے حوالے سے دن منانے کے لئے مغرب کے واقعات کی بجائے اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ لینا چاہیے جہاں ہر اس کام سے روکا جا رہا ہے یا انسانوں کو رنج دیا جا رہا ہے جس کی اجازت اسلام نے دے رکھی ہے۔ اسلاموفوبیا کو صرف ایک ہی نظر سے پرکھنا اخلاقی اور علمی بددیانتی ہے۔

لاکھوں مسلمان عورتیں اس لئے بین الانسلی تشدد اور امتیاز کا نشانہ بنائی جاتی ہیں کہ ان کو وہ حقوق بھی نہیں ملتے جو اسلام نے ان کو دے رکھے ہیں۔ وہ تمام جسمانی، نفسیاتی، معاشی اہلیت کے حقوق جو اسلام نے دیے، ان کو چھین کر اپنی انا کو کھلانا اگر دور حاضر کا مسلمان عورت کے خلاف اسلاموفوبیا نہیں تو اور کیا ہے؟

Facebook Comments HS