پنگوں کی کتھا : حاصل کرنا پاک فوج کیلئے، چال چلن کا تصدیق نامہ


دسمبر 87 یا جنوری 88 کی کوئی تاریخ تھی اور میں ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر کیپری سنیما کے پاس واقع آرمی سلیکشن سینٹر کے احاطے کے باہر کھڑا اپنی جان کو رو رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کدھر جاؤں۔ دائیں طرف جنگ کے دفتر یا بائیں طرف لیاقت نیشنل لائبریری یا کراچی ٹی وی کی طرف۔ وجہ یہ تھی کہ میں این ای ڈی سے انجینئرنگ لگ بھگ کرچکا تھا اور آرمی کی انجینئرنگ کور کو بطور کپتان شرف باریابی بخشنے کے لئے فارم جمع کرانے آیا تھا۔ ان دنوں سلیکشن سینٹر وہیں ہوتا تھا۔

بارہ بجے سے امتحانی ٹیسٹ شروع ہو جانے تھے۔ جس کی مجھے اب کوئی فکر نہیں تھی، کیونکہ گیارہ بج چکے تھے اور سینٹر میں موجود صوبیدار صاحب نے میرے ہاتھوں کے طوطے یہ کہ کر اڑا دیے تھے کہ آپ کے کاغذات نامکمل ہونے کی وجہ سے مسترد کیے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیا فائنل ائر کا رزلٹ چاہیے تو کہنے لگے نہیں۔ اس میں چال چلن کا تصدیق نامہ نہیں ہے۔ ساتھ بتانے لگے کہ وہ کیریکٹر سرٹیفیکیٹ بھی آخری تعلیمی ادارے کے سربراہ کی طرف سے چاہیے یعنی وائس چانسلر یا رجسٹرار۔

میں نے کہا کہ صوبیدار صاحب فارم جاری کرتے وقت تو ایسے کسی سرٹیفیکیٹ کا نہیں بتایا گیا تھا۔ بہرحال میں کل لے آؤں گا ابھی ابتدائی امتحان میں تو بیٹھنے دو، فرمانے لگے نہیں۔

میں نے صوبیدار کو آرمی کے کئی صفحات پر مشتمل فارم کھول کر ایک جگہ دکھائی، جہاں این ای ڈی کے سربراہ نے دستخط کرتے تصدیق کی تھی کہ:۔

He is known to me for last five years, and it is certified that he bears good moral character.
یعنی میں طالب علم کو پانچ سال سے جانتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں کہ اس کا چال چلن اور اخلاق مثالی ہے۔

صوبیدار نے فارم پر ایک چھچھلتی نظر ڈال کر شان بے نیازی سے کہا کہ ٹھیک ہے، لیکن یہ فارم کی ضرورت ہے۔ علیحدہ کیریکٹر سرٹیفیکیٹ کی اپنی اہمیت ہے۔ آپ جائیں اور لے آئیں۔

میں نے پھر کہا کہ صاحب، یہاں سے این ای ڈی جانے میں گھنٹہ لگے گا۔ کسی کلرک سے سادے کاغذ پر سرٹیفیکیٹ ٹائپ کرواؤں گا اس کے بعد کئی گھنٹوں بعد رجسٹرار سے ملاقات ہو پاتی ہے تو یہ کام بارہ بجے سے پہلے یعنی ایک گھنٹے میں کیسے ہو گا۔ ہاں اگر ابھی آپ بیٹھنے دو تو میں کل لے آؤں گا۔ لیکن اس کا جواب وہی تھا۔ ڈھاک کے تین پات۔

مجھے شروع میں ایسا لگا کہ یہ کراچی پنجاب والوں کی چپقلش کا کوئی شاخسانہ ہے۔ کیوں میں کراچی ڈومیسائلڈ تھا۔ لیکن کچھ دیر بعد اندازہ ہوا کہ صوبیدار نہ صرف فوجی تھا بلکہ پٹھان بھی تھا۔

میری رونی صورت دیکھ کر اس نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے کہا کہ چلو ایسا کرو آپ کسی بھی گزیٹڈ افسر سے یہ سرٹیفیکیٹ لے آؤ۔

میں نے پھر اسے کہا کہ میں یہاں کا رہائشی نہیں اور میرا کوئی بھی جاننے والا ایک گھنٹے میں یہ کام کر کے نہیں دے سکتا۔ اس نے شان بے نیازی سے کاندھے اچکائے تو میں نے انگریزی میں سلیکشن سینٹر کے انچارج یا کسی افسر سے بات کرنے کی درخواست کی۔ صوبیدار نے میری بات کو اس طرح سنا جیسے اسے کسی تمبوری (یعنی بھڑ) نے کاٹ لیا ہوا۔

نتیجتاً اب میں گیارہ بجے آرمی سلیکشن سینٹر کے باہر سڑک پر کھڑا اپنی قسمت کو رو رہا تھا، اس لئے نہیں کہ میری آرمی میں سلیکشن نہ ہو سکی بلکہ مجھے اب یہ نہیں پتہ تھا کہ شام تک میں نے کیا کرنا ہے۔ پاک فوج کو تو میں رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے چکا تھا۔

سڑک پر کھڑے دائیں بائیں کدھر جاؤں، اسی مخمصے میں گرفتار تھا کہ میری نظر سڑک کی دوسری طرف، کچھ فاصلہ پر لگے ایک بورڈ پر پڑی، ”گورنمنٹ گرلز اسکول، جیکب لائن“ ۔ یکایک میرے ذہن میں بجلی کوندی اور مجھے یاد آیا کہ والدہ کے اسکول کی سابقہ ہیڈ مسٹریس، آنٹی میمونہ اختر (اللہ تعالی ان دونوں کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ) گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول مراد میمن، سعود آباد سے تبادلے کے بعد یہاں کہیں آئی تھیں۔ اور یوں میں اس امید پر لمحوں میں سڑک پارکر کے گرلز اسکول کے باہر کھڑا تھا۔

بند پھاٹک کی جالیوں سے اندر جھانکا تو دور سے ہی ہیڈ مسٹریس کا کمرہ نظر آ گیا۔ تختی پر ان کا نام (بالفرض نزہت پروین) لکھا تھا۔ یعنی آنٹی میمونہ یہاں نہیں آئیں۔

اتنے میں کسی نے دور سے آواز لگائی، ”گل خان یہ چیزیں میڈم کے آفس میں رکھ آؤ“ ۔ اور میں مسکرا اٹھا۔ گرلز ہائی اسکول، جس کے باہر مٹر گشتی کرتے لونڈوں کو نظر آنے پر ہی مار پڑ جاتی تھی اور دیکھنے میں ان جیسا، ایک آوارہ لڑکا اس وقت گرلز اسکول کے گیٹ پر موجود تھا۔

میں نے گیٹ کو کھولنے کی کوشش کی تو چوکیدار جھٹ سے میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں نے بعد سلام، مسکراتے پوچھا۔ ”اور گل خان کیا حال ہیں آپ کے“ ۔ گل خان کی سٹی گم ہو گئی۔ کہنے لگا خیر ہے۔ آپ کون۔ کہا میں نزہت آنٹی کا بھانجا ہوں۔ کچھ دن پہلے آیا تھا، آپ نے شاید پہچانا نہیں۔

میری خوش قسمتی کہ اس نے کہا کہ، ”مگر میڈم تو اسکول میں نہیں ہیں“ ۔

میں نے کہا کہ ہاں آنٹی نے کہا تھا کہ وہ ڈی ای او (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر ) کے دفتر سے ہوتے ہوئے بورڈ آفس اور پھر شاید اے جی سندھ بھی جائیں۔ یوں میں نے اپنے تجربات کی روشنی میں وہ تینوں مقامات جہاں ہیڈ مسٹریس اپنے اسکول سے غیر حاضر رہنے کے لئے بہانہ بناتی تھیں ایک ہی سانس میں داغ دیے۔

ساتھ میں نے اسے کہا کہ آنٹی نے کہا تھا کہ ان کی غیرموجودگی میں آفس میں بیٹھ کر ان کا انتظار کروں۔

ہیڈ مسٹریس موجود ہوتیں تو معاملہ ویسے بھی حل ہوجانا تھا لیکن اب حالات کسی اور رخ جا رہے تھے۔ سو میرے دھڑلے سے کہنے پر کہ آنٹی نے کہا تھا کہ آفس میں ان کا انتظار کروں۔ گل خان معصوم نے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

آفس خالی تھا۔

میرا حال یہ تھا کہ میں تین چار سال کی عمر سے والدہ کے ساتھ گرلز اسکولوں میں جا رہا تھا اور یونیورسٹی میں ہونے کے باوجود، بحیثیت مسز نجمہ جعفری کے شریف بچے کے، متعدد مرتبہ ضرورت پڑنے پر گرلز اسکولوں میں سائنس پڑھانے اور اضافی کلاسز لینے کے علاوہ اسکول کی استانیوں (یعنی آنٹیوں ) کے دسیوں کام آ چکا تھا۔ یعنی گرلز اسکولوں کی استانیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ تھا۔ آفس خالی دیکھ کر میں نے گل خان سے کہا کہ کیا ممکن ہے کہ میں یہاں کی بجائے ہیڈ کلرک کے پاس بیٹھ کر انتظار کرلوں۔ اس نے حامی بھری اور پھر وہ کام کیا جس نے میری مشکل آسان کردی۔

وہ مجھے ہیڈ کلرک کے دفتر میں لیجا کر بولا۔ ”یہ میڈم کے بھانجے ہیں“ ۔

گل خان کے جانے کے بعد ہیڈ کلرک نے ہیڈ مسٹریس کے پپو کے لئے کینٹین سے چائے منگوائی۔ اس دوران میں نے ایک عجیب فرمائش کی کہ کیا ٹائپ رائٹر مل سکتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد میں کاغذ لگائے اپنا کیریکٹر سرٹیفیکیٹ خود ہی ٹائپ کر رہا تھا وہ بھی کاربن پیپر کے ساتھ دو کاپیوں میں۔

میں نے بابو سے پوچھا کہ آنٹی کے آنے میں تو دیر ہے، کیا یہاں کوئی، ایچ ایس ٹی (ہائر اسکول ٹیچر) یا گزیٹڈ افسر ہیں۔ اس نے کہا، اسکول میں میڈم کے علاوہ دو ٹیچر سترہ گریڈ کی ہیں۔ اور یوں تھوڑی دیر بعد ہم اسٹاف روم میں، استانیوں کے بیچ کھڑے تھے۔

ہیڈ کلرک نے میرا تعارف کراتے کہا کہ یہ میڈم کے بھانجے ہیں اور چال چلن کے تصدیق نامے پر دستخط چاہتے ہیں۔ دونوں استانیوں کی ہیڈ مسٹریس سے نہیں بنتی تھی سو انہوں نے نخرے دکھائے، جس پر میں نے اپنی عیاری کی پوٹلی کھولی اور انہیں بتایا کہ میرے والد کا نام اعظم علی جعفری ہے۔ اور وہ اے جی پی آر میں ہیں۔ جبکہ چچا ضیا جعفری، اے جی سندھ میں ہیں (اور آپ لوگوں کو کوئی مشکل ہو تو بتائیے گا) ۔ والد کا نام تو کاغذ پر لکھا ہی تھا اس لئے مشہور زمانہ ضیا جعفری، جو میرے چچا ہرگز نہیں تھے (مگر اے جی سندھ میں تھے اور سبھی استانیاں انہیں جانتی تھیں کیونکہ ان کے پاس آ کر سب کی فائل پھنس جاتی تھی) ۔

اب وہی استانیاں، میڈم سے زیادہ ضیا جعفری کے نام نہاد بھتیجے یعنی میرے چال چلن کی تصدیق کے لئے سر پھٹول کر رہی تھیں، ایک کہتی میں سینیئر ہوں اور دوسری کہتی کہ میں نے پہلے حامی بھری تھی۔

ضیا جعفری کی کہانی یہ تھی کہ میں نے کچھ عرصے ان کے بیٹے کو ٹیوشن پڑھائی تھی یوں یہ تکا بھی عین نشانے پر جا لگا۔ میں نے ایک کاغذ ایک ٹیچر کو دیا اور کاربن کاپی دوسری کو۔ یوں خوشی خوشی دونوں خوش ہو گئیں۔

مجھے چائے پانی کا پوچھا گیا۔ میں نے تمام استانیوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دو تین ایسے مسائل پوچھے، جس سے ہر ٹیچر گزر رہی ہوتی ہے۔ مثلاً تبادلہ، انکریمنٹ یا پروموشن۔ اور یوں ایک طویل پنڈورا کھل گیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے مسائل ایک کاغذ پر لکھ کر آنٹی نزہت کو دے دیجئے گا کہ رضی کو دے دیں۔

وہ سب کاغذ سنبھال کر اپنی اپنی کتھا لکھنے بیٹھیں تو ایک عقلمند نے یہ کہ کر میرے طوطے اڑا دیے کہ اے جی سندھ کے تو کئی کام میڈم کے اپنے بھی کئی سال سے پھنسے ہوئے ہیں۔

میری حاضر دماغی کہ میں نے منہ بنا کر فوراً جواب دیا کہ آنٹی اور چچا کے باہمی تعلقات، اول دن سے اچھے نہیں ہیں۔

اور یوں بمشکل پندرہ بیس منٹ بعد میں صوبیدار کے سامنے ایک بار پھر کھڑا تھا۔ اور ایک نہیں دو دو کیریکٹر سرٹیفیکیٹ لئے۔

صوبیدار نے حیرت سے پوچھا کہ اتنی سی دیر میں ٹائپ بھی کروا لیا اور تصدیق بھی، یہ معجزہ کیسے۔
میں نے ہنستے کہا۔ دیکھ لیں ایک نہیں بلکہ میں دو سرٹیفیکیٹ لایا ہوں۔

کہنے لگا، یہ تو سامنے والے گرلز اسکول سے تصدیق شدہ ہیں۔ کیا یہاں کوئی جاننے والا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔ کہنے لگا لڑکوں کو تو یہ لوگ گھسنے نہیں دیتے تو تم اندر جاکر یہ ناممکن کام کیسے کرا لائے۔

میں نے کہا صوبیدار صاحب فارم قبول کریں اور ساتھ چائے پلائیں تو کہانی سنا سکتا ہوں۔ ویسے بھی بارہ بجے سے ٹیسٹ شروع ہیں اور تھوڑی دیر بعد صوبیدار اور میں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ آپ یہاں مت آؤ۔ فوج میں رہے تو عقل گھٹنوں میں چلی جائے گی۔

دو اپریل 1988 کو کوہاٹ سے آئی ایس ایس بی کرنے کے باوجود میری قسمت کہ جب آرمی جوائننگ کے لئے، منگلا میں رپورٹنگ کا کال لیٹر اکتوبر 88 میں آیا۔ میں ستمبر میں فضائیہ کو پیارا ہو چکا تھا۔

بہت دیر کردی مہرباں آتے آتے۔
٭٭٭

٭ اسکول سے نکلتے وقت میں نے ہیڈ مسٹریس کے دفتر میں لگے فون کا نمبر لے لیا تھا۔ اور اگلے دن سلیکشن سینٹر سے ہی فون کر کے زبردستی کی آنٹی سے معافی مانگی۔ جو انہوں نے اس شرط پر قبول کرنے کی حامی بھری کہ میں بنفس نفیس پیش ہو کر یہ گزارش کروں۔ اور یوں کچھ دن بعد میں گرلز اسکول کے اسٹاف روم میں، ساری استانیوں کو مٹھائی کھلاتے، مسکراتے ہوئے جھڑکیاں کھا رہا تھا۔ لیکن وہ سب بھی میرے عارضی سلیکشن پر ایسے ہی خوش تھیں جیسے ان کی ہم پیشہ استانی مسز جعفری نہیں بلکہ ان کے اپنے گھر کا کوئی بچہ فوج کے لئے سلیکٹ ہو گیا ہو۔

کچھ استانیوں بالخصوص دونوں ”گزیٹڈ افسرانی“ اور زبردستی کی آنٹی کے چند مسائل میں نے بیگم ضیا جعفری کی سفارش سے حل کروا دیے (جن کا میں خود کو چہیتا سمجھتا تھا۔ کیوں، کی وجہ شاید نہ لکھ سکوں) ۔ کچھ استانیوں کے مسائل والد صاحب کے پیر پکڑ کر حل کروائے (ہرجا یہ ان کے ادارے کا کام نہیں تھا) ۔ شاید صوبیدار کی پخ، ان شریف اور معصوم استانیوں کے مسائل حل کروانے کے لئے ہی کھڑی ہوئی تھی کہ قدرت کا اپنے نیک لوگوں کے مسائل حل کروانے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔

لات زید کو لگے، مگر کُب بکر کا ٹھیک ہوجاتا ہے۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “پنگوں کی کتھا : حاصل کرنا پاک فوج کیلئے، چال چلن کا تصدیق نامہ

  • 18/03/2024 at 7:13 شام
    Permalink

    مزیدار تحریر, جب اللہ کسی کا کوئی مسئلہ حل کروانا چاہتا ہے تو ایسے ہی وسیلے بناتا ہے کہ مسائل میں پھنسے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ مسلہ اس جگہ سے حل ہوگا.
    ساتھ میں اس وقت کی یاد جب کراچی کے مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند نہیں کئے گئے تھے.

    • 19/03/2024 at 11:17 صبح
      Permalink

      پسندیدگی کا شکریہ
      سرکاری ملازمتوں کا رونا اسوقت یعنی ١٩٨٨میں بھی تھا جبکہ اسوقت تک پیپلز پارٹی اقتدار میں نہیں آٸی تھی۔ کراچی اور حیدرآباد والے متحدہ کو جتنا کوس لیں کم ہیں۔
      لیکن ٣٥ برس میں یادرہے فوج میں آج بھی کراچی یعنی اردق بولنے والوں کی شرح ١٠ فی صد سے کم نہیں۔ باقی ساٸیں تو امتحان پاس کرتے وقت ہی مر جاتے ہیں۔

      البتہ سول سروس میں سندھ شہری کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے اور وہاں دس فی صد کی بجاٸے اب بمشکل دو فی صد نظر آتے ہیں۔

    • 23/03/2024 at 2:05 صبح
      Permalink

      پسندیدگی کا شکریہ

      سرکاری ملازمتوں کا رونا اسوقت یعنی ١٩٨٨میں بھی تھا جبکہ اسوقت تک پیپلز پارٹی اقتدار میں نہیں آٸی تھی۔ اس معاملے میں کراچی اور حیدرآباد والے متحدہ کو جتنا کوس لیں کم ہیں۔

      لیکن ٣٥ برس میں یادرہے فوج میں آج بھی کراچی یعنی اردو بولنے والوں کی شرح ١٠ فی صد سے کم نہیں۔

      رہے فوج میں ساییں لوگ تو سیلیکشن سنٹر میں امتحان پاس کرتے وقت اور آٸی ایس ایس بی جاکر ان کی قابلیت اپنے موت آپ مرجاتی ہے۔

      البتہ سول سروس میں سندھ شہری کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے اور وہاں دس فی صد کی بجا ۓ اب بمشکل دو فی صد سندھ شہری کے لوگ نظر آتے ہیں۔

Comments are closed.