رمضان المبارک کے تقاضے!


رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا آغاز ہو گیا ہے ۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے یہ مبارک مہینہ دیکھنا نصیب فرمایا۔ اس مہینے کی اہمیت کا اندازہ کیجئے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ اور صحابہ کرام اس ماہ مقدس کا انتظار فرمایا کرتے تھے۔ دعائیں مانگتے تھے کہ اے پروردگار، ہمیں رمضان کا مہینہ نصیب فرما۔ اس تناظر میں سوچیں کہ ہم کس قدر خوش نصیب ہیں کہ جنہیں اللہ پاک نے یہ مہینہ عطا فرمایا ہے۔ نہایت خوش قسمت ہیں وہ جو اس قابل ہیں کہ اس مہینے کی برکتیں سمیٹتے ہیں۔

نیکیاں کماتے ہیں اور اللہ پاک سے اپنے گناہوں کو معاف کروا لیتے ہیں۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔ یعنی اللہ پاک چاہتا ہے کہ ہم پرہیزگاری اختیار کریں۔ اللہ کی رحمت کا انداز دیکھیے کہ وہ اس مہینے میں نیکیوں کا ثواب کئی گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ بندہ کوئی ایک نیکی کرتا ہے تو اسے کم سے کم ستر نیکیوں کا اجر دیتا ہے۔

حضورﷺ نے اس مہینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں طاق راتیں ہیں۔ انہی راتوں میں شب قدر پوشیدہ ہے جس کے متعلق فرمان الہیٰ ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ مطلب یہ کہ جس مسلمان نے یہ ایک رات عبادت میں گزاری، سمجھیں کہ اس نے ایک ہزار مہینے عبادت میں گزارے ہیں۔ یہ فقط میرے رب کے کرم کا ایک طریقہ کار ہے۔ اللہ پاک رحمن، رحیم اور کریم ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم جیسے گناہ گار بندوں کو کسی نہ کسی بہانے یا وسیلے سے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب عطا کر دے۔

فرمان ہے کہ یہ صبر کا مہینہ ہے۔ یہ ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ یہ اللہ پاک کی رحمتیں، برکتیں، مغفرتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ سرکش شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے تاکہ اللہ کے بندے سکون کے ساتھ عبادت کر سکیں۔ اس کی سحری میں برکت ہے۔ اس کی افطاری میں برکت ہے۔ اللہ پاک کو روزہ کی حالت میں اپنے بندے بہت پسند ہیں۔ فرمان ربی ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں خود دوں گا۔

مختصر یہ کہ یہ نہایت فضیلت اور برکت والا مہینہ ہے۔ ہمیں بھرپور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس مہینے کا احترام کریں۔ اس کے احترام کا تقاضا ہے کہ ہم روزہ رکھیں۔ نماز ادا کریں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کریں۔ اللہ کی راہ میں صدقہ خیرات کریں۔ سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم اپنے رویے اور کردار کو رمضان المبارک کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ رمضان میں بہت سے لوگ نماز، روزے اور دیگر عبادات کا اہتمام تو کرتے ہیں، لیکن اپنے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں۔

روزہ رکھ کر گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے کو ترک نہیں کرتے۔ دفاتر میں حسب معمول کام میں ڈنڈی مارتے ہیں۔ رشوت لینے سے نہیں چوکتے۔ کسی کا حق، جائیداد ہڑپ کر کے بیٹھ رہتے ہیں۔ اگر روزہ رکھ کر یہ سب کچھ ہی کرنا ہے تو بھلا اس روزے کا کیا فائدہ؟ ایسی عبادات کا کیا فائدہ۔ اللہ پاک تو چاہتا ہے کہ ہم روزوں کے احترام میں اپنے رویے کی بھی درستگی کریں۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنے رویے کی بد صورتی کو، اپنی ذات، اپنے کردار کی برائیوں سے نجات حاصل کریں۔ اس طرح ہم اللہ کا قرب اور نبی ﷺ کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک اور پہلو کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ماہ رمضان میں ہم سب کو بہت اچھا لگتا ہے کہ سحری، افطاری میں طرح طرح کے کھانوں سے دستر خوان سجائیں۔ ہمیں ضرور عمدہ کھانوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے خاندان، اپنے دفتر کے لوگوں پر بھی نگاہ ڈالیں۔ آج کل مہنگائی کا دور ہے۔ اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ بھی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے نڈھال ہو جاتے ہیں۔ لازم ہے کہ ہم ان لوگوں کا خیال کرنا چاہیے۔

کسی کے گھر میں راشن اور اناج پہنچا کر جو خوشی حاصل ہو گی وہ انواع اقسام کے کھانے کھانے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ عید کی شاپنگ کرتے وقت بھی اپنے ملازمین، رشتہ داروں وغیرہ کا خیال رکھنا چاہیے۔ یقین جانیں ان لوگوں کی امداد کر کے آپ کو حقیقی خوشی حاصل ہو سکے گی۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اس مہینے میں قرآن پاک پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنے برے رویوں اور عادات کو ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اتنا خوش بخت بنا دے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ آمین۔

Facebook Comments HS