ہیماٹوما بن گیا۔ جلدی آئیے!
جی چاہتا ہے آج آپ کو ڈاکٹری کی دنیا کا ایک اور لفظ سکھائیں جو اردو میں مناسب طور پہ ترجمہ نہیں کیا جا سکتا، شاید اس لیے آپ کو ڈاکٹر اس کے متعلق سمجھا بھی نہیں پاتے۔
کچھ دن گزرے نصف شب کا وقت تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ فون کی گھنٹی بجنا شاید آپ کے لیے انہونی نہ ہو مگر ہمارے لیے ہے کہ نصف شب اگر فون بجے تو لازما ایمرجنسی کال ہی ہو گی۔
” دس نمبر بیڈ پہ مریضہ کی حالت یک دم سیریس ہو گئی ہے۔ اس کا سیزیرین ہوا تھا۔ تیسرا سیزیرین تھا۔ آپریشن سے پہلے ہیموگلوبن بارہ تھا۔ آپریشن کے بعد گیارہ۔ شام تک مریضہ بالکل ٹھیک تھی۔ شام کے راؤنڈ پہ دل کی دھڑکن کچھ زیادہ تھی اور بلڈ پریشر کچھ کم۔
اب سے ایک گھنٹہ پہلے اچانک مریضہ نے پیٹ میں شدید درد کی شکایت کی۔ معائنہ کیا تو کچھ پھولا ہوا نظر آیا۔ الٹرا ساؤنڈ کیا تو پیٹ کے اردگرد کافی سیال مائع نظر آیا۔ لگتا تھا خون ہے۔ ہیموگلوبن کروایا تو سات نکلا۔ نبض کافی تیز ہے۔ بلڈپریشر گر رہا ہے۔ آپ جلدی سے آ جائیں۔
چار بوتل خون کا انتظام کروائیں۔ آپریشن تھیٹر اور انیستھیزیسٹ کو سٹینڈ بائی کر دیں۔ مریضہ کے لواحقین کو بلا لیں ”
بستر سے اچھل کر کھڑے ہوتے ہوئے ہم نے کہا۔
ایسے مواقع پر ہم بھاگ کر گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور یہ پروا نہیں کرتے کہ حلیہ کیا ہے؟ ہمیں ویسے بھی بکھرے ہوئے بال اچھے لگتے ہیں۔ گاڑی دوڑائی۔ دس منٹ میں ہسپتال۔ وارڈ پہنچ کر مریضہ کا معائنہ کیا۔ پیٹ پھول رہا تھا۔ لواحقین پہنچ چکے تھے۔ انہیں بتایا کہ ہمیں پیٹ پھر سے کھولنا پڑے گا۔
کیوں؟
پیٹ میں خون جمع ہو رہا ہے۔
کہاں سے؟
یہ ہم نہیں جانتے۔ شاید آپریشن والی جگہ سے۔ کھول کر پتہ چلے گا۔
دستخط لیے اور مریضہ کو آپریشن تھیٹر روانہ کیا۔
بے ہوش کرنے کے بعد ہم نے ٹانکے ادھیڑے اور پیٹ کھولا۔ پیٹ کھولتے ہی خون ابل پڑا۔ تقریباً ڈیڑھ لیٹر خون پیٹ میں جمع تھا۔
بچے دانی دیکھی تو آپریشن والی جگہ درست سلی ہوئی تھی۔
کہاں سے آ رہا ہے یہ خون؟ ہم بڑبڑائے۔
بچے دانی کے پیچھے دیکھا۔ انتڑیاں دیکھیں۔ جن ڈاکٹر نے آپریشن کیا تھا، وہ بھی آ چکی تھیں۔
میم، کل جب میں آپریشن کیا تھا، پیٹ کی دیوار اور اومینٹم کے درمیان کافی چیزیں جڑی ہوئی تھیں۔ میں نے کافی احتیاط سے کھولا اور بند کیا تھا۔
اومینٹم omentum انتڑیوں کے ساتھ لٹکا ہوا ایک ایسی پردہ ہے جو پیٹ کا چوکیدار کہلاتا ہے، جھلی نما، چربی سے لدا ہوا۔
جس جگہ ڈاکٹر نے نشاندہی کی تھی وہاں اب omentum نہیں تھا۔ پیٹ کی دیوار کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو ہمیں وہ دشمن جاں شریان نظر آ گئی جس سے خون رس رہا تھا۔ شاید اومینٹم وہاں سے اکھڑ گیا تھا۔ خون رسنے کی رفتار زیادہ نہیں تھی اسی لیے ڈیڑھ لیٹر خون جمع ہونے میں کئی گھنٹے لگے تھے۔
شریان کا گلا ہم نے خوب مضبوطی سے گھونٹ کر گانٹھ لگائی۔ احتیاطاً بقیہ پیٹ کی بھی تلاشی لے لی۔ کہیں کچھ اور نظر نہیں آیا۔ پیٹ کو دوبارہ سیا۔ چار بوتل خون لگایا۔ تڑکے گھر کو آئے جہاں نسیم بی بی ہمارے انتظار میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں۔ ایسے موقعوں پہ وہ ہمیشہ ایک سوال کرتی ہیں۔
بی بی بچ گئی۔ نسیم نے بے چینی سے پوچھا۔
آہو۔ کہہ کر ہم بستر میں گھس گئے۔
شکر ہے۔ آخر باجی نے رات لگائی۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے۔
ہاں جی۔ کوئی مذاق تھوڑی ہے۔
*
ٹرن۔ ٹرن۔ ٹرن
ہیلو۔
ہیلو۔ وہ ایک کیس بتانا تھا آپ کو۔
جی بتائیے۔
ایک مریضہ کی نارمل ڈلیوری ہوئی تھی چھوٹے آپریشن کے ساتھ۔ چھوٹے آپریشن کا کٹ ( ایپی) کچھ لمبا تھا لیکن میڈیکل افسر نے اچھی طرح سیا تھا۔ کچھ دیر پہلے مریضہ نے پاخانے والی جگہ درد کی شکایت کی۔ معائنہ کیا تو پتہ چلا کہ ویجائنا میں ہیماٹوما بن گیا ہے۔ (Hematoma)۔
کیا سائز ہے؟
جی۔ سکس ان ٹو سکس۔ کرکٹ بال سے کچھ بڑا۔
آپریشن تھیٹر لے جا کر کھولیے۔ ڈرین کیجئے اور ٹانکے لگائیے۔ خون کا انتظام کروا لیجیے۔ کیا ہماری ضرورت ہے؟
نہیں میں کر لوں گی۔
اگر کوئی مشکل ہوئی تو بتا دیجیے گا میں آ جاؤں گی۔ اور ہاں۔ سلائی کرنے کے بعد ویجائنا پیک کر دیجیے گا۔ اچھی طرح۔ کل صبح تک۔ اور ہاں پیشاب کی نالی ڈالنا مت بھولیے گا۔
جی ٹھیک ہے۔
اگلی صبح پیک اور نالی نکال دیے گئے۔ مریضہ ٹھیک تھی مگر ابھی اسے نگہداشت کی ضرورت تھی، گھر نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔ بہرحال ہیماٹوما کا علاج کیا جا چکا تھا سو ستے خیراں۔
*
ٹرن، ٹرن، ٹرن
ہیلو۔
ہیلو۔ ڈاکٹر طاہرہ۔ ایک پرابلم ہے
جی بتائیے۔ ایک مریض ڈلیور ہوئی تھی اوزار سے۔ چھوٹا آپریشن بھی کیا تھا۔ سلائی بھی ٹھیک تھی۔ تھوڑی دیر پہلے مریضہ نے پاخانے والی جگہ پہ تکلیف کا اظہار کیا۔ معائنہ کیا۔ سوجن نظر آئی جو ویجائنا میں تو نہیں بلکہ باہر مقعد کی ایک طرف ہے۔ چھونے میں سخت ہے۔ الٹرا ساؤنڈ کیا ہے ایٹ ان ٹو ایٹ کا سائز ہے۔ ہیموگلوبن تیرہ سے گیارہ ہو گیا ہے۔ کیا کریں؟
میں دیکھنے کے لیے آ رہی ہوں۔
ہم ہسپتال پہنچے۔ ابھار مقعد کی ایک سائیڈ پہ بنا تھا۔ ویجائنا میں انگلی ڈال کر دیکھا تو کچھ محسوس نہیں ہوا مگر جونہی مقعد میں انگلی ڈالی، دائیں طرف ایک سخت چیز محسوس ہوئی۔ مریضہ شدید درد میں تھی۔ یہ ہیماٹوما تھا لیکن ایسی جگہ پہ بنا تھا کہ اس کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔
انہیں درد کش انجکشن دیں۔ نبض اور بلڈ پریشر سے مانیٹرنگ کریں۔ اور سی ٹی سکین کروائیں۔
جب تک سی ٹی سکین ہوا، ہیموگلوبن آٹھ پہ پہنچ گیا۔ نبض کافی تیز تھی۔ سی ٹی سکین کی رپورٹ کے مطابق ہیماٹوما پاخانے کی نالی ریکٹم کے ساتھ ساتھ اوپر کی طرف جا رہا تھا۔
چونکہ ریکٹم کا مسئلہ تھا سو سرجن کو بلانا پڑا۔ معائنہ کرنے اور سی ٹی کی رپورٹ دیکھنے کے بعد ان کا فیصلہ یہ تھا کہ کچھ انتظار کر کے دیکھتے ہیں اگر یہ مزید نہیں بڑھتا تو کھولنا مناسب نہیں کہ کوئی بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔
دھڑکتے دل کے ساتھ یہ فیصلہ ہم نے سنا دیا کہ ابھی انتظار۔ اینٹی بایوٹکس، درد کش انجکشن اور مانیٹرنگ۔ اگر کبھی بھی مریضہ کی حالت بگڑے تو ہمیں اور سرجن کو بلایا جائے۔
رات کو دو بار فون کر کے پوچھا تو علم ہوا کہ مریضہ کی حالت سٹیٹس کو میں ہے یعنی نہ بگڑی ہے نہ بہتر ہوئی ہے۔
صبح بھاگے بھاگے ہسپتال پہنچے تو سب سے پہلے انہی کے سرہانے۔ بلڈپریشر اور نبض ایک جگہ ٹھہر چکے تھے۔ تکلیف پہلے سے کچھ کم تھی۔ ہیمو گلوبن مزید کم نہیں ہوا تھا اور الٹرا ساؤنڈ پہ ہیماٹوما کا حجم وہی تھا۔
یہ تمام علامات اس بات کی نشان دہی تھیں کہ مریضہ کو آپریشن کے بغیر مینیج کیا جاسکتا ہے۔ مریضہ کے لواحقین بہت پریشان تھے اور جاننا چاہتے تھے کہ ہم فوراً آپریشن کر کے ہیماٹوما ڈرین کیوں نہیں کر رہے؟
ان کے ساتھ بیٹھ کر انہیں سمجھانا پڑا کہ بسا اوقات آپریشن مزید تباہی لاتا ہے سو انتظار کرنا گو اعصاب کا امتحان ہے لیکن مریض کے لیے بہتر۔
مریضہ کو خون بھی دیا گیا۔ وہ ہمارے پاس ایک ہفتہ رہیں۔ درد آہستہ آہستہ کم ہوا۔ ہیما ٹوما کا حجم پہلے سے تھوڑا سا کم ہوا۔ ساتویں دن انہیں فالو اپ کی ہدایت کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔
اب آتے ہیں اس لفظ کی طرف جو ہم آپ کو سکھانا چاہتے تھے۔ آپ اندازہ لگا ہی چکے ہوں گے۔ وہ لفظ ہے ہیماٹوما Hematoma۔
مطلب کسی جگہ پہ ضرب یا سرجری کے نتیجے میں خون بہہ کر جمع ہو جائے اور پھر جم جائے۔ اس کی مختلف اشکال ہو سکتی ہیں۔ جیسے پہلے کیس میں جما ہوا خون بھی تھا اور مائع بھی۔ دوسرے کیس میں ویجائنا میں خون جمع ہوا تھا۔ تیسرے کیس میں مقعد کے گرد۔
علاج کیسے کرنا ہے؟
ہر مریض اور اس کی سچوئشن مختلف ہوتی ہے۔ بعض اوقات فوراً آپریشن کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات انتظار بہتر ہوتا ہے۔ اس بات کا دارومدار چار باتوں پر ہے مریض کی نبض، بلڈ پریشر، ہیموگلوبن، اور ہیموٹوما کا حجم۔
اگر یہ علامات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اور مریض کی حالت بگڑ رہی ہے تب فوری آپریشن ہونا چاہیے اور اگر ان علامات میں کوئی زیادہ بڑی تبدیلی نہیں آ رہی اور مریض کی حالت بھی بہتر لگتی تب کنزرویٹو علاج کیا جا سکتا ہے۔
کس وقت کیا کیا جائے؟ یہ علم کتابی نہیں، بلکہ برس ہا برس کا تجربہ ہے جو آپ کو چپکے سے بتاتا ہے کہ اب کیا کرنا ہے؟
دیکھیے صاحب۔ ہمیں پھر وہ عورتیں یاد آ گئیں جو دور دراز کے علاقوں میں زچگی کے عمل سے گزرتی ہیں جہاں بسا اوقات سپیشلسٹ ڈاکٹر کے لیے بھی اس کا علاج مشکل ہوتا ہے، دائی، نرس اور ایل ایچ وی کو تو چھوڑ ہی دیں۔ وہ سب لوگ جو بچے پیدا کرنے کے شوقین ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر بار ان کے گھر کی عورت موت کے منہ سے نکل کر آتی ہے۔
سو طے کیجیے کہ آپ کی زندگی کے ساتھی کی زندگی کس طور گزرنی چاہیے!


