کوئی امید بر نہیں آتی


رب لم یزل کا فرمان ہے ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی اور نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہو سکتا ہے“ سورۃ الرعد آیت 13 ) ۔ آج قوم مسلم کی یہ حالت ہے کہ لگ بھگ 2 ارب آبادی ہونے کے باوجود یہ دنیا کی کمزور ترین قوم ہے۔ وجہ یہ کہ ہم اللہ نہیں امریکہ پر انحصار کیے بیٹھے ہیں۔

باوجودیکہ رب کائنات نے وضاحت سے فرما دیا کہ اس کے مقابلے میں ان کا کوئی حامی و مددگار نہیں ہو گا۔ آج ایک کروڑ سے بھی کم آبادی رکھنے والا اسرائیل غزہ پر ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہا ہے حالانکہ عالم اسلام کے مسلمانوں کے پاس جدید ترین اسلحہ سے لیس 50 لاکھ سے زائد فوج موجود ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت مگر خاموش تماشائی۔ عربوں کے پاس تیل کے سمندر لیکن غزہ کے ہسپتالوں اور ایمبولینسز کے لیے ایندھن نہیں۔

پاکستان، ترکی، ایران اور مصر کے جنگی جہاز اور میزائل غزہ کے معصوم بچوں اور عورتوں کا قتل نہ روک سکے۔ مصر کا دریائے نیل غزہ کے معصوموں کے ہونٹوں کو تر کرنے سے قاصر لیکن ہم پیپسی، کوک، سٹنگ اور سپرائٹ سے لطف اندوز ہونا چھوڑ سکے نہ کے ایف سی اور میکڈونلڈ کے برگر۔ حماس کے سربراہ اسمائیل ہنیہ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط لکھ کر دوسری بار وزیراعظم بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے اپیل کی کہ پاکستان سیاسی، سفارتی اور قانونی پلیٹ فارم پر موثر اقدامات کرے۔

اسمائیل ہنیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو مودی کے ہاتھوں ہڑپ ہوتا دیکھ کر بھی کچھ نہ کرسکے اور پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں عالم اشتعال میں کہہ دیا ”اب میں کیا کروں، کیا ہندوستان پر حملہ کردوں؟“ ۔ ان حالات میں پاکستان سے کوئی امید رکھنا عبث۔ یہ سب کچھ محض اس بنا پر کہ ہم نے اللہ پر بھروسا چھوڑ کر غیروں کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں سجا لیا۔

جب 28 مئی 1998 ء کو چاغی کے پہاڑوں نے اپنا رنگ بدلا تو صرف پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کی فضائیں تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھیں اور ہر اسلامی ملک نے یہ جانا کہ وہ ایٹمی طاقت بن گیا ہے۔ مبارک سلامت کے شور سے طاغوت لرزہ براندام ہوا اور پورے عالم اسلام نے پاکستان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے۔ تاریخ کے اوراق میں مگر یہ بھی لکھا گیا کہ جس شخص نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اسے پھانسی پہ جھولنا پڑا، جس نے ایٹمی دھماکے کیے اسے پورے خاندان سمیت جلاوطنی کا دکھ جھیلنا پڑا اور ایٹمی پروگرام کے خالق کو اپنے ہی ملک میں نظربندی کا الم سہنا پڑا۔

آج پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت غلط تھی۔ اسی لیے بھٹو کو اسمبلیوں میں شہید قرار دینے کی قراردادیں منظور کی جا رہی ہیں لیکن ”اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“ ۔ ہمارے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو شہید، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں مرحوم اور میاں نواز شریف پاکستان کے ہیرو ہیں جنہیں تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

پاکستان کے دگرگوں ہوتے حالات کا حال یہ ”نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“ ۔ قرضوں کی ادائیگی کی لٹکتی تلوار سر پر اور آئی ایم ایف نت نئی شرائط لگاتا ہوا۔ وہ دور لد گیا جب بار بار کہا گیا ”خان آئے گی، بیرونی ممالک میں پڑے 200 ارب ڈالر واپس لائے گی اور قرض خواہوں کے منہ پردے مارے گی“ ۔ آج اس ”مفرور“ سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ بیرونی ممالک سے حاصل کیا گیا 200 ارب ڈالر لے کر کہاں غائب ہو گیا۔ یہ اسی منحنی دو رکی کرشمہ سازیاں ہیں جب 25 ہزار ارب قرضہ لیا گیا جو پاکستان کے کل قرضے کے 80 فیصد کے برابر بنتا ہے۔

لطیفہ یہ کہ اس دو رکے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ یہ قرضہ 80 فیصد کے برابر نہیں، 75 فیصد کے برابر ہے۔ سوال یہ کہ وہ قرضہ گیا کہاں جبکہ نہ نیا پاکستان بنا اور نہ ہی ریاست مدینہ۔ وہ جو کہتے تھے ”کیا ہم کوئی غلام ہیں“ ؟ آج وہی عام انتخابات میں دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے امریکہ سے مداخلت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ 90 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کے دعوے کرنے والے ملک کی تقدیر تو خیر کیا بدلتے البتہ ساڑھے 1300 دنوں میں ڈیفالٹ کے کنارے تک ضرور پہنچا دیا۔ بلاخوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب کیا دھرا اس 3 سال 8 ماہ کے دورحکومت کا ہے۔

موجودہ اتحادی حکومت کو عنان اقتدار سنبھالے ہوئے ابھی جمعہ جمعہ 8 دن ہوئے ہیں اسی لیے ہمارا قلم ان کے بارے میں خاموش البتہ غلط کاموں پر تنقید و تنقیص اور اچھے کاموں کی تحسین ہمارا حق۔ ہم ”گزشت آنچہ گزشت“ کے ہرگز قائل نہیں اس لیے ماضی کا ماتم کرتے ہوئے حال کی اصلاح اور روشن مستقبل کی امید کی جوت جگاتے رہیں گے۔ اس دور ابتلاء میں جب قوم نان جویں کی محتاج ہے کیا آئی ایم ایف کو خط لکھ کر قرضے کی اگلی قسط دینے سے منع کرنا ملک دشمنی نہیں؟

کیا 15 مارچ کو واشنگٹن ڈی سی میں حکومت اور افواج پاکستان کے خلاف مظاہرہ کر کے آئی ایم ایف کو قرضے کی اگلی قسط کو بانی تحریک انصاف کی رہائی سے مشروط کرنے والے ملک دشمن نہیں؟ کیا سانحہ 9 مئی کے منصوبہ ساز اور تخریب کار ملک دشمن نہیں؟ کیا یورپی یونین کو خط لکھنے والے ملک دشمن نہیں؟ پی ٹی آئی کے بانی کے حکم پراس وقت کے خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر قرض کی قسط دینے سے منع کیا اور اب ایک دفعہ پھر جیل میں بیٹھے بانی تحریک نے وہی عمل دہرایا، کیا یہ عمل ملک دشمنی نہیں؟

ادھر آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچا اور ادھر واشنگٹن ڈی سی میں کچھ شرپسند پاکستانیوں نے مظاہرے شروع کر دیے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایسے شرپسندوں کو وطن کی مٹی سے پیار ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف، یورپی یونین اور ورلڈ بینک نے بانی تحریک انصاف کو رہا کرنا ہے؟ بانی تحریک انصاف کو تو پاکستانی عدالتوں نے سزا دی ہے۔ اگر پاکستانی عدالتوں سے انصاف کی امید اٹھ چکی تو پھر کیوں نہ ان عدالتوں کو ختم کر کے سب کچھ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سپرد کر دیا جائے؟

اب تحریک انصاف کے سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے اعلیٰ سطحی وفد کے پاکستان کے دورے کے دوران ایٹمی اثاثوں کے حوالے سے مبینہ ڈیل ہو گئی ہے۔ حقیقت مگر یہ کہ دفترخارجہ کی ترجمان زہرہ بلوچ کے مطابق اس نوعیت کی خبریں قطعی طور پر حقائق کے منافی، عالمی توانائی ایجنسی کا کوئی عہدیدار نہ تو اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے ساتھ کسی پالیسی بات چیت کا منصوبہ ہے۔ کیا ایسی جھوٹی خبروں اور افواہوں کا بازار گرم کرنے والے ملک دشمن نہیں؟ اگر تحریک انصاف کی مختصر سی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس

پر کئی آرٹیکل 6 لاگو ہوتے ہیں لیکن اتحادی حکومت تب بھی خاموش رہی اور اب بھی خاموش ہی ہے۔ سوال ہے کہ کیا یہ حکمرانوں کی بزدلی نہیں؟ کہے دیتے ہیں کہ اگر حکمرانوں نے راست اقدام نہ کیا تو پھر ”تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں“ ۔

Facebook Comments HS