ہم خود اپنے اور دوسروں کے لیے مشکلات کیوں پیدا کرتے ہیں؟
میں ایک قدیمی گاؤں میں رہتا ہوں جو میری ورک پلیس سے پندرہ کلومیٹر دور ہے۔ اپنے گاؤں سے نکل کر دو مزید گاؤں کراس کرتے ہوئے کالج تک پہنچنے میں مجھے بیس منٹ لگتے ہیں۔ اس دوران معاشرتی تربیت کے حوالے سے لوگوں اور گھروں میں بہت بڑی تفریق میرے روز مرہ کے مشاہدے کا حصہ ہے۔
چند ایک گھر ہیں جو روز گھر کے سامنے سے گلی میں جھاڑو لگا کر صاف کرتے ہیں۔ کچھ گھر پانی کا چھڑکاؤ بھی کرتے ہیں اور چند ایسے بھی ہیں جو وقتاً فوقتاً گلی کو پانی سے دھوتے بھی ہیں۔ ایسے گھر بھی ہیں جن کے دروازے پہ کھڑا اسی گھر کا گندا پانی اس گھر کے باسیوں کو پائنچے اٹھا کر گھر میں داخل ہونے اور نکلنے پر تو مجبور کرتا ہے مگر صفائی پر مجبور نہیں کر پاتا۔ کئی گھروں کے دروازے کچرا کنڈی کا مستقل منظر پیش کرتے ہیں مگر مکینوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
ایک دو ایسے گھر ہیں جنہوں نے گھر کے سامنے مٹی ڈلوائی اور جتنی ضرورت کی تھی اٹھا لی مگر باقی کو بھول گئے۔ اب وہ مٹی کیچڑ بن کر اور بعد ازاں دھول بن کر لوگوں کی آنکھوں اور سانسوں کو معطر کرتی ہے یا پھر قریبی نالیوں میں گر کر پانی کے بہاؤ کو روک دیتی ہے۔ ایسے بھی گھر ہیں جنہوں نے آدھی گلی بجری یا ریٹ ڈلوا کر بند کر دی اور فوری استعمال نہ ہونے پر اس کو محفوظ بنانے کے لئے بڑی لکڑیاں، اینٹیں یا کانٹے والی جھاڑیاں ساتھ ڈال دیں اور یوں پہلے سے تنگ رستے کو مزید تنگ کر دیا۔
ایسے گھر بھی ہیں جنہوں نے اپنا گھر دھو کر پانی نالی کے بجائے راہ پر چھوڑ دیا۔ اب ان کا گھر تو صاف ہوتا ہے مگر اس کے بدلے لوگ پائنچے اٹھا کر گلی سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے گھر بھی ہیں جنہوں نے چھوٹا سا مکان بنایا اور سیڑھی کے لئے جگہ بھی اپنے مکان کے اندر ہی رکھی بلکہ مزید تھوڑی جگہ چھوڑ کر گلی کو وہاں سے اپنے ظرف کے مطابق اور کشادہ کر دیا۔ ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے بہت بڑا اور اونچا گھر بنایا مگر اس اونچائی تک پہنچنے کے لئے آدھی گلی میں سیڑھی بنا دی یا بہت بڑا قبر نما ریمپ بنا دیا جہاں آتے جاتے لوگ ان کے مدفون ظرف کو خراج تحسین پیش کرتے رہتے ہیں۔
ایسے گھروں کے سامنے سے بھی گزر ہوتا ہے جہاں دوسری نسل بھی جوان ہو گئی مگر ان کا پانی نالیوں تک نہ پہنچ سکا۔ یوں ان گھروں کے سامنے سے گزرتے رستے کو ہی نالی، ندی یا نہر کا درجہ حاصل ہوتا رہا۔ کئی اکلوتے گھروں نے جہاں نالی کا سسٹم موجود نہیں گھر کے سامنے گڑھے بنائے ہوئے ہیں جہاں سے وہ ان گڑھوں سے پانی باقاعدگی سے باہر نکالتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی گھر گڑھے بنا کر ان کو ڈرین کرنا بھول جاتے ہیں اور یوں وہاں سڑک کی خستہ حالی اور راہگیر دونوں ان کے بڑوں کی جان کو رو رہے ہوتے ہیں۔
ہر نیا بننے والا گھر اپنے سامنے موجود سڑک پر اسپیڈ بریکر نقشے کا حصہ سمجھ کر بنا دیتا ہے جو عملاً سپیڈ کے بجائے گاڑی توڑ بریکر ثابت ہوتا ہے۔ گھرکی تعمیر مکمل ہونے تک سیمنٹ اور ریت کی مکسنگ کارپٹ روڈ پر ہونا لازم سمجھی جاتی ہے۔ بعد ازاں مسلسل لگائے رکھے پانی کی وجہ سے سڑک کا وجود تو ختم ہو جاتا ہے مگر اسپیڈ بریکر اور ماشا اللہ لگی تختی والا مکان بہرحال موجود رہتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ مسئلہ میرے گاؤں، میرے لوگوں اور میری سڑک کا ہی نہیں بلکہ میرے ملک کے ہر گاؤں اور اس سے منسلک ہر فرد کا ہے۔ سوک سینس کے اس مسئلے کو جمعہ کے خطبہ سے لے کر سکول کی اسمبلی، اور صوبائی اور قومی اسمبلی تک ڈسکس ہونا چاہیے کہ کیسے ہم سب مل کر ایک دوسرے کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کر کے ایک اچھے مسلمان اور شہری ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں۔


