کیا عمران خان تصادم کی راہ سے باز آچکے؟


عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے شدید معاشی مشکلات کے شکار پاکستان کے اعلی ترین حکام کو مذاکرات کے دوران کچھ بڑے اداروں کی نجکاری کی صلاح دی ہے جو دراصل ایک مطالبہ ہے۔ لگ رہا ہے کہ اب پاکستان کو ہر صورت ان کا یہ مطالبہ ماننا پڑے گا کیونکہ اس کے علاوہ اب کوئی آپشن نہ بچا ہے کیونکہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای سمیت دیگر دوست ممالک اب پاکستان سے قرض کی بجائے سرمایہ کاری کی بات کر رہے ہیں ورنہ ان دوست ممالک کے قرض کی شرائط بھی اب نہایت سخت ہوں گی اور ان کے سود کی شرح بھی خاصی ناروا بوجھ بن کر سامنے آئے گی اور اس کی وجہ سابق حکومت ہے جسے ملک پر جنرل باجوہ، جنرل فیض اور ان کے چند ساتھی جرنیلوں کے علاوہ عدلیہ کی کچھ اہم شخصیات نے ”لانچ“ کیا تھا۔

یہ سب اپنی فیملیوں کے بعد عمران خان کے ”فین کلب“ میں شامل ہو گئے تھے لیکن المیہ ہے کہ ان کے بھیانک تجربے کے سنگین نتائج معصوم عوام کو مہنگائی، لاقانونیت اور اداروں کی تباہی اور ملک کے خلاف نفرت انگیز مہم کی صورت بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ 9 مئی کے گھناؤنے سانحے سے پہلے بھی عمران خان کے پروردہ سوشل میڈیا ٹاؤٹس لسبیلہ کے فوجی شہداء کا احمقانہ اور سفاکانہ انداز میں مذاق اڑا چکے تھے اور 9 مئی کو انہوں نے ریڈ لائن کراس کی اور ملک کے فوجی ہیڈکوارٹر پر بھی چڑھ دوڑے جو کہ طالبان کے بعد کسی بھی گروہ کا دوسرا بڑا حملہ تھا لیکن وہ ایک دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھنے والے تھے مگر تحریک انصاف نے ایک سیاسی جماعت ہوتے ہوئے یہ قبیح حرکت کی اور یہاں ہی نہیں رکے بلکہ کورکمانڈر ہاؤس لاہور کو جلا کر بھسم کر دیا اور میانوالی میں شہداء کی یادگاروں تک کی توہین کی گئی جو کہ شاید کبھی کسی دشمن نے بھی نہ سوچا ہو گا مگر تحریک انصاف نے یہ کیا اور فخر سے ان کے انتہا پسند ورکر سوشل میڈیا پر اپنے بلوے کی وڈیوز اپ لوڈ کرتے رہے۔ جتھہ بند ہو کر یاسمین راشد جیسی انتہاپسند عورت گاڑی کی چھت پر بیٹھی کورکمانڈر ہاؤس کی طرف جاتی دکھائی دی اور گیٹ پر موجودگی دیکھنے والے دیکھ رہے تھے اب اگر مکر رہے ہیں تو کیا کسی ہجوم کو کسی گھر کی طرف لے کر جانا درست ہے؟

جب پتا ہو کہ اس ہجوم کا کنٹرول سے باہر ہونا بھی ممکن ہے؟ اور جب ہجوم کنٹرول سے باہر ہو گیا اور اس نے کورکمانڈر ہاؤس میں گھس کر آگ لگائی اور توڑ پھوڑ کی تو کیا اس ہجوم کی قیادت کرنے والے کو معصوم گردانا جاسکتا ہے؟ اور پھر عمران خان خود اداروں اور فوجی جرنیلوں اور اہم عسکری کرداروں کے خلاف میرجعفر، میر صادق، نیوٹرل، جانور، یزید تک کہہ کر نفرت کی آگ دہکاتا رہا تھا تو کیا اس کے فدائین نے بھڑکنا نہیں تھا؟ اشتعال میں آ کر نفرت انگیز مہم کے زیراثر توڑ پھوڑ نہیں کرنی تھی؟ آگ نہیں لگانی تھی؟ توہین نہیں کرنی تھی؟ فوجی یونیفارم کو ڈنڈوں پر توہین آمیز انداز میں نہیں لہرانا تھا؟ پھر خود عمران خان نے عدالت میں بیٹھ کر جج کے 9 مئی کے سانحہ کی مذمت کے مطالبے پر کہا
”میں کون سا وہاں موجود تھا، میں تو گرفتار تھا“
اور پھر ساتھ ہی کہا
”اگر مجھے دوبارہ گرفتار کیا گیا تو پھر ایسا ہی ردعمل آئے گا“

اس جملے سے ساری وضاحت ہوجاتی ہے کہ دراصل عسکری اداروں کی عمارتوں اور یادگاروں پر چڑھ دوڑنے والے ہندوستانی اور اسرائیلی نہیں بلکہ عمران خان کے اندھے پیروکار تھے اور پاکستان سے عمران خان کی نفرت سب کے سامنے ہے کہ اس نے بالکل اپنے پیارے ڈکٹیٹر مشرف کا سا منفی کردار ادا کیا کہ جو جب تک اقتدار میں رہا، ”سب سے پہلے پاکستان“ کی باتیں کرتا رہا اور جب اقتدار سے اترنے لگا تو قوم سے آخری خطاب میں کہنے لگا
”پاکستان کا خدا ہی حافظ“

ہم نے دیکھا کہ عمران خان نے اقتدار پھسلتا دیکھ کر پاکستان کر سری لنکا بنانے کی چالیں چلنا شروع کر دیں اور اپنے وزیراعظم شوکت عزیز سے کے پی کے اور پنجاب کے وزرائے خزانہ کو فون کالز کروائیں کہ
”آئی ایم ایف ڈیل سے نکلنے کا اعلان کردو اور آئی ایم ایف حکام کو اس حوالے سے خط لکھ دو“

اس پر پنجاب کے وزیرخزانہ نے جواب میں پاکستان کو نقصان پہنچنے کی بات کی تو شوکت ترین نے سفاکانہ اور لاپرواہانہ انداز میں جواب دیا
”پاکستان کو نقصان پہنچتا ہے تو پہنچنے دو“
(یہ آڈیو کال لیک ہو چکی اور کسی نے اس کی تردید نہ کی ہے )
اور ممتاز کالم نگار رؤف کلاسرا شوکت ترین کی اس آڈیو کال بارے کہہ چکے ہیں کہ۔
” شوکت ترین شکر کریں کہ وہ چین کے شہری نہیں ہیں ورنہ ایسی آڈیو کال لیک ہونے کے بعد انہیں پھانسی ہو جانی تھی“

لیکن کیا عمران خان ملک کو نقصان پہنچانے کی اپنی مذموم سے باز آ گئے ہیں؟ جی نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ وہ اور بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے آئی ایم ایف کو ایک خط لکھ کر پاکستان کو قرض دینے کے لیے سخت شرائط عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ ملک دشمنی ہے۔ ایک سابق وزیراعظم کی طرف سے آئین شکنی بھی ہے۔ آئی ایم ایف نے عمران کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مطالبے کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز قرار دیا ہے کہ ادارہ صرف مالیاتی امور ہی دیکھتا ہے۔ ملکوں کے سیاسی معاملات سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔ فرض کیے لیتے ہیں کہ آئی ایم ایف عمران خان کی بات مان لیتا تو کیا ہوتا؟

یقینی طور پر اس کے ”اثرات بد“ صرف پاکستانی عوام ہی پر نازل ہوتے اور برطانیہ میں مقیم عمران خان کے برطانوی شہریت یافتہ شہزادے سلمان اور قاسم پر مہنگائی اور دیگر اثرات بد بالکل بھی نہ پڑتے، تو کیا عمران خان پاکستانی عوام سے کسی قسم کا انتقام لینا چاہتے ہیں؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ عوام پر برہم ہیں کیونکہ وہ اپنی گرفتاری کی صورت میں ترکیہ کے عوام کی طرح عوام سے نکلنے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن عوام نے ان کی بالکل بھی نہ مانی اور وہ نہ صرف عام سے پاکستانی کی طرح گرفتار کر لیے گئے بلکہ انہیں سزا پہ سزا ہو رہی ہے۔ وہ اڈیالہ جیل میں بند ہوچکے اور 30 سال تک کی سزائیں ان کا مقدر بن چکی ہیں۔

ساری زندگی ایک ہیرو اور شہزادے کی طرح گزارنے والے شخص کے لیے یہ صورت حال قطعاً بھی قابل برداشت نہ ہے۔ اسی پریشانی اور ٹینشن میں عمران خان جو جیل میں بند دوسروں سیاسی مخالفین کے اے سی اتروانے کی دھمکیاں دیا کرتا تھا، ان سے ایک عام سے مجرم کے برتاؤ کرنے کا حکم دیا کرتا تھا، کبھی اپنی بیرک کو دیواریں تڑوا کر کھلا کرواتا ہے، کبھی ورزش کے لیے سائیکل منگواتا ہے، کبھی باتھ روم کی دیوار اونچی اور یورپین کموڈ کے مطالبے کرتا ہے۔ کبھی ہوادار جگہ اور گھر کے کھانوں کی خواہش کرتا ہے۔ کبھی اپنے لیے مشقتی مانگتا اور ججز سے بیٹوں سے فون پر بات کروانے کی اپیلیں کرتا ہوا ملتا ہے۔ جب اس کے وکیلوں سے لوگ کہتے ہیں کہ
”کل عمران خان دوسروں کے اے سی اتروانے کی دھمکیاں دیا کرتا تھا۔ اب خود وہی سہولتیں مانگ رہا ہے“
تو وہ دھیرے سے کہتے ہیں
”بطور سابق وزیراعظم یہ سہولتیں عمران خان کا حق ہیں“

اور جب کہا جاتا ہے کہ نواز شریف بھی تو سابق وزیراعظم تھے؟
تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے کی بجائے ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ”
اس وقت عمران خان غلط کہا کرتا تھا ”
یعنی اپنی باری آئے اور اپنا مطلب ہو تو جتنا ڈھیٹ بن سکتے ہو بن جاؤ،

بہرحال عمران خان کا اس وقت واحد ایجنڈا۔ ملک میں نوجوان نسل میں اداروں کے خلاف نفرت بھڑکانا ہے۔ اداروں کو کمزور کرنا اور اہم سیاسی و فوجی شخصیات کو دنیا بھر میں بدنام کرنا ہے۔ ملک کے آرمی چیف کے خلاف اس کے حامی یوٹیوبرز جو کچھ کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بیٹھا دو نمبر کردار شہبازگل جو شرانگیز گفتگو کر رہا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ابھی حال ہی میں شہباز گل نے تحریک انصاف کی قیادت کے اشاروں پر آئی ایم ایف کے آفس کے باہر جس مظاہرے کی قیادت کی ہے اس میں سیاسی و عسکری شخصیات کے خلاف پلے کارڈز سب دیکھ چکے اور ان کے نعرے بھی سن چکے اور جو مصالحت کی باتیں کر رہے ہیں ان کو ابھی پرسوں ہی شہید ہونے والے لیفٹینینٹ کرنل کاشف اور کیپٹن محمد احمد اور دیگر فوجی شہداء کے خلاف عمران خان کے حامی سوشل میڈیا کارٹونوں کی غلیظ مہم سے اندازہ ہوجانا چاہیے کہ ملک اور اس کے اداروں سے نفرت میں عمران خان کتنا آگے بڑھ چکا ہے۔

پھر بھی کسی کو یقین نہ آئے تو وہ سینیٹ کے لیے عمران خان کے نامزد ناموں کی لسٹ دیکھ لے جس میں 9 مئی کے ملوث ملزمان ڈاکٹر یاسمین راشد، مراد سعید اور صنم جاوید وغیرہ سب سے آگے موجود ہیں۔ اعظم سواتی جیسے کردار بھی افواج پاکستان کے آرمی چیف تک پر حملے کرتے رہے ہیں۔ یہ بات صاف بتا رہی ہے کہ عمران خان تصادم کی کھلی راہ اختیار کرچکے ہیں۔ اسی بیانیے کو وہ آگے بھی لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کے ایسوں فیصلوں کے ”کچھ نتائج“ بھی ہوں گے جو کہ نہ صرف انہیں بلکہ ان کی پارٹی کو بھی بھگتنے پڑ سکتے ہیں کیونکہ ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھر کو تو نہیں بیٹھے رہ سکتے ہیں۔

پھر یہ تو ایک عام سا کلیہ ہے کہ ہر عمل کا ایک ردعمل بھی ہوتا ہے۔ ادارے کھلے لفظوں میں بتا چکے ہیں کہ اب کسی بھی 9 مئی کو برداشت نہیں کیا جائے گا لیکن لگتا ہے کہ عمران خان اور اس کے فدائین کی قوت سماعت خاصی کمزور ہو چکی ہے۔ انہیں یادداشت کا بھی سنگین مسئلہ درپیش ہے لیکن کیا وہ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ اس وقت ملک کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف؟

آخری بات صرف یہ کہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اکڑ اب تک صرف اس لیے قائم ہے کہ اب بھی اس سے لاڈلے والا سلوک ہو رہا ہے۔ اگر اس سے جیل میں دی گئی شاہانہ سہولیات واپس لے لی جائیں اور عام قیدیوں کی طرح رکھا جائے تو اس کی اکڑ دو منٹوں میں ختم ہو سکتی ہے کہ یہ کہاں ہوتا ہے کہ ایک چوری کے جرم میں قید شخص کی فرمائش پر اس کی بیرک وسیع و عریض کردی جائے، اسے سائیکل فراہم کردی جائے، گھر سے دیسی کھانے آنے دیے جائیں اور جب چاہے بیٹوں سے فون پر بات کر وادی جائے۔

ایسا شاہانہ سلوک تو کسی عام سے قیدی کو بھی ”چوڑا“ کر سکتا ہے، عمران خان تو پھر جماندرو لاڈلا ہے، اس کا پہلے لاڈلا پن تو ختم کرو تاکہ وہ اپنی اوقات میں آئے کہ اس کا بہنوئی حفیظ خان نیازی بتا چکا کہ جب عدلیہ بحالی تحریک کے دوران عمران خان پکڑا گیا اور ہم جیل اس سے ملنے گئے تو وہ چلا اٹھا تھا کہ ”مجھے یہاں سے فوراً نکالو، رات کو مچھر تنگ کرتے ہیں“
اور پھر جنرل مشرف بھی بتاتا تھا کہ مجھے دھڑادھڑ سفارشیں آنے لگ گئی تھیں کہ ”عمران کو چھوڑ دیں پلیز“

اور دو دن ہی میں اس کی ساری اکڑ جاتی رہی تھی اور اب بھی رانا ثناءاللہ درست کہتا ہے کہ جیسے ہمیں اس کے دور میں جیل کی موت والی کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا کہ نہ سو سکتے تھے اور نہ ہی کھڑے ہوسکتے تھے تو اسے بھی دو دن ایسی ہی کوٹھڑی میں رکھو ذرا، ساری اکڑ غائب ہو جائے گی اور انسان کا بچہ بن جائے گا لیکن ایسا تو تب ہو نا جب اس کے مقامی اور عالمی سہولت کار اس سے ہاتھ اٹھائیں؟

Facebook Comments HS