شہباز شریف اور کابینہ کا یوٹیلیٹی سٹور میں کامیاب فوٹو شوٹ
شہباز شریف صاحب نے بحیثیت وزیر اعظم پاکستان حلف اٹھایا اور دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ملک میں دودھ، دہی اور اولاد کی وہی نہریں بہہ رہی ہیں جو وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ اس وقت کی طرح اب بھی انصاف کا بول بالا ہے اور یہی بات ہمیں بتانے کے لیے ججوں نے لاؤڈ سپیکرز باندھ رکھے ہیں۔ پہلے کی طرح ملک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ پولیس کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے اور انکم ٹیکس جیسے اداروں میں کام کرنے والے لوگ کمال مہارت سے اپنا خیال خود رکھتے ہیں۔ اب بھی پہلے کی طرح پاکستان کی معیشت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور امیر ممالک ہمیں دیوالیہ سے بچانے کے لیے چھپن چھپائی کھیلتے رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک حل پہلے صرف جماعت اسلامی تھا اور اب صرف ٹی ایل پی ہے۔ داتا صاحب کے لنگر کی مثال روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
شہباز شریف نے وزیر اعظم بن کر دیکھا کہ سول بیوروکریسی قائد اعظم کے فرمان کے عین مطابق قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ ہماری بیوروکریسی کی اصلی طاقت اب بھی پٹواری، ایس ایچ اوز اور ریڈ ٹیپ ہیں۔ ان تینوں کی موجودگی میں انہیں صرف فرنٹ مین کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیوروکریٹس میچور لوگ ہوتے ہیں، اپنے اثاثوں کی تشہیر نہیں چاہتے۔ وزیر اعظم کو یہ بھی خوب علم ہے کہ ہمارے سینئر بیوروکریٹس ڈرتے ورتے کسی سے نہیں سوائے فوجیوں، مولویوں اور خفیہ کیمروں کے۔
شہباز شریف صاحب حلف اٹھا کر جب دفتر پہنچے تو انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک میں تعلیم عام ہے اور معیار بہت اچھا ہے۔ تعلیم کے میدان میں مزید ترقی تیزی سے جاری ہے۔ سکول جانے کی عمر کے بچوں کی سکولوں سے باہر تعداد دو کروڑ پچیس لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ ساٹھ لاکھ ہو گئی ہے۔ پہلے کی طرح اب کوئی یونیورسٹی کسی قابل ذکر لسٹ کا حصہ نہیں ہے۔ یونیورسٹی سمیت ہمارے تعلیمی اداروں کا ایک طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ مدرسوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ جہالت کا اعلی معیار برقرار رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم صاحب کو یہ بھی خوب علم ہے کہ ملک میں صحت کا نظام بہت شاندار ہے، بس بیمار شخص کے پاس پیسے اور یورپ کا ویزہ ہونا چاہیے۔ اگر ان دو چیزوں کی کمی ہے تو پھر معذرت۔ ہم مانگے تانگے کے ڈالروں سے دوائیاں مہیا نہیں کر سکتے۔ ہم نے قرضوں کی قسطیں واپس کرنی ہیں اور بندوقیں خریدنی ہیں۔ پیسے اور ویزے کی عدم موجودگی میں درد ہی جیون ساتھ ہے، گھٹنے کا ہو یا دل کا۔
شہباز شریف کی آنکھ وزیر اعظم ہاؤس میں کھلی تو رب کا شکر ادا کیا کہ ابا کی دعائیں پوری ہوئیں اور زندگی کا مقصد تو تقریباً پورا ہو گیا ہے۔ بس تھوڑی کمی رہ گئی کہ حمزہ پنجاب کا وزیر اعلی نہیں ہے۔ پورے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں یہی ایک کمی باقی رہ گئی ہے۔
کچن کابینہ جو کہ حافظ صاحب نے خاص طور پر چن کر بھیجی ہے، آ گئی۔ سب نے مل کر سوچا کرنے کو تو کچھ بھی نہیں۔ بور ہونے کی بجائے یوٹیلٹی سٹور کا سرپرائز وزٹ کیا جائے۔
خفیہ اداروں کے چیف حاضر ہو گئے۔ انہوں بتایا کہ یوٹیلٹی سٹور کو بالکل تیار کر دیا گیا ہے۔ عملہ اور گاہک سب کی ریہرسل کرا دی گئی ہے۔ یہ لوگ ویسے بھی کئی سرپرائز وزٹ بھگت چکے ہیں اس لیے تمام شو بغیر کسی غلطی کے ہو گا۔
شہباز شریف اور کابینہ اٹھے اور یوٹیلٹی سٹور کا کامیاب دورہ کیا۔ فوٹو بنوائے۔ ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو وہ بھی حل ہوا۔ ایک اور دن بغیر بوریت کے گزر گیا۔


