غزہ میں جاری اسرائیلی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی


میں ان فلسطینیوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں جو ان دنوں ظالمانہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے وحشیانہ حملے کی زد میں ہیں۔ جن کا قتل عام اسرائیلی ظالم فوج کے ہاتھوں گزشتہ آٹھ دہائیوں سے مسلسل ہو رہا ہے۔ قابض اسرائیلی طاقت اور بین الاقوامی حامیوں خصوصاً امریکہ و برطانیہ کی شہ پر تقریباً پورے فلسطین پر قبضہ جما کر یہاں سے عربوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے درپے ہے۔

قارئین کرام غزہ میں موجودہ صورت حال کے بعد اب یہ دو ملکوں کے درمیان جنگ نہیں رہی بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کا نوحہ بن گئی ہے جو پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کے تحت اب فلسطینیوں کی نسل کشی میں بدل چکی ہے۔ دنیا کو اب غزہ میں فلسطینیوں کے زندہ رہنے اور ان کے سانس لینے کے حوالے سے دیکھنا ہو گا جو کہ اب دن بدن اسرائیلی بمباری سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

7 اکتوبر سے جاری اس یک طرفہ جنگ میں اب تک غزہ میں 12 ہزار بچے مارے جا چکے ہیں، اور یہ بچے ٹین ایجرز نہیں ہیں میں یہاں 6 سال، 5 سال، 4 سال، اور یہاں تک کہ 2 سال سے چھوٹے بچوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ اس وقت جب ہم بات کر رہے ہیں تو نوزائیدہ بچوں سمیت ہزاروں بچے موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ یہ وحشیانہ عمل کسی بھی مہذب قوم یا فرد کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

غزہ میں جاری حالیہ کشیدگی میں سفاک قاتل اسرائیلی فوج کی طرف سے اب تک مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد عام فلسطینی شہری شہید کر دیے گئے ہیں اور 70 ہزار لوگ بری طرح زخمی ہو چکے ہیں اور یہ کل آبادی کا 4.5 فیصد ہے۔ یعنی غزہ کی 4.5 فیصد آبادی ماری جا چکی ہے یا زخمی حالت میں ہے۔ قارئین کرام اگر آپ پاکستان کی 4.5 فیصد آبادی کی بات کریں تو یہ ایک کروڑ سے زائد افراد بنتے ہیں۔ کیا ایک کروڑ افراد کا قتل یا زخمی کر دیا جانا آپ کے لیے قابل قبول ہو گا؟

غزہ ایک ایسا بدقسمت جنگ زدہ علاقہ بن چکا ہے جس کی کوئی عمارت سلامت نہیں بچی چاہے وہ کوئی ہسپتال ہے یا اسکول وہ اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں ہے۔ اس خوفناک بمباری کی وجہ سے غزہ میں پچاس ہزار حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش کے لیے محفوظ جگہ نہیں مل پا رہی، پینسٹھ ہزار خواتین ایسی ہیں جو خوراک کی کمی خصوصاً دودھ اور آٹے کی قلت کے باعث اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتیں۔ یہی نہیں بلکہ 7 لاکھ افراد انتہائی غذائی قلت کی وجہ سے مسلسل بڑھتی بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں ستر فیصد سے زائد گھر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ تمام یونیورسٹیاں اور کالجز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ پانچ سو سے زائد اسکولز، تین سو سے زائد مساجد اور 3 چرچ بشمول دنیا کے ایک قدیم ترین گرجا گھر کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے، 36 ہسپتالوں میں سے 30 ہسپتال مکمل طور پر بمباری سے تباہ ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی ائر اسٹرائیکس پرائیویٹ گاڑیوں، ایمبولینسز، رہائشی علاقوں حتی کہ بازاروں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔ کھڑی فصلیں اور کھیتوں کو فوجی ٹینکوں سے روند دیا گیا ہے، دکانیں و کاروباری منڈیوں پر بلڈوزر چڑھا دیے گئے ہیں، خصوصاً شمالی غزہ میں سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ یہ جنگ دو فوجوں کی جنگ نہیں رہی یہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین سے دستبردار نا ہونے کی اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ اسرائیل اب غزہ کے پورے خطے پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔

اقوام عالم کی تنظیمات چاہے وہ اقوام متحدہ ہو یا اسلامی کانفرنس، سلامتی کونسل ہو یا عالمی عدالت انصاف سب عضو معطل بن کر رہ چکے ہیں۔ اگر دنیا اس انسانی المیے کو مزید بڑھنے سے روکنے میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے اسرائیل کی طرف سے بمباری کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنانے کو فوری روکنا ہے۔

مستقل امن کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام۔ فلسطینی عوام اپنے اسی بنیادی حقوق اور اپنی آزادی کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اسرائیل اسے دہشت گردی قرار دے رہا ہے جو کہ قابل قبول نہیں ہے۔

اگر فلسطینی دہشت گرد ہیں تو ہم جارج واشنگٹن کے بارے میں کیا کہیں گے؟ امریکہ کی آزادی کے لیے لڑنے کی وجہ سے ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ نیلسن منڈیلا جو بہت عرصے سے امریکی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھے، مارٹن لوتھر کنگ جن پر نسل پرستوں نے دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا تھا اور شن فین پارٹی جس پر آئرلینڈ کی آزادی کی جدوجہد کی وجہ سے دہشت گرد ہونے کا الزام بھی تھا۔

اسی طرح دنیا کو سمجھنا ہو گا، فلسطینی عوام بھی اپنے اسی حق کو حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے جسے وہ مکمل طور پر قانونی سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی آزادی واپس حاصل کرنے اور اپنے وطن پر ناجائز اسرائیلی قبضے سے چھٹکارا پانے اور صیہونی جبر سے آزاد ہونے کے لیے دنیا کی بدترین قاتل فوج سے برسرپیکار ہے۔

قرائن کرام پانچ ماہ سے جاری خوفناک جنگ میں اسرائیل بیک وقت تین طرح کے جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے جن میں فلسطینیوں کی نسل کشی، انہیں غزہ نا چھوڑنے کی مجموعی سزا اور پھر غزہ کا بدترین محاصرہ تا کہ خوراک اور دوائیوں کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ کسی بھی مذہب اور قومیت سے بالاتر ہو کر کوئی بھی مہذب انسان ان جرائم پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

Facebook Comments HS