سرن جنیوا میں کائنات کے خاتمے کا راز جاننے کا منصوبہ


جینیوا میں واقع یورپین سینٹر فار نیو کلیئر ریسرچ (سرن) میں عنقریب تعمیر ہونے والے ایٹم سمیشر سے پتہ لگایا جا سکے گا کہ ہماری دنیا کیسے ختم ہوگی۔ نیز اس کی تعمیر سے یہ بھی پتہ لگا یا جا سکے گا کہ ہگز بوسان کی اصلی نوعیت کیا ہے۔ اس کا اعلان فروری 2024 کے شروع میں دنیا کی سب سے ممتاز ریسرچ لیبارٹری کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا پارٹیکل ایکسل لیٹر ہو گا جو مالیکیولز کو قریب روشنی کی رفتار پر آپس میں ٹکرا سکے گا۔ اس سپر کولائیڈر کی تعمیر کا پہلا مرحلہ 2045 میں مکمل ہو گا۔

یہ ایکسل لیٹرفرانس اور سوٹزر لینڈ کے زیر زمین 91 کلو میٹر لمبا انگوٹھی کی طرح گول دائرے کی شکل میں سرنگ ہو گا۔ یعنی یہ سائز میں لا رج ہیڈران کولائیڈر ( 27 کلو میٹر لمبا) سے تین گنا زیادہ لمبا ہو گا۔ نیز یہ ایل ایچ سی سے آٹھ گنا زیادہ طاقتور ہو گا۔ اس نئی مشین کا نام فیوچر سرکولر کولائیڈر ہو گا جس میں سائنسدان پارٹیکلز کو زیادہ صحت  اور ہائی انرجی سے سمیش کر سکیں گے جو اس سے پہلے ممکن نہیں ہو سکا تھا۔

اس نئی مہنگی ترین مشین کے ذریعہ سائنسدان کائنات کی چند گنجلک لا ینحل گتھیوں کو سلجھا سکیں گے 1 ) جیسے کائنات میں میٹر (مادہ) سے زیادہ اینٹی میٹر کیوں ہے؟ 2 ) ڈارک میٹر اور انرجی کس چیز سے بنے ہوئے ہیں؟ 3 ) کیا کائنات میں مخفی اور بھی ابعاد ( ایکسٹرا ڈائی مینشن ) ہیں؟ 4 ) اور یہ کہ کائنات ختم کیسے ہوگی؟ سو پر سیمٹری، ایکسڑا ڈائی میشنز، اینٹی میٹر سیمٹری کیا ہیں؟

پارٹیکل فزکس کی فنڈامینٹل تھیوری یعنی سٹینڈرڈ ماڈل آف فزکس یہ بیان کر نے میں نا کام رہا ہے کہ پارٹیکلز کی جو کمیت (ماسز) ہے وہ کیوں ہے؟ بنیادی قوتوں کی جو طاقت (سٹرینٹھ ) ہے وہ کیوں ہے؟ اور طرفہ یہ کہ تھیوری ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی پر اسرار نوعیت کی وضاحت نہیں کرتی جو کہ کائنات کی ماس انرجی کا 95 % فی صد حصہ ہے۔ نیوٹرینو کا حجم کیا ہے؟

طبیعات دانوں کے لئے سٹینڈرڈ ماڈل اس لحاظ سے بہت عمدہ اور فائدہ مند ہے کہ یہ تجربات میں ہونیوالے مشاہدات کی پیش گوئیاں کر سکتا جو طبیعات دانوں کو مجبور کر تا کہ وہ ڈیپر تھیوری کی طرف ملنے والے اشاروں کو تلاش کریں جو in the nth decimal place of their measurements ہوتے ہیں۔ نیا ایکسل لیٹر یعنی ایف سی سی اس تلاش میں بہت سود مند ہتھیار ہو گا۔

اگر سرن کو نسل اس پراجیکٹ کی منظوری دے دے تو اس کی تعمیر کا کام 2030 کی دہائی کے درمیانی حصے میں شروع ہو جائے گا۔ اور 2045 تک اس کا پہلا مرحلہ آپریشنل ہو جائے گا۔ ریسرچ کا دوسرا مرحلہ 2070 میں شروع ہو گا۔ یعنی یہ سائنسی مہم (ملٹی جنریشنل ) متعدد نسلوں میں مکمل ہو سکے گی۔ اس پراجیکٹ پر 17 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔

اس وقت لارج ہیڈران کولائیڈر میں انرجیز کو (TeV) 14 teraelectronvolts پر متصادم کیا جا سکتا ہے مگر ایف سی سی میں انرجیز کو اس سے سات گنا زیادہ پر متصادم کیا جا سکے گا۔ یہ بہت حیران کن چیز ہے۔

ایف سی سی شروع میں الیکٹرونز اور اس کے انٹی میٹر یعنی پوزیٹران کو اس طور سے متصادم کرے گا کہ ملین در ملین ہگز بو سان کو جنم دیا

جا سکے۔ سرن کے نظری طبیعات دان میتھیو میکلو کا کہنا ہے یہ ایک قسم کی ہگز فیکٹری ہو گی کیونکہ یہ ملین در ملین کی تعداد میں ہگز بوسان پیدا کر ے گا۔ چونکہ یہ ایک الیکٹرونز پوزیٹران کولائیڈر ہو گا اس لئے ہم ہگز بوسان کی تفصیل باریک بینی سے جان سکیں گے۔

ہگز بوزان ایسا پارٹیکل ہے جو ہگز فیلڈ پر مشتمل ہوتا، اور جو پوری وسیع کائنات میں پھیلا ہوا ہے نیز یہ پارٹیکلز کو حجم مہیا کرتا ہے۔ جب آپ چائے کی پیالے کو اٹھاتے ہیں تو یہ چائے کا ٹھوس پیالہ اس لئے محسوس ہوتا کیونکہ ہگز فیلڈ اس پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ہگز بوزان کی دریافت لارج ہیڈران کولائیڈر میں 4 جولائی 2012 کو ہوئی تھی۔ پچھلے بارہ سالوں میں سائنسداں اس کو مزید جاننے کی کوشش میں ہیں۔