ریموٹ کنٹرول گدھا


پچھلے ہفتے گاؤں سے اطلاع آئی کے فضلو چاچا چل بسے ہیں۔ اس خبر کو سنتے ہی مجھے پہلا خیال چاچا کے گدھے کا آیا کہ اب اس کا کیا بنے گا؟ فضلو چاچا ہمارے گاؤں کے کمہار تھے۔ بیوی جوانی میں ہی چل بسی تھی۔ ایک بیٹی تھی جو بیاہی جا چکی تھی۔ فضلو چاچا کا اب اپنے گدھے کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ چاچا کی ٹانگ ایک حادثے میں ضائع ہو گئی تھی اور نظر بھی کمزور ہو چکی تھی۔ لیکن چونکہ ان کو برتن بنانے سے پیار تھا تو صبح سویرے اپنی دکان پر گدھے پر سوار ہو کر پہنچ جاتے۔

چاچا کا گدھا بھی کیا کمال کا گدھا تھا۔ کئی بار تو ہمیں یہ گمان ہوتا کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے چلتا ہے۔ چاہے گرمیوں کی چلچلاتی دھوپ ہو یا جاڑوں کی یخ بستہ سردی، مجال ہے جو کبھی اس کی روٹین میں فرق آتا ہو۔ چاچا کو پک اینڈ ڈراپ سروس دینے کے علاوہ بیسیؤں ایسے کام تھے جو وہ بغیر کسی آرڈر کے سر انجام دیتا۔ جن میں مٹی لانا، پانی ڈھونا، اور دائرے میں گول گول چکر کاٹ کر برتن بنانے والا پہیہ گھمانا تھا۔ ہم پچھلے کئی سالوں سے اس کی یہی روٹین دیکھ رہے تھے۔

کبھی کبھار مجھے چاچا کے گدھے اور اپنے سمیت اس ملک کے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے لائف سٹائل میں کوئی خاص فرق نظر نہیں اتا ہے۔ کتنے ہی سالوں سے ایک لگی بندھی رو ٹین کے ساتھ عبادت کے نام پر ہماری نمازیں ادا ہو رہی ہیں۔ لیکن من حیث القوم ہماری عادتوں میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں ارہی۔ گالی گلوچ، جھوٹ، ریاکاری، خیانت، فساد، چوری، حسد، غیبت کا کلچر ایک نارمل بات ہے۔ ہر سال کتنا ہی پیسہ زکوٰۃ کی مد میں سرکولیٹ ہوتا ہے۔

لیکن غربت کا لیول دن بدن اسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہمارے ہاں سے ہر سال حج پر جاتے ہیں۔ اور لاکھوں کی تعداد میں جو کر کے ا چکے ہیں اس لحاظ سے تو یہ ملک اب تک پوتر ہو جانا چاہیے تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک عام انسان سے لے کر اشرافیہ تک سبھی اس حمام میں ننگے دکھائی دیتے ہیں۔ کتنے ہی قرآن روزانہ کی بنیاد پر ہمارے ملک میں پڑھے جاتے ہیں۔ خاص طور پر رمضان میں ان کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

لیکن پھر بھی کیا وجہ ہے کہ روز مرہ کے معاملات میں اس کے اثرات کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ کرپشن کی دوڑ میں ہم سب سے اگے، رشوت کے نت نئے سٹائل ہم ایجاد کر چکے۔ سود ویسے ہی جونک کی طرح ہمارا خون چوس رہا ہے۔ چور بازاری کا ہر جدید طریقہ ہم مارکیٹ میں لے آئے۔ جنسی بے راہ روی میں قوم لوط کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ رمضان میں مومنین کی تعداد دیکھ کر گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید اب شیطان کا باہر گزارہ مشکل ہو گا۔ لیکن یہاں رمضان ختم ہوا نہیں ادھر شیطان کھٹاک سے باہر۔

ترقی میں ہم کسی سے مقابلہ کریں نہ کریں لیکن دھوکا دہی میں الحمدللہ بڑے سے بڑا ملک بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ہر سیدھا کام بھی ٹیڑھے طریقے سے کرنا اس قوم کا وتیرہ بن چکا ہے۔ سالوں سے سب عبادات ایک سیٹ روٹین کے ساتھ ادا ہو رہی ہیں۔ لیکن کیونکہ ان کا مقصد ہی سمجھنے سے قاصر ہیں لہذا عادتیں ویسی کی ویسی۔ عبادت اور عادت کی اس انکھ مچولی میں جو انسانیت اور مسلمانیت کا اصل مقصد تھا وہ تو کہیں بہت پیچھے رہ گیا۔ اللہ نے تو ہمیں بہترین امت کے رتبے پر سرفراز کیا تھا مگر ہم بد نصیب فضلو چاچا کے ریموٹ کنٹرول والے گدھے کی طرح ایک ریموٹ کنٹرول مسلمان بن کر رہ گئے۔

تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو۔

 

Facebook Comments HS