انقلاب زندہ باد
ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم بنیادی طور پر ایک غلام ذہن قوم ہیں نسل در نسل غلام رہنے کی وجہ سے ہم آزادی کا مطلب تک بھول چکے ہیں آج بھی ہماری پشت پر جیسے غلام ذہنیت کا جھاڑ بندھا ہوا ہے اب تو جیسے ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں یعنی ہمیں آزادی سے ڈر لگتا ہے جب غلاموں کو اپنی غلامی سے عشق ہو جائے اور زمینی آقا سے محبت ہو جائے تو ایسے مریضوں کو سٹاک ہوم سنڈرم کہتے ہیں تبھی تو ہم باؤلوں کی طرح اپنے لیے آقا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور اگر کوئی آقا ہمارے ارد گر نہ ملے تو باہر سے بھی امپورٹ کر لیتے ہیں۔
غلامی پہلے آپ کو اندر سے غلام بناتی ہے اور پھر باہر سے آپ خود بن جاتے ہیں مزید دوسری تیسری نسل تک آپ اپنی شناخت تک بھول جاتے ہیں۔ آپ ذرا غور کر لیں ہمارے ڈرامے، فلمیں، مطالعہ پاکستانی تاریخ، تعلیمی نصاب اور بزرگوں کی بیٹھک نیز ہر جگہ آپ کو یہی سننے، پڑھنے اور دیکھنے کو ملے گا کہ ہم تبریزی، افغانی، شیرازی، شیرانی، وغیرہ ملے گا مطلب سیلف ڈینائل۔ حالانکہ ہم اس انڈس ویلی کے باشندے ہیں اور ہمارا اپنا ایک نہایت امن پسند اور خوشیاں بھرا کلچر ہے لیکن ہم نے اپنی ہر شناخت مذہب سے جوڑی ہے۔
ہمیں اپنی خطے کہ لوگ میں کوئی بہادری نظر ہی نہیں آتی۔ ہم نے اپنے خطہ کے مشاہیر کو مذہب کی بنیاد پر پسند نا پسند کر لیا ہے۔ حالانکہ ہماری تہذیب دنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے ایک ہے لیکن ہم تو اس کو سرے سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم وہ واحد قوم ہیں جنہیں مذہب کے نام پر سب سے زیادہ لوٹا گیا۔ کبھی عربی کلچر کو اپنایا تو کبھی ایرانی عبایہ زیب تن کیا اور تو اور ہر رمضان کھجوریں اس وجہ سے کم پڑھ جاتی ہیں کہ اس سے روزہ کھولنا ثواب ہے۔
یعنی کبھی ترکش کلچر پر نعرہ تکبیر بلند کیا تو کبھی عراق کے لیے آنسو بہائے حیرت یہ کہ ایسا سب کچھ باقی مسلم ممالک میں کیوں نہیں؟ حال ہمارا یہ ہے کہ کبھی دلے بھٹی کو نظام دین کو ڈاکو سمجھا تو کبھی بہرام کو ولن بنا کے پیش کیا۔ غزنیوں اور مغلوں کو اپنا مائی بات سمجھنے والے آج محمد بن قاسم جیسی شخصیت کو محض مذہب کی بنیاد پر ہیرو سمجھنے بھی مصر ہو گئے۔
مطلب اتنی لمبی تمہید کا مطلب کے اہم نے اپنی تاریخ کو بری طرح زخمی بلکہ چھلنی کر دیا ہے جس میں بھگت سنگھ جیسے انقلابی اور سر گنگا رام جیسے جدید لاہور کے بانی کو بھلا دیا ہے۔ لالہ لجپت رائے اور رائے محمد کھرل جیسے سورموں کا تاریخ میں نام تک مٹا دیا ہے۔ حالانکہ عربوں، مغلوں، ولنددیزیوں، فرانسیسیوں اور انگریزوں میں کوئی فرق نہیں سب نے ہمارے زمینوں پر قبضہ کیا اور ہمارے لوگوں کو باندھی اور غلام بنایا لیکن ہم نے اپنے اپنے پسند کے آقا چننے اور اپنی اپنی تاریخ میں ان کے مجسمے بنا کر پوچھنا شروع کر دیا اور دھرتی کے اصل وارثوں کو فتویٰ بازی کی نظر کر دیا۔ شیر شاہ سوری یا محمود غزنوی کب سے ہمارے ہیرو بن گئے۔ یہ تو محض قابضین اور فاتحین تھے اس سے زیادہ انہیں کیا کہا جاسکتا ہے۔ ان لوگوں نے ہمارے اوپر کیا احسان ہے، ان کا ہماری سر زمین کے لیے کیا کنٹریبیوشن تھا؟ جواب کچھ بھی نہیں۔
بچپن سے اگر جھوٹ کی عادت پڑ جائے تو عمر بھر سچ فضول لگتا ہے اور یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ ہمارے لیے ملک اور آئین محض کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہمارے لیے نیشلزم صرف چودہ اگست کا دن اور جذبہ حب الوطنی چھ ستمبر تک محدود ہے باقی سب فضول اور کفر۔
آج بھی ہمارے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ملک و قوم کی خاطر جان قربانی کرنے والے غیر مسلم جانثاریوں کو شہید کہا جائے یا ہلاک۔ شادمان چوک جہاں اس دھرتی کے سپوت نے 23 مارچ 1931 ء کو ایک انگریز کے قتل پر سزائے موت پر ہنس کا اپنی جان دی تھی اس کو شہید ماننا اور پنجاب کا ہیرو ماننے پر سرکاری طور پر ہماری زبانیں گنگ کیوں ہو چکی ہے بھگت سنگھ ہماری دھرتی کا سپوت تھا اور آزادی کی لڑائی لڑتے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا یعنی آج شاید ہی کسی بچے کو شہید بھگت سنگھ کا نام بھی معلوم ہو۔
اپنی آنے والی نسلوں کو جب اپنے مشاہیر کا علم ہی نہیں ہو گا تو وہ وہاں ہی جانا پسند کریں گے نہ جہاں سے ہیرو لاکر ہم نے اپنی مغالطہ پاکستان کی جعلی تاریخ میں ٹھونس دیے ہیں، ہمارے لیے اس دھرتی کے سپوت اس لیے ہمارے مشاہیر نہیں کیوں کہ ان کے نام مسلمانوں جیسے نہیں؟ افسوس کی بات۔ مجھے یاد ہے سکول اور کالج کے دور میں ہمارے اساتذہ کرام نہایت منافقت اور معصومیت سے ہمیں مسلمان سائنسدانوں اور اسلامی ہیروز کے بارے میں پڑھاتے وقت غیر مسلم مشاہیر کو مکار اور ظالم قرار دیا کرتے تھے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے وہ کہا کرتے تھے کہ پاک و ہند پر مسلمانوں نے ہزار سال تک حکومت کی ہے جی واقعی یہ سچ ہے لیکن ان ہزار سالوں میں کیا ایسا کیا جو ہمیں مغربی ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔ دور کیا جانا آپ ماضی قریب کی تصاویر ہی نکال کر دیکھ لیں ہم خوبصورتی سے بدصورتی طرف ہی گئے ہیں وہ پھر راولپنڈی ہو یا لاہور ہو، چاہے کوئٹہ ہو یا کراچی وہ پرانی تصاویر دیکھ کر حیرت ہی ہوتی ہے کہ کبھی ہمارے شہر کتنے خوبصورت ہوا کرتے تھے۔ واقعی ہم نے ظلم کیا ہے ہم نے غلامی سے آزادی تک کا سفر نہیں بلکہ آزادی سے غلامی تک سفر کیا ہے جس پر غور کرتے شرم آتی ہے۔ کاش ہم سچ لکھنا، سننا اور بولنا شروع کر دیں بغیر کسی تعصب کے۔ بھگت سنگھ زندہ بعد اور انقلاب زندہ باد۔


