یورپ پر تارکین وطن کا بوجھ؟


انسانوں کے آباؤ اجداد نے افریقہ سے 20 لاکھ سال قبل ہجرت کے جس سفر کا آغاز کیا تھا وہ پوری دنیا میں آج تک جاری ہے۔ ورلڈ امیگریشن رپورٹ کے مطابق 2010 میں بین الاقوامی تارکین وطن کی تعداد 22 کروڑ تھی جو 2021 میں % 27 بڑھ کر 28 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ تارکین وطن امریکا، جرمنی اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ یورپ میں بیرونی ملکوں سے آنے والوں کی تعداد میں 20 ویں صدی کے وسط سے اضافہ ہونے لگا اور 2015۔

2016 کے دوران اس میں غیر معمولی تیزی آ گئی۔ اس مدت کے دوران بحر روم کے راستے 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین یورپ میں داخل ہوئے جن میں سے اکثریت شامی، افغان اور عراقی تھے جن کے ملک ہولناک خانہ جنگی کا شکار تھے۔ ان میں سے تقریباً تمام ہی مذہبی اعتبار سے مسلمان تھے۔ المیہ یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران 2700 تارکین وطن کشتی حادثوں میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصے قبل تک انسانی اسمگلر یونان سے لوگوں کو اٹلی کے ساحل پر اتارا کرتے تھے لیکن یونان کی جانب سے امیگریشن کے قوانین بہت سخت کر دیے گئے ہیں لہٰذا اب لوگوں کو لیبیا سے اٹلی بھیجا جاتا ہے۔

2015 میں ایک بحری جہاز، تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر اٹلی کے ساحل پر اتارنے کے لیے روانہ کیا گیا جو حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا جس میں سوار 800 افراد ہلاک ہو گئے۔ تازہ ترین واقعہ 2023 میں پیش آیا جس میں 750 بد قسمت افراد کو لے جانے والی ماہی گیر کشتی بحیرہ روم میں ڈوب گئی، اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں 350 پاکستانی بھی شامل تھے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2014 میں مسلح لڑائیوں اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے 6 کروڑ لوگ بے گھر ہوئے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بے گھر ہونے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

یوں تو اپنا وطن ترک کر نے والے دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی مسائل سے دوچار رہتے ہیں تاہم، یورپ میں ان کی مشکلات کافی مختلف اور شدید نوعیت کی ہیں۔ انہیں اجاگر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے نوجوان بہت بڑی تعداد میں اپنے ملک سے خصوصاً یورپ کی جانب غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ رجحان حالیہ برسوں میں بہت تیز ہو گیا ہے۔ ایک ارضی جنت کی تلاش میں جانے والے عموماً اپنے گھروں کے اثاثے بیچ کر ساری رقم انسانی اسمگلروں کے ایجنٹوں کو دیتے ہیں جو انہیں پر خطر سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل کرانے لیے کشتیوں میں ٹھونس کر بحر روم کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔

مہم جوئی پر نکلنے والے اکثر افراد تشدد اور بلیک میلنگ کا شکار بنتے ہیں اور ان کے خاندان والوں کو بھاری مالی تاوان ادا کر کے ان کی جانیں بچانی پڑتی ہیں اور کبھی یہ بد نصیب بحری سفر میں حادثات کا شکار ہو کر اپنی زندگیاں گنوا بیٹھتے ہیں۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں جانے والوں کے والدین اور دوست ان سانحوں سے عموماً بے خبر رہتے ہیں۔ انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع تک نہیں ملتی اس لیے ان میں یہ آس زندہ رہتی ہے کہ گھر چھوڑ کر جانے والے اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں ہوئے ہیں۔ وہ اپنے دلوں میں کبھی نہ پوری ہونے والی امید لیے ان کے واپس آنے کی راہ تکتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یورپ 44 ملکوں پر مشتمل ہے اور اس کی کل آبادی 74 کروڑ سے کچھ زیادہ ہے جو دنیا کی آبادی کا 9.3 فیصد ہے۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک ہیں۔ پورے یورپ میں تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد 8 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے ایک کروڑ افراد کارکن کے طور پر اپنی روزی کماتے ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ تارکین وطن امریکا، جرمنی اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ یورپی یونین کے 27 ملکوں کی آبادی 44 کروڑ ہے اور یہاں دو کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ تارکین وطن آباد ہیں جو کل آبادی کا تقریباً % 3.5 ہیں۔ یورپی یونین میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد دو لاکھ بائیس ہزار ہے۔ ان میں سے ایک لاکھ اٹھانوے ہزار جرمنی اور ایکھ لاکھ اڑتیس ہزار اٹلی میں رہائشی پذیر ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کی غالب اکثریت کا تعلق شام سے ہے۔ یہ لوگ اپنی جان پر کھیل کر سمندری راستوں سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے % 90 کا تعلق جن 10 ملکوں سے ہوتا ہے ان میں شام، افغانستان، نائیجیریا پاکستان، عراق، صومالیہ، سوڈان، گیمبیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

یورپ میں اوسط عمر میں اضافے کی وجہ سے عمر رسیدہ افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ شرح پیدائش نہ صرف بہت کم بلکہ کئی جگہوں پر منفی تک ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف یورپی بلکہ تمام امیر ممالک اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے تارکین وطن کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ تارکین وطن نہ صرف ان امیر ملکوں کی ترقی اور خوش حالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اپنے وطن رقوم بھیج کر وہاں موجود غربت کو کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

دکھ یا ستم ظریفی کی بات یہ ہے وہ جن ممالک کی معاشی ضرورت ہیں اور نا مساعد حالات میں کوئی شکوہ کیے بغیر ترقی کا پہیہ چلاتے ہیں وہاں بھی ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات انہیں تحقیر آمیز رویوں کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ اس کے متعدد اسباب ہیں۔ لندن کی مثال سامنے ہے۔ تارکین وطن اتنی بڑی تعداد میں لندن آئے کہ صرف دس سال میں یہاں سفید فام برطانوی % 65 سے کم ہو کر % 45 رہ گئے۔

برطانیہ میں یورپی یونین سے نکلنے کے لیے جو ریفرنڈم ہوا تھا اس میں % 72 ووٹروں نے ملک کی سرحدوں کو تارکین وطن کے سیلاب سے محفوظ بنانے کے لیے بریگزٹ کی حمایت کی تھی۔ یورپ میں ایک نقطہٴ نظر یہ بھی ہے کہ تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو مفت سہولتوں کی فراہمی کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحدوں کے گرد نہیں بلکہ ویلفیئر اسٹیٹ کے گرد دیوار تعمیر کی جانی چاہیے۔ حالیہ برسوں میں غیر قانونی تارکین وطن کی ملک بدریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ جو ملک اپنے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لینے سے گریز کرے گا اس کے خلاف ویزا شرائط زیادہ سخت کر دی جائیں گی۔ برسلز میں تین سال کی گفت و شنید کے بعد یورپی ملکوں کے درمیان پناہ گزینوں اور مہاجروں سے متعلق ایک جامع معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے اس انسانی مسئلے کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے گا۔

وقت گزرنے کے ساتھ یہ امر واضح ہو رہا ہے کہ یورپ کے لیے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا مزید بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے لہٰذا غیر قانونی طریقوں سے یورپ میں داخل ہونا اور مستقل رہنا اب پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS