مسلم لیگ نون سے مسلم لیگ ش تک
عرفان صدیقی صاحب طرز کالم نگار ہیں۔ مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے قربت رکھتے ہیں۔ ان کے لیے تقریر نویسی بھی کی۔ درس و تدریس سے وابستگی کے زمانے کے ان کے شاگرد طاقتور ترین عہدوں پر فائز رہے۔ نواز شریف اور اپنے جرنیل شاگرد رشید کے درمیان رابطہ کاری کے لیے بھی متحرک رہے۔ جب سے سینیٹر ہوئے ہیں لکھنا بہت کم کر دیا ہے۔ کبھی کبھار ان کا کالم شائع ہوتا ہے اور ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں انہوں نے نواز شریف کے تیسری بار اقتدار سے بے دخل کیے جانے کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے جوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے قائد کسی بھی سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع نہ کرنے کا حتمی اور اصولی فیصلہ کر چکے تھے۔ اس فیصلے پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے ہی انہیں اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں نواز شریف اپنی اسی خو کے سبب کبھی بھی مقتدر حلقوں کے منظر نظر نہ رہ سکے۔ ہر بار اقتدار ملنے کے بعد ان کی سپہ سالار سے نہ بن پائی اور اقتدار سے نکلنا پڑا۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔
جلا وطن ہوئے۔ پیاروں کے جنازوں و تدفین میں شرکت نہ کر پائے۔ خاندان کے دیگر افراد بشمول ان کی دختر موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ قریبی رفقاء کار و مسلم لیگی رہنماؤں نے بھی مشکلات کا سامنا کیا۔ بقول عرفان صدیقی صاحب کے، حالیہ تمام مشکلات کا سبب میاں صاحب کی اصول پسندی ہی تھی۔ ایک طرف تو یہ بڑے میاں صاحب کی سخت گیری ہے دوسری طرف اس کے بالکل بر عکس ان کے بھائی میاں محمد نواز شریف کی شہرت ایک مفاہمت پسند، صلح جو اور دھیمے مزاج کے سیاسی لیڈر کی ہے۔
وہ گمراہیوں سے رستہ نکالنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ وہ کچھ لے دے کر کے معاملہ سلجھا دیتے ہیں۔ دونوں بھائیوں کے مزاج کا یہ اختلاف بعض اوقات دونوں کے قریبی احباب کی بات چیت سے بھی جھلکتا تھا۔ جس پر کہا گیا کہ مسلم لیگ میں دو گروپ ہیں ایک ن اور ایک ش۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا رہا کہ یہ ان طے شدہ پالیسی ہے کہ ایک گروپ مزاحمتی پالیسی اپنائے اور دوسرا مفاہمت کا راستہ اختیار کرے تاکہ عوام میں میاں صاحب کا ایک جرات مند لیڈر کا امیج بھی بر قرار رہے اور مقتدر حلقوں سے بات چیت کا دروازہ بھی بند نہ ہو۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد شہباز شریف نے اقتدار سنبھالا۔ اسمبلی کی مدت مکمل ہوئی۔ خدا خدا کر کے انتخابات ہو گئے مگر قدرے تاخیر سے۔ انتخابات سے قبل میاں نواز شریف پاکستان تشریف لائے۔ انہیں مسلم لیگ کی طرف سے آئندہ وزیراعظم کے طور پر پیش کیا گیا اور ملک کے تمام مسائل کا حل قرار دیا گیا۔ عوام سے بھی ملک کو ”نوازنے“ کی اپیل کی گئی۔ انتخابات کے نتائج میں واضح اکثریت نہ ملنے کے سبب میاں صاحب نہ وزرات عظمیٰ کے منصب پر مفاہمتی سیاست کے پرچارک میاں شہباز شریف کو نامزد کیا۔
ان کی صاحبزادی وزیر اعلٰی پنجاب بن گئیں۔ اب میاں صاحب بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں۔ آج کافی دنوں کے بعد وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں اپنی دختر کے ہمراہ نظر آئے۔ مسلم لیگ کے موجودہ وزیر اعظم کے بعض حالیہ اقدامات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیا ہے یا پھر وہ پارٹی معاملات و سیاست سے لاتعلقی اختیار کر چکے ہیں؟ کیا اب واقعی مسلم لیگ ن سے ش بر آمد ہو چکی ہے؟ مسلم لیگ اور شریف فیملی کے معاملات بڑے میاں صاحب کی بجائے چھوٹے میاں صاحب دیکھ رہے ہیں؟
کہاں توسیع نہ دینے پر ڈٹ جانے والے میاں صاحب اور کہاں یہ ائر چیف تک کی مدت ملازمت میں اضافہ کرنے والے موجودہ وزیراعظم۔ حالیہ توسیع سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ان معاملات میں وزیر اعظم محض رسمی کارروائی کرے گا اور عسکری اداروں کی تقرریوں کو ان کے اندورنی معاملات کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ مسلم لیگ کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی واضح دلیل سمجھی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں سابق نگران وزیر اعلٰی پنجاب محسن نقوی کی بطور وزیر داخلہ تقرری کو بھی مسلم لیگ نون کے ش میں بدل جانے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر سے ملاقات کے وقت وزیر اعظم کی طرف سے گرمجوشی سے استقبال و سلیوٹ سے بھی مسلم لیگ کی موجودہ پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کابینہ سمیت جی ایچ کیو کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کرنے والے وزیراعظم اور سپہ سالار کب تک ایک ہی پیج پر رہتے ہیں۔


