باپ کے حلیے پر شرمندگی یا فخر؟
شام کے وقت کالج کے دوستوں کے ساتھ چائے کی چسکی لیتے ہوئے میری نظر ایک شخص پر پڑی جو تقریباً لڑکھڑاتا ہوا بس سے اترا ذرا غور سے دیکھا تو وہ ابا تھے جو اپنے دفتر سے واپس آ رہے تھے پسینے میں شرابور شکن آلود کپڑے بوسیدہ سے جوتے۔ میں نے جھٹ اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور دوستوں سے باتیں کرنے لگا۔ مجھے ڈر تھا کہیں ابا میری طرف نہ آ جائیں اور میرے دوست انہیں نہ دیکھ لیں۔
کتنی بار ابا کو سمجھایا کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔ مگر مجال ہے جو انہیں میری بات سمجھ آ جائے۔ پچھلی عید پر ہم سب بچوں کو نئے جوتے کپڑے لے کر دیے اس وقت بھی میں نے کہا کہ آپ بھی نئے جوتے کپڑے لے لو۔ لیکن اپنے ادھڑتے جوتے کو دیکھ کر بولے ابھی تو یہ دو سال اور چلیں گے مجھے نئے جوتے کاٹتے ہیں یہ جوتے بہت آرام دہ ہیں۔
نیا زمانہ ہے لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ابا بس وہی اپنی پرانی نوکری میں لگے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا بھی کہ بزنس کریں پیسے بنائیں ہم بھی ڈیفنس کلفٹن میں رہیں مگر بس ابا کو تو دو کمرے کے کواٹر نما گھر میں رہنا ہے کہتے جو سکون یہاں ہے وہ کہیں اور نہیں۔
سچ پوچھو تو ابا ترقی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ہمیں ہمارے دوستو میں مذاق بنوا کے رکھنا چاہتے ہیں۔
ہائے میرے بچے تمہیں کیا پتا کتنا پسینہ بہا کر تمہارے کھانے کا انتظام کرتا ہے باپ۔ یہ شکن آلود پسینے سے شرابور کپڑے تمہارے اجلے بے شکن کپڑوں کے ضامن ہیں یہ ادھڑے ہوئے بے رنگ جوتے تمھارے چمکتے جوتوں کو ممکن بناتے ہیں۔
جس سے تمہیں یہ شکایت ہے کہ تمہاری کوئی بات اسے سمجھ نہیں آتی یہ وہی باپ ہے جب تم نے بولنا بھی نہیں سیکھا تھا تو تمھاری ہر بات سمجھ جاتا تھا۔ ہاں وہ مجبور ہے اپنی پرانی نوکری کو جاری رکھنے کے لیے کیونکہ نئے زمانے کے تقاضے اس سے نبھائے نہیں جاتے وہ رشوت اور چوری کو اب بھی گناہ سمجھتا ہے۔ جن راستوں پر ابھی تمہیں چلنا ہے ان سے گزر کر ایک دنیا تجربہ کی ہے تمھارے ابا نے۔
تمہیں تو فخر ہونا چاہیے ان پسینے میں شرابور شکن آلود کپڑوں میں ملبوس بے رنگ ادھڑتے جوتے پہنے شخص پر جو تمھیں سنوارتے سنوارتے کب جوانی سے بڑھاپے کی سرحد پار کر گیا۔ اپنی بجھتی آنکھوں سے تمھاری آنکھوں کو روشنی دیتے دیتے چندھیا گیا ہے۔ تمہارے چہرے کی چمک تمہارے لبوں پر مسکراہٹ سجانے کی خاطر اپنے جوان چہرے پر وقت اور تھکن کی آڑی ترچھی لکیروں سے جھریوں کا جال سجائے تمہارے بہترین مستقبل کے لیے کوشاں ہے۔
نہیں میرے بچے تمھارا باپ تمھارے لیے باعث شرمندگی نہیں وجہ افتخار ہے۔
کاش ہر اولاد اپنے والدین کا دکھ ان کی قربانیاں سمجھ پاتی کاش اے کاش


