ڈی نیازی فکیشن کا یہی وقت ہے
پراپیگنڈہ عوام کے ذہنوں پر کس طرح ضرب لگاتا ہے اسے سمجھنے کے لیے انسانی تاریخ میں جرمنی کے ہٹلر دور سے بہتر کوئی مثال نہیں ہے۔ جس کا خیال تھا کہ جرمنی پہلی جنگ عظیم ہارا ہی اسی لیے تھا کہ اس کا پراپیگنڈہ کمزور تھا۔ جس کے تدارک کے لیے اس نے پھر پراپیگنڈہ منسٹری قائم کی اور اپنے زیادہ تر وسائل اسی مقصد میں جھونک دیے۔ اسی مسلسل عمل سے جرمن عوام کے رگ و جاں میں نازی ازم کا فاشسٹ نظریہ راسخ کر دیا گیا جو جرمنی کو بالآخر دوسری جنگ عظیم میں کھنچ لایا۔
نازی ازم کو عوام کا اوڑھنا بچھونا بنانے کے لیے ان کو یقین دلا دیا گیا کہ وہ بائیولوجیکلی باقی تمام اقوام سے افضل قوم ہیں یہاں تک کہ اساتذہ چارٹس کے ذریعے یہ افضلیت بچوں کو سمجھاتے تھے۔ اور یہ کہ دنیا کے عموماً اور جرمنی کے خصوصاً مسائل کے ذمہ دار یہودی ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں جرمن آباد ہیں وہ سب علاقوں کو ملا کر گریٹر جرمنی بنانا ضروری ہے۔ نازی ازم کی موجودگی میں اختلاف رائے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اس نظریے کی حمایت حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ اور مخالفت سنگین غداری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نازی دور میں محض اختلاف رائے کے مرتکب 1 کروڑ 70 لاکھ لوگ بے دردی سے قتل ہوئے گرفتاریاں اور قید و بند الگ۔ اس نظریے کی جڑیں مضبوط کرنے لے لیے بچوں کے نصاب تعلیم کو بدلا گیا۔ خاص پوسٹرز کی اشاعت اور مخصوص فلمیں بنائی گئیں۔ اور تو اور ہٹلر کی کتاب مین کیمف تعلیمی درسگاہوں کی لائبریریوں میں رکھنا لازمی قرار دیدی گئی۔ ہٹلر کا مخصوص امیج بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ رفتہ رفتہ ایک جرمن نسل فاشسٹ نظریے کے عشق میں مبتلا ہو گئی۔
بچوں میں ہٹلر کے نام سے یوتھ آرگنائزیشنز بنائی گئیں اور لالی پاپ کی طرح بچوں میں آئرن کراس بانٹے گئے۔ جرمن افضلیت کا سبق اس قدر سخت تھا کہ ایک جرمن سے محض جرمن ہی شادی کر سکتا تھا اور تقریباً 4 لاکھ جوڑوں کو اس خدشے پر اولاد پیدا کرنے کی قابلیت سے محروم کر دیا گیا کہ وہ نقص کے حامل جرمن پیدا کریں گے۔ قصہ مختصر تقریباً پوری جرمن قوم نازی ازم کے سرور میں جھومتے جھامتے دوسری جنگ عظیم میں جا کودی۔
تمام تر فاشسٹ نظریات اور پراپیگنڈہ کے باوجود 18 ملین جرمن فوج میں سے 5.3 ملین ماری گئی اور تقریباً 10 ملین سے زیادہ جنگی قیدی ہوئے۔ ایک طویل زچ کر دینے والی لڑائی کے بعد 9 مئی 1945 کو جرمن فیلڈ مارشل نے سرینڈر ڈیڈ پر دستخط کر کے اتحادی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس اور سوویت روس) کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نازی لیڈر ہٹلر اس شرمناک لمحے سے قبل ہی خودکشی کر چکا تھا۔ فتح کے بعد چاروں اتحادی افواج نے جرمنی کو چار حصوں میں تقسیم کر لیا۔ روس کا حاکم سٹالن کٹر نازیوں کو عبرتناک موت دینا چاہتا تھا مگر دیگر اتحادی جانتے تھے کہ جرمن قوم سے جنگ کا ڈنگ نکالنے کے لیے محض سزاؤں سے کام نہیں چلے گا بلکہ ڈی نازی فکیشن کی جانب بڑھنا ہو گا۔
بدترین ہار کے باوجود نازی پراپیگنڈہ اتنا موثر تھا کہ لوگ ایک اور ہٹلر کی رہ تک رہے تھے۔ امریکی جرنل نے یہ سب دیکھتے ہوئے ایک بار کہا کہ اسے ڈی نازی فکیشن کے لیے کم از کم 50 برس درکار ہیں۔ اس کے باوجود یہ عمل مسلسل جاری رکھا گیا۔ ہارڈ کور نازیوں کو الگ کرنے اور ان کو ٹرائل کے ذریعے سزائیں سنانے کے عمل کے ساتھ مخصوص فارم پر کروانے کے بعد لمبے لمبے انٹرویوز میں سے گزار کر لوگوں کو کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔
اساتذہ سے حلف لئے گئے کہ وہ بچوں پر نازی نظریہ نہیں تھوپیں گے نصاب بدلا، نازی لٹریچر اور ہٹلر کی کتاب کو لائبریریوں سے ہٹایا گیا۔ نازی نشانات، یادداشتیں یہاں تک کہ ہٹلر کی ملکیتی جائیدادوں کو مسمار کر دیا گیا۔ گلیوں بازاروں کے نام تبدیل کیے گئے۔ جنگ اور جنگی لباس سے عوام کو دور کیا گیا یہاں تک کہ جنگی کھیلوں اور مخصوص جنگی دن منانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ عوام کو میوزیم کی طرح لاشوں کے ڈھیر دکھائے گئے تا کہ وہ اس نظریے کی سنگینی اور اس کے نتائج کو پرکھ سکیں۔ رفتہ رفتہ فاشسٹ نازی نظریہ وقت کی دھول میں گم ہوتا گیا مگر مکمل ختم نہیں ہو سکا حتیٰ کہ ڈی نازی فیکیشن کا یہ عمل آج بھی کسی نہ کسی صورت جاری ہے اور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کب تک جاری رہے گا۔
گزشتہ دہائی سے ملک پاکستان میں بھی اسی پراپیگنڈہ اور فاشسٹ نظریات کی طرز پر نیازی ازم کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر کے نام پر سینکڑوں نوجوانوں کو ملازم رکھ کر مسلسل جھوٹ کی آبیاری کی جا رہی ہے۔ ہمارے ہاں بھی دانستہ طور پر ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے کہ نیازی ازم سے وابستگی حب الوطنی اور اختلاف غداری ہے۔ پراپیگنڈہ کی چادر میں لپٹی یہ ففتھ جنریشن وار فیئر اس قدر سفاک ہے کہ کسی کی عزت تو دور کی بات لوگ اس سے خوف کھاتے ہیں۔
ایک شخصیت کی پرستش اور خود افضلیت کا سبق پڑھ کر جوان ہونے والا یہ نظریہ مذہبی جنونیت کا سا تاثر دیتا ہے۔ نیازی ازم کے حامیوں کو فرق نہیں پڑتا کہ بین الاقوامی لیول پر ملک کی جگ ہنسائی ہوتی ہے یا ملک پابندیوں کی زد میں آتا ہے بس ایک باس کے سیاسی مفادات متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ نیازی ازم کے اس منہ زور طوفان نے ایک نسل ضائع کر دی۔ دوست، رشتہ دار، کولیگز تو دور کی بات کھانے کے میزوں پر والدین اور اولاد میں نفرت آمیز بحث کا چلن عام ہو چکا ہے۔
ہمارا نسبتاً کمتر جمہوری معاشرہ ہی سہی، مگر یہاں اختلاف رائے کو غیر ضروری چیز تعبیر کیا جانے لگا ہے۔ مخصوص عزائم کے تحت ہمارے پورے معاشرے میں پہلے بدزبانی کا کلچر عام کیا گیا اور اب عدم برداشت اپنا منحوس سایہ کیے ہوئے ہے۔ ذاتی افضلیت کا ہٹلر والا سبق دانستہ طور پر ایک مخصوص طبقے کو پڑھا پڑھا کر دماغ اور دلیل پروف بنایا جا رہا ہے۔ ایک طبقہ پہلے جس کے پیروکار ڈاکٹرز دوا کے نسخوں پر نیازی ازم کے حق میں ووٹ ڈالنے کا علاج تجویز کرتے تھے وہاں آج اساتذہ اس فاشسٹ نظریے کا علم اٹھائے درسگاہوں میں کھڑے ہیں۔
ایسے سفاک اساتذہ نما لوگ جو بچوں کے نا پختہ ذہنوں پر فاشسٹ چھاپ چھوڑ رہے ہیں اور محض مخالف سوچ کے حامل طلبہ کی ذاتی تحقیر کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ہمارے معاشرے کے لیے ٹائم بم کے جیسے ہے جس کی ٹک ٹک ہمیں کان لگا کر سننا ہو گی اور وقت رہتے ڈی نیازی فکیشن کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے وگرنہ دیر ہونے کی صورت میں اس قوم سے یہ فاشسٹ عناصر نکالنے کے لیے ہمیں ایک صدی بھی کم پڑے گی۔


