کیا عمران خان مستقبل قریب میں اقتدار میں آسکتا ہے


مختلف سیاسی جماعتوں کے تمام تر اعتراضات اور تحفظات کے باوجود اسمبلیاں نہ صرف قائم ہو گئیں ہیں بلکہ ان کے تحت حکومتیں بھی تشکیل پا گئیں ہیں قومی اسمبلی میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہ کر سکی اور یوں یہ معلق ایوان رہا اگرچہ اس میں۔ تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ سیٹیں ملی ہیں مگر کسی دوسری بڑی جماعت کے بغیر اس کا حکومت بنانا ممکن نہیں تھا۔ اگلی بڑی جماعت چونکہ مسلم لیگ (نون) تھی جس نے پیپلز پارٹی کی حمایت سے مرکز میں حکومت بنا دی۔ تحریک انصاف کو انتخابی نتائج پر اگرچہ شدید اعتراضات ہیں اور ان کو متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز پر چیلنج کے علاوہ عوامی سطح پر دباؤ ڈالنے کے لیے پرزور عوامی احتجاج بھی اس کا پلان اور ارادہ ہے۔ تاہم اعتراضات کے باوجود سر دست فوری طور پر بوجوہ کوئی موثر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کے بجائے تحریک انصاف کے منتخب ارکان نے اسمبلیاں جائن کر لی ہیں جبکہ خیبر پختون خواہ میں مستحکم صوبائی حکومت بھی بنا لی ہے۔ جو جمہوریت کے لیے اچھا شگون ہے اب ایک اہم سوال عمران خان کے حوالے سے یہ ہو سکتا ہے کہ موجودہ اسمبلی کے عرصے میں اس کی سیاسی پوزیشن کیا ہوگی؟ عمران خان چونکہ کئی مقدمات کے تحت فی الحال سزا یافتہ اور انتحابات کے لیے نا اہل ہیں اس لیے جب تک اس کو قید اور انتخابی نا اہلیت سے چھٹکارا نہیں ملتا تو وہ براہ راست موثر سیاسی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر مستقبل قریب میں میرٹ کی بنیاد پر یا کسی سمجھوتے وغیرہ کے تحت اس کی سزائیں اور نا اہلی ختم ہو جاتی ہیں تو اس صورت میں وہ عملی طور پر بذات خود سیاسی طور پر متحرک ہو سکتا ہے اور قومی اسمبلی کی کسی نشست پر منتخب ہو کر پارلیمانی سیاست کا حصہ بھی بن سکتا ہے۔

اسی صورت حال میں دوسرا ایم سوال یہ ہو گا کہ کیا مستقبل قریب یعنی اسی اسمبلی کی مدت کے دوران اس کا اقتدار میں آنے کا امکان ہو سکتا ہے؟ سیاست چونکہ امکانات کا کھیل پے اور پاکستان کی سیاست میں تو بالخصوص بہت کچھ ممکن ہے اس لیے سیاسی حالات کے سلسلے میں پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ کوئی دعوی نہیں کیا جا سکتا ہے تاہم زمینی حالات اور حقائق کی روشنی میں امکانات کا جائزہ لینے سے اندازہ کسی حد تک درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

عمران خان کی سزاؤں اور نا اہلیت کے (مفروضہ) خاتمے اور پارلیمانی سیاست میں واپسی کے بعد اس، کا اقتدار میں آنے کی ایک صورت تب ہو سکتی ہے اگر موجودہ قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پورا کیے بغیر وقت سے پہلے تحلیل ہونے پر، فوری طور پر نئے انتحابات منعقد کیے جائیں اور ان میں تحریک انصاف واضح اکثریت حاصل کرے تو یوں عمران خان وزیراعظم بننے کا امکان ہو سکتا ہے۔ پھر اگر موجودہ اسمبلی اپنے پورے پانچ سال تک تو قائم رہتی ہے مگر مسلم لیگ (نون) کی موجود مخلوط حکومت چل نہ سکی یا کسی طرح وقت سے پہلے ہٹا دی جاتی ہے تو اس صورت میں بھی یہ امکان ہو سکتا ہے کہ اس کی جگہ عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع ملے۔

مگر اس صورت میں اس کو ”بالائی قوتوں“ کے ساتھ اتحادیوں کی حمایت ضروری ہے کیونکہ تحریک انصاف اپنے اسمبلی ارکان کی موجودہ تعداد سے تنہا حکومت نہیں بنا سکتی ہے اور چونکہ تعداد کی کمی کسی چھوٹے سیاسی گروپ یا جماعتوں سے بھی پوری نہیں ہو سکتی ہے اس لیے اس کو لامحالہ پیپلز پارٹی جیسی بڑی کے ارکان کی حمایت درکار ہوگی مگر اس صورت میں ایک اہم سوال یہ ہو گا، کہ کیا اقتدار میں آنے کے لیے تحریک انصاف پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرے گی؟

موجود حالات کی روشنی میں تو اس کا امکان نظر نہیں آتا ہے لیکن چونکہ سیاست امکانات کا کھیل ہے اس لیے اگر مستقبل قریب میں ایسے حالات پیدا ہو گئے جس کے تحت تحریک انصاف اقتدار کا حصول اپنے لیے بہتر اور مفید سمجھے تو اس امکان کو پوری طرح مسترد نہیں کیا جا سکے مگر ایک تو عمران خان کے مخصوص افتاد طبع اور طرز سیاست کے باعث اور دوسرا اس قسم کے اقتدار سے شاید کچھ فوری فوائد وغیرہ مل جائے مگر اس سے عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاست پر شدید منفی اثرات ہونے کے خدشے کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کا امکان بہت ہی کم ہے۔

اس تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی سبب موجودہ اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل نہ ہوئی تو اس پانچ سال کی مدت کے دوران عمران خان کی سربراہی میں تحریک انصاف کی مخلوط حکومت بنانے کا زیادہ امکان نہیں اسی عرصے میں اگر عمران خان پر قید و بند کی پابندیاں ختم ہو گئیں اور وہ اسمبلی کا رکن منتخب ہوا، تو زیادہ ممکن صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایک طرف اپوزیشن لیڈر کی حیثیت میں اسمبلی کے اندر حکومت کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے اور دوسری طرف حالیہ انتحابات کے مبینہ غیر شفاف نتائج کو بنیاد بنا کر حسب روایت پرزور احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی سیاست سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر موجودہ عرصے کے دوران کوئی ہنگامی حالت رونما یا برپا نہ ہو جائے یا کوئی انہونی نہ ہوئی تو اس صورت میں پھر سے اقتدار میں آنے کے لیے عمران خان کو کم ازکم 2029 تک انتظار کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS