کردار کشتی: بڑے ڈاکٹر صاحب
علاقے میں پنسار کی طرح عوامی دلچسپی کا سامان لئے ایک اور دکان بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ ڈاکٹر کی دکان کہلاتی ہے۔ دکان دار ڈاکٹر اسے کلینک کہلوانے پر مصر ہوتا ہے۔ نامعلوم اسے علاج کی دکان کیوں نہیں کہتے۔ برابر میں موجود جنرل اسٹور کو پرچون کی دکان ’کلاتھ ہاؤس کو کپڑے کی دکان‘ الیکٹرک اسٹور کو بجلی کے سامان کی دکان میڈیکل اسٹور کو دواؤں کی دکان حتیٰ کہ ریڈیالوجی سنٹر کو ایکسرے والی دکان کہہ دیجیئے ’ہرگز کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر جہاں آپ نے علاج والی کو ڈاکٹر کی دکان کہہ دیا تو بس ڈاکٹر صاحب فوراً ناراض۔ ٹھیک خفا ہوتے ہیں صاحب۔ باقی دکانوں پر ایم بی بی ایس آر ایم پی جو نہیں لکھا ہوتا۔ کسی اور دکان دار کے ساتھ ”صاحب“ کا لاحقہ بھی نہیں لگایا جاتا۔ اتنی تعداد میں علاقے بھر کی خواتین بھی نہیں پہنچتیں۔ وتعز من تشاء‘ مان لیا جناب! ہم اور آپ کون ہوتے ہیں جو کلینک کہنے پر اعتراض کریں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ کلینک سے واپسی پر بھی گاہک ’اوہ معاف کیجئے گا مریض کے ہاتھ میں دواؤں سے بھرا شاپر اسی طرح جھول رہا ہوتا ہے جیسا کہ محلے کے پنسار سے پاپے‘ شکر یا چائے کی پتی وغیرہ لے کر واپسی ہوتی ہے۔ اجناس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ دال ہی کو لیجیے! چنے کی دال ’مسور‘ کالا مسور ’مونگ کی دال‘ چھلکوں والی ’ارہر وغیرہ۔ شکر کی طرف آئیے تو موٹی چینی‘ سفید چینی ’بھوری‘ گڑ والی ’پسی ہوئی شکر وغیرہ۔ یہی حال صابن‘ پوڈر ’پتی اور شربت جیسی عام برتنے والی اشیا کا ہے۔
ڈاکٹر صاحبان بھی کئی اقسام میں دستیاب ہیں۔ علاقے کے لوگ اپنے ڈاکٹر صاحبان سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں سے مانوس نام لے لے کر پکارتے ہیں۔ (اعتراف: یہاں مصنف ایک اعتراف کرنا ضروری خیال کرتا ہے۔ عزخ کے دو بچے اور پانچ سگے بہن بھائی اور متعدد قریبی و دیگر شریکے اس مقدس پیشے سے وابستہ اور ”رتبہ بقدر جثہ“ کے حامل ہیں۔ امکان غالب ہے کہ ان سطور تک پہنچنے پر وہ ناراض ہو چکے ہوں گے۔ ہوتے رہیں بھئی ’ہمیں اطمینان ہے کہ ہماری پیشہ وری بلکہ تیشہ وری پر جوابی مضمون لکھ کروہ انتقام نہیں لے سکتے۔ معاملہ ایگو اور ویگو کاہے اور سب معاملہ فہم ہیں)۔ بات ہو رہی تھی ڈاکٹر صاحبان کو مختلف حوالوں پکارنے کی۔ محلے کی باجیاں اپنے کچھ فیورٹ ڈاکٹروں کو محبت سے ”ٹیکے والا ڈاکٹر“ یا ”اپنا والا ڈاکٹر“ کہتی ہیں۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں حسد بھی لازم ہے۔ انہی باجیوں کے گھروں کے اوباش لونڈے جن کو ”ڈنگر ڈاکٹر“ کہہ کر پھبتی اڑانے کی کوشش کرتے ہیں‘ انہی صاحب سے دوا بھی لیتے اور اپنا علاج کرواتے ہیں۔ نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن۔ بدمعاش کہیں کے! ڈاکٹرصاحب کی آمدنی اور ان کی دکان پر آنے جانے والوں پر میلی نگاہ رکھتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی عقیدت میں ڈاکٹر چھرا ’اپنا ڈاکٹر‘ سرکاری ڈاکٹر ’ٹنچر پائیوڈین ڈاکٹر‘ گولی ڈاکٹر ’ڈاکٹر سرنج‘ ہلال احمر والا ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ جیسی بے شمار شناخت اور حوالے عام دستیاب ہیں۔
اجناس کی پرچون دکانوں کے علاوہ تھوک منڈی بھی ہوتی ہے۔ عین اسی طرح ڈاکٹروں کے پرچون کلینکس کے علاوہ شہر کے مخصوص علاقوں میں ڈاکٹر منڈی لگتی ہے جہاں ڈاکٹروں کی پہچان ذرا مختلف ہوا کرتی ہے۔ ہڈی والا ڈاکٹر ’دل کا ڈاکٹر‘ گردے مثانے کا ڈاکٹر ’گلے کا ڈاکٹر‘ ناک کان حلق ’آنکھ‘ جلد ’ہرنیا وغیرہ کے الگ الگ ڈاکٹر ان منڈیوں میں قائم پلازوں کی مختلف مالاؤں پر ہوالشافی دھندا کرتے ہیں۔ مشہور ڈاکٹر صاحب ہفتے میں دو 2 دن‘ تیزی سے مشہور ہوتا ڈاکٹر تین 3 تا چار 4 دن جب کہ نیا گلہ جمانے ولا ابھرتا ڈاکٹر پانچ 5 یا چھ 6 دن دکان لگاتا ہے۔ ان منڈیوں میں صرف معائنہ ہوتا ہے، آپریشن نہیں لہذا بے ہوشی والے ڈاکٹر کا ٹھیہ یہاں خال خال ہی ملتا ہے۔ سرجری کے واسطے انواع اقسام کے ہسپتال جگہ جگہ قائم ہیں۔ مریض کی جیب ’مالی استطاعت اور ذہنی کیفیت کے مطابق ان ہسپتالوں کی عمارات اور معیارات ہوا کرتے ہیں۔
مندرجہ بالا اقسام کے علاوہ بھی ڈاکٹر حضرات کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ ان میں سے دو 2 درجے ’یعنی چھوٹا ڈاکٹر اور بڑے ڈاکٹرصاحب زیادہ اہم ہیں۔ چھوٹے ڈاکٹر سے عام لوگوں کا روز روز پالا پڑتا ہے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب سے واسطہ پڑ جائے تو پالا چھڑانا آسان نہیں۔ چھوٹا ڈاکٹر قلت آمدنی کا شکار جب کہ بڑا ڈاکٹر شدت آمدنی سے سرشار رہتا ہے۔ چھوٹے ڈاکٹر سرکاری فرسٹریٹڈ ٹائمنگز کے باعث کبھی کبھی ڈیوٹی سے ہڑتال پر بھی چلے جاتے ہیں۔ بڑے ڈاکٹر صاحب پرائیویٹ کلینک میں ٹائمنگز سے فرسٹریٹ ہو کر کبھی کبھی سرکاری ڈیوٹی پر بھی تشریف لے آتے ہیں۔ بڑے ڈاکٹر صاحب عموماً سرکاری نوکر ہوا کرتے ہیں اور شام کو پرائیویٹ پریکٹس پر جا بیٹھتے ہیں۔ سرکاری اسپتال آنے والے ”مریض“ کہلائے جاتے رسوا ہوتے ہیں جب کہ معائنے کے لئے پرائیویٹ فیس ادا کرنے والے ”پیشنٹ“ کا معزز رتبہ پاتے ہیں۔ پیشنٹ کی اس عزت کا دار و مدار بیماری کی نوعیت پر بھی ہے۔ اگر بیماری طویل المدت جاری رہنے کا امکان ہے تو ظاہر ہے وزٹ بھی زیادہ ہوں گے۔ نوعیت بڑی سرجری کی ہے تو بھی بڑے ڈاکٹر صاحب کی شفقت کا باعث ہوگی۔ سرکاری اوقات کار میں مریض کو اپنی اوقات کا علم ہوجاتا ہے جب کہ اپنی کار میں آنے والے پرائیویٹ مریض کی وقعت ڈاکٹر صاحب اچھی طرح جانتے اور ایک گونا مسکراہٹ سے استقبال کرتے ہیں۔
زمانہ برق رفتاری سے تبدیل ہو رہا ہے۔ آج کل بڑے ڈاکٹر صاحب کا کلینک نہیں بلکہ اپنا سیٹ اپ ہوتا ہے۔ یہ سیٹ اپ عموماً پوش آبادی میں وسیع و عریض عالیشان بنگلے میں جمایا جاتا ہے۔ دروازے پر باوردی سیکیورٹی موجود ہوتی ہے جو بیمار کی آمد پر مرحبا کہتی کورنش بجاتے اسے بحفاظت استقبالیہ (ریسیپشن) تک لاکر چھوڑتی ہے۔ با اخلاق دھیمے مزاج والی لیڈی اسٹاف بیمار کے ڈجیٹل اندراج سے قبل مختلف پیکیجز اور دستیاب سہولتوں پر آگاہی دیتی ہیں۔ مریض کے اپنے پسند کردہ منتخب پیکیج کے مطابق با سہولت ادائیگی نقد یا بذریعہ کریڈٹ (دراصل ڈیبیٹ) کارڈ ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں مریض کے وی آئی پی یا وی وی آئی پی پیشنٹ ہونے کا حتمی تعین کر لیا جاتا ہے۔ سادہ و کم ترین فیس کی استطاعت رکھنے والے صرف آئی پی (امپورٹنٹ پرسن) قدرے کم درجہ یا اسٹینڈرڈ کلاس پاتے ہیں۔ یہاں سے درمیانے عمر کی مڈوائف اسٹاف راہ نمائی کرتے ہوئے پیشنٹ کو ائرکنڈیشنڈ انتظار گاہ میں نصب صوفہ نشستوں تک لاتی ہیں۔
اب تک مریض کو بتدریج پیشنٹ سے کلائنٹ کے درجے میں ڈھالا جا چکا ہوتا ہے لہذا طویل انتظار کروانا بزنس اصول اور ایتھکس کے خلاف تصور ہو گا۔ عارضی انتظار گاہ میں دل لبھائے رکھنے کے لئے سجاوٹ اور بناوٹ کا اعلی انتظام موجود ہے اور دل ربائی کے لئے کلائنٹ کو جلد از جلد ایک خوش شکل جونیئر ڈاکٹر کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس جونیئر ڈاکٹر کے ذمے اپنے نئے کلائنٹ کی طبی تاریخ یعنی میڈیکل ہسٹری رقم بند کرنا ہے جس میں تاریخ پیدائش، خاندانی کوائف ’فشار خون‘ درجۂ حرارت ’عادات و اطوار سمیت طبیعت کے بہلانے کے واسطے میٹھے میٹھے آسان سے سوالات ہوتے ہیں۔ خون وغیرہ کے فوری ٹسٹ لئے جاتے ہیں۔ دیگر رپورٹس مرتب ہوتی ہیں۔ گو کہ اس موقعے پر کلائنٹ کی اصل بیماری کے متعلق بالکل بھی گفت گو نہیں کی جاتی۔ ادھرادھر کی باتوں میں کلائنٹ کا دھیان اپنی بیماری سے بٹتا اور توجہ بٹتی ہے۔ یوں وہ خود کو مکمل محفوظ ہاتھوں میں محسوس کرتا ہے۔ خوش اندام اور میٹھے کلام والی کم عمر اور خوش شکل ڈاکٹر کو اپنا ماضی بتاتے ہوئے کلائنٹ کو عجب سرشاری سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت بڑے ڈاکٹر صاحب اس کمرے میں جلوہ افروز ہوتے ہیں اور اچانک پن کی اداکاری کرتے ہوئے کلائنٹ کو اپنے متبسم چہرے کے ساتھ ہیلو بولتے اور گردن اثبات میں ہلاتے بڑھ جاتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر مریض خود کو صحت مند ہوتا محسوس کرتا ہے اور کچھ دیر قبل ادا کی گئی فیس کا صدمہ تھوڑے عرصے کے لئے بھول جاتا ہے۔
اس مرحلے پر کلائنٹ سمجھتا ہے کہ باریابی کا وقت آن پہنچا ہے اور بڑے ڈاکٹر صاحب اس کی بیماری کا حال پوچھنے کے لئے شاید اتنے بے قرار ہیں کہ خود اٹھ کر استقبال کے لئے جونیئر ڈاکٹر کے کمرے میں آن وارد ہوئے۔ مگر نہیں ’ٹھہرئیے جناب! ہوئی ہم سے یہ نادانی کہ تری محفل میں آ بیٹھے۔ زمین کی خاک ہو کر آسمان سے دل لگا بیٹھے۔ فائل بھی تیار ہو چکی مگر نادان مریض نہیں جانتا کہ ابھی میعاد باقی ہے ستم کی۔ اس مقام پر پیرا میڈک اسٹاف مینڈک کی طرح مریض کو اچک لیتا ہے اور اسے آہستگی سے مزید آگے دھکیل کر ایک اور آراستہ انتظار گاہ میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ فائل اب تک مریض کے حوالے نہیں کی جاتی۔ جلد ہی وہ خود کو درمیانی عمر کے ایک مڈ کیریئر ڈاکٹر صاحب کے سامنے پاتا ہے جو اس کی فائل میں منہمک بیٹھے مسئلے کی تہہ کو کھوج رہے ہیں۔ یہاں پیشنٹ کو لاحق مرض پر سنجیدہ گفت گو کی جاتی ہے اور مڈ کیریئر ڈاکٹر صاحب کلائنٹ کی فائل میں سوالاً جواباً اندراج کر دیتے ہیں۔ اب تک کھویا کھویا مریض حقیقت کی دنیا میں واپس آتا اور اپنی بیماری پر مکرر متفکر ہوجاتا ہے۔ یہ والے ڈاکٹر صاحب نہ تو علاج تجویز کرتے ہیں اور نہ ہی کچھ مشورہ دیتے ہیں۔ اس طلسم کدۂ حیرت میں غلطاں مریض بے تابانہ سوال کرتا ہے مگر جواب ندارد۔ مڈ کیرئیر ڈاکٹر صاحب تو مسکراتے بھی نہیں، الفاظ ادا کیے بغیر بس کنائے سے سمجھا دیتے ہیں کہ صرف بڑے ڈاکٹر صاحب ہی اس لاینحل موذی بیماری کے علاج پر قادر ہیں۔ پیشنٹ بقلم خود مطمئن و مسرور ہے کہ خواہ تھوڑی دیر کے لئے سہی‘ زمانے کے شوروغل سے نجات حاصل کیے بیٹھا ہے اور مسلسل مرکز نگاہ بنا توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اسے بے اختیار ہسپتال پر پیار آ جاتا ہے۔
چند ساعتوں کا ثبات اس بات کا ثبوت ہے کہ مڈ کیریئر ڈاکٹر صاحب کے لئے یہ مقام سدرۃ المنتہی ہے اور اس سے آگے بڑھنے پر ان کے پر جلنے کا اندیشہ۔ قابل علاج اور لاعلاج کیفیت (یعنی ہوت اور لاہوت ) کے درمیاں غوطہ زنی جاری ہے کہ اچانک ہی بلاوا آ جاتا ہے اور کلائنٹ ڈاکٹر صاحب کو قاب قوسین کی فاصلے پر انتہائی وارفتگی اور اپنائیت کا احساس سجائے مسکراتا ہوا پاتا ہے۔ معرفت کی اس دل کشا گھڑی میں کلائنٹ خود سپردگی کے آخیر درجے پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب اپنے شکار پر مکمل حاوی ہوچکے ہیں۔ راز و نیاز کی باتوں کے درمیان ہی بی 2 سائز کے ایک جہازی کاغذ پر دواؤں کا اتنا ذخیرہ لکھ دیتے ہیں جس سے گھر کی میز میڈیکل اسٹور کا شیلف معلوم ہوگی۔ یہ دوائیں بنگلے کے پائیں باغ والی جانب کمرے میں قائم میڈیکل اسٹور ہی سے ’جسے بہ حد ادب فارمیسی پکارنے پر زور ہے‘ بھاری قیمت ادا کر کے حاصل کی جائیں گی کیونکہ ان میں کچھ درآمد شدہ ادویات بازار میں عام دستیاب نہیں۔ کلائنٹ جب بے یقینی کا برزخ ذہن میں بسائے اور امید کا دامن اپنے ہاتھوں پر اٹھائے اٹھ کر چلا جاتا ہے تو بڑے ڈاکٹر صاحب گہرا سانس لے کر اوسط دیہاڑی کا حساب لگاتے ہیں۔ ابھی تو بڑے ڈاکٹر صاحب کے ہاں باریابی کی ابتدا ہوئی ہے اور حاضریوں کا سلسلہ دراز رہے گا ’ان شا اللہ۔ کیا کلائنٹ کی یہاں سے واپسی کا کوئی امکان ہے؟ بڑے ڈاکٹر صاحب کے سیٹ اپ سے آگے ہی بسا بسایا خوب صورت سا قبرستان واقع ہے۔ جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔ عارضے کے مطابق سرجری کی ایک سیریز شروع ہونے کا امکان ہے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب کی ہاسپٹیلٹی کا مطلب ہے‘ ہاسپٹیلائزیشن۔
شان دار مقام و مرتبے تک پہنچنے اور علاج میں ہاتھ مانجھنے کے لئے بڑے ڈاکٹر صاحب ایک طویل مسافت طے کرتے ہیں۔ مالی صعوبتوں ’حالات کی دقتوں اور موسم کے گرم سرد کے باوجود بچپن کا شاندار تعلیمی ماضی۔ محنت اور مزید محنت۔ میڈیکل کالج کے بعد بحیثیت جونیئر ڈاکٹر بے داغ رکارڈ۔ خدمت میں پیش پیش۔ بے لوث لگن سے ولایت روانگی اور اسپیشلائزیشن۔ دن رات ڈیوٹی۔ انسانی اجسام کو سیلیکون ٹوائے سمجھ کر کاٹنا سینا۔ ہڈیوں کو مصالحے سے جوڑنا‘ جوڑوں اور کھال کا بخیہ ادھیڑنا۔ یہ سب بڑے ڈاکٹر صاحب کا خاصہ ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں پے درپے آپریشن کر کے نادار لوگوں پر ہاتھ صاف کیا جاتا اور پھر مالدار لوگوں کو ہاتھ کی صفائی دکھائی جاتی ہے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب کو وہ دن یاد آتے ہیں جب دیگر پیشوں سے وابستہ ان کے ہم عمر زندگی کا لطف اٹھارہے تھے تو وہ موٹی موٹی کتابوں میں ورق گرداں تھے۔ ان کے کپڑوں میں کلوروفارم اور ٹنچر کی مہک بسی ہوتی تھی۔ بھنا گوشت کھاتے ہوئے اعضا کے لوتھڑے نظروں میں سمائے رہتے تھے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب زندگی کے ہارڈ ویئر سے دلچسپیوں کا سارا ڈیٹا اپنے ہاتھ سے ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔ عمر کی سوئی پینتالیس پر پہنچتی ہے تب جاکر سوئی ہوئی قسمت جاگتی ہے۔ محنت رنگ لاتی ہے اور لکشمی دیوی ان پر مہربان ہوتی ہے۔ اتنی محنت کے بعد صاحب ثروت مریضوں کی کلائنٹیج ان کا حق تو بنتا ہے۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اسکول کے زمانے میں کبھی انہوں نے ڈاکٹر بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کا عہد بھی کیا تھا۔ گھوڑا گھاس سے دوستی کر لے تو کھائے گا کیا؟ سرکاری اسپتال کے مریضوں بھی تو انہیں خوب ستایا کرتے تھے۔ خاص طور پر جب اسپتال میں دوائیں نہ ملنے پر نواحی اور دور دراز سے آئے مریضوں کے لواحقین سیخ پا ہوتے تھے۔ مضافاتی علاقے کے کسی مریض کے مرجانے پر لواحقین خواہ مخواہ جونیئر ڈاکٹروں سے بدتمیزی پر اتر آتے تھے۔ اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن بڑے ڈاکٹر صاحب بننے کے بعد وہ ان پھڈوں سے خوب اور با آسانی نمٹ لیتے ہیں۔
بڑے ڈاکٹر صاحب کے پاس وقت بالکل نہیں ہوا کرتا۔ خود اپنے لئے بھی نہیں۔ پیسے کی روانی اور ریل پیل آمدنی کے باوجود ان کی بے شمار خواہشیں نا آسودہ اور سماجی شوق ادھورے رہ جاتے ہیں۔ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جایا کرتے ہیں۔ ایک نئے نئے ڈاکٹر کے اندر کلبلاتا ’ابھرتا اور باہر جھانکتا ہوا ”بڑے ڈاکٹر صاحب“ آسانی سے دیکھ لیا جاتا ہے۔ جوان ڈاکٹر میں سے ”بڑے ڈاکٹرصاحب“ تو نکل آتے ہیں مگر ان میں موجود‘ لڑکا ”وہیں کہیں اندر ہی پھنس کر رہ جاتا ہے۔ جیتا جاگتا ہنستا کھیلتا ہیولا ’شاعری سے شوق رکھنے والا بانکا‘ پھولوں سے شغف اور صنف نازک میں مقبول کھلنڈرا کہیں گم ہوجاتا ہے۔ مریض کے شکایت کنندہ لواحقین میں سے بدمعاشی پر اتر آیا کوئی غنڈہ بڑے ڈاکٹر صاحب کو ڈرانے کے لئے جب یہ کہتا ہے کہ“ ڈاکٹر ساب تم کو نہیں پتہ ’اپن سالا آٹھ 8 قتل کر چکا ہوں ”تو پراعتماد بڑے ڈاکٹر صاحب اب بے خوفی اور کامل یقین سے اسے جواب دیتے ہیں کہ میاں تمہیں بھی نہیں پتہ اسی 80 سے زیادہ لاشیں تو میں بھی اسٹریچر سے قبرستان بھیج چکا ہوں۔ بحث ختم۔ نوبت بڑے ڈاکٹر صاحب تک پہنچ جائے تو بلا شبہ مریض کا گورکن سے بہت کم فاصلہ رہ جاتا ہے۔ اسٹریچر چڑھا‘ تابوت اترا۔ جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔


