ہاؤس جاب کی کہانی


سنتے آئے تھے کہ دنیا گول ہے اور پھسلن کے کارن ایک جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ اتنی چھوٹی بھی ہے اس کا ہمیں اندازہ بلکل بھی نہیں تھا۔ ابھی کل کا دِن تھا کہ ہاؤس جاب شروع ہوئی تھی۔ ہم صبح صادق کے قریب اٹھتے اور رنگ گورا کرنے والی کریمیں پے در پے گالوں پر لیپتےرہتے۔ پھر ٹائی درست کرتے اور جھڑکیاں کھانے وارڈ میں پہنچ جاتے۔ راؤنڈ کے دوران ہم سر کو اور وہ کہیں اور دیکھتے رہتے رہتے۔ پھر قدرت کی کرنی ہوئی کہ آفت کی پرکالا شہر بدر ہوئی۔ ان کی جگہ موٹے موٹے ڈشکرے وارد ہوئے۔ ہماری سہولت اور سر کی شوخی جاتی رہی۔ اب وہ خال خال ہی مسکراتے تھے مگر جب فارما کمپنی کا لنچ ہوتا۔ پھر اپنے جیون میں زبردست شیطان کا دھکا لگا اور ہم بچوں کی وارڑ میں آن گرے۔ نرسری میں آنے کا یہ فائدہ ہوا کہ شکل دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ ٹوکری میں لیٹا ننھا شیطان اب کس بہانے سے غدر مچانے والا ہے، اور یہ کہ گھر والوں کی لائی مٹھائی میں سے کون سا گولہ اٹھانا بے۔ اور بہ کہ بےبی فارمولہ سے چائے بھی اچھی بنتی ہے۔ تجسس کے ہاتھوں ہم نے فامولا صرف چکھا تھا، لیکن ہمدم دیرینہ تو رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جب انکی مونچھوں پر سفید سفید پاؤڈر خیانت کا ثبوت بنا چمک رہا تھا۔
زندگی کا لطف لینا ہو تو علمی علمی باتاں کے علاوہ کچھ دل لگی بھی ہونی چاہیے۔ جس واسطے ہم کوچہ مے فروشاں میں فروکش ہوئے۔ اور استادوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ قصہ مختصر بیہوشی یا مدہوشی کے شعبے میں مریضوں کو نشہ آور دوا پلا کر یا سونگھا کر سلا دیتے اور اسی اثنا سرجن ان کا پیٹ چاک کرتا اور من کی مراد یعنی ایک عدد پتہ نکال لیتا جو باعث گرانی ہوتا جسے ہم چھوٹے سے مرتبان میں ڈال کر مریض کے حوالے کر دیتے۔ صاحبوں بعض دفعہ مریض کی سانسوں سے نکلنے والی فلورین گیس جو پھس پھساتے وینٹیلیٹر سے نکل کر پورے تھیٹر میں گردش کرتی، کو ہم براہ راست بھی سونگھتے اور شادہ و فرحاں رہتے۔ کرسی پر بیٹھ ہماری جسامت بھی گول مٹول ہو گئی اور فرصت کے لمحات میں مزے مزے کے رسالے بھی پڑھ ڈالے۔ وہیں ہم پہ غنودگی کے عالم میں یہ القا بھی ہوا جو مضمون کا ایجنڈا بھی ہے اور اپنی کارگذاری کا مغز بھی، کہ زندگی میں ہمیشہ ایک راہ فرار ہونی چاہیے۔ جہاں ہم اپنا غم غلط کرنے کے لیے چھپ جائیں، جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو۔ ایسے وکیشن، مشغلہ، نشہ، ٹھرک یا تحریک اگر تخلیقی عنصر بھی رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ بوریت کو کم بھی کرے۔ اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور تجربہ کر کے جیون کے کڑوے گھونٹ بھی بھرے جا سکیں۔ اس راہ فرار اور پرفیکٹ اسکیپ کی تلاش ہی در اصل جیون کی سمجھ ہے۔ جب بھی باد شمال کرائسس کی نوید بن کر آئے گی جو ضرور آتی ہے تب لمبی داڑھی، اور اونچا پائجامہ مجھے تو قابل عمل حل نہیں لگتا۔
آجکل لوگ پیئر پریشر میں جانے کیا کچھ کر گزرتے ہیں۔ اگر آپکو کوئی بات پسند نہیں جیسے سوشل لائف، نمائشی طرز زندگی، یا مذہبی پریشر تو آپ اپنے لیے پرسنل اسپیس کیوں نہیں بنا لیتے۔ ہمیں تو دوسروں کی اسپیس کا بھی خیال رکھنا چاہیے جہاں ہمیں اپنی دھونس اور مشورے نہیں چلانے چاہیے۔ ایک ایسی ہلکی پھلکی زندگی جہاں سب کو خوش رہنے، سیف رہنے اور اپنے اوٹ پٹانگ خیالات کے ساتھ رہنے کی آزادی ہو۔
اب جیسے ہاؤس جاب اینڈ ہو رہی ہے اور اندیشے ٹیکی کارڈیا کر رہے ہیں، ذہنی کجی اور ہے ہنگم خوابوں کو یورش بھی تیز ہوئی جاتی ہے۔ ہم بھی ٹھسے سے کارٹون موویز کے کشتوں کے پشتے لگائے جا رہے ہیں۔ اور جیسے نانا جی فرماتے تھے، ”جو  ہوسی ڈٹھا جاسی” کے فارمولے پر کار فرما ہیں۔ دیسی دیواسی مولا۔
Facebook Comments HS