وہ ورق تھا دل کی کتاب کا: ایک شاہکار
اس کتاب کے مصنف محمد اقبال دیوان صاحب ہیں۔ دیوان صاحب کا تعلق ریاست جونا گڑھ کے دیوان اور پیٹل گھرانے سے ہے۔ آپ طویل عرصے تک بیوروکریسی کا حصہ رہے ہیں۔ ساٹھ سے زائد ممالک کی یاترا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا مشاہدہ عمیق ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر دیوان صاحب کی معلومات، مطالعہ، مشاہدہ اور اپنے موضوعات پر گرفت دیکھ کر رشک آتا ہے۔
اس کتاب میں پیار و محبت کے قصے، راز و نیاز کی باتیں اور کچھ ان کہے سچ ہیں۔ یہ قصے، کہانیاں اور واقعات پاکستان کی سیاست، افسر شاہی اور اشرافیہ کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ کتاب پس پردہ حقائق کا احوال ہے۔ یہ کتاب بے حد دلچسپ ہے۔ میں اسے دو دفعہ پڑھ چکا ہوں۔ اس کتاب کی ہر دوسری لائن کو ہائی لائٹ کرنے کو دل چاہتا ہے۔ اس کی شاید وجہ مصنف کے گہرائی اور منطق کے ساتھ کتاب میں موجود مشاہدات ہیں۔ سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے متعلق وہ سچ ہیں، جو اکثر hidden رہتے ہیں۔
اقبال دیوان صاحب اسلوب نثر نگار ہیں۔ ان کی نثر میں مختلف زبانوں کے الفاظ کا برجستہ استعمال تحریر کا مزہ دو بالا کر دیتا ہے۔ جبکہ انگریزی زبان کے الفاظ اور محاورے تو پڑھنے والے کو منفرد ذائقہ عطا کرتے ہیں۔ ہر قصے میں مختلف لینڈ اسکیپ، فلمی ڈائیلاگ، اردو شاعری، دلچسپ واقعات، مخلتف شخصیات، کھیل، سیاست، مذہب اور تاریخ کا ٹچ تحریر میں وسعت اور محویت پیدا کر دیتا ہے۔ دیوان صاحب کی قرآن فہمی بھی قابلِ تعریف ہے۔ موقعہ محل کے مطابق قرآنی آیات تحریر کو جاندار بنا دیتی ہیں۔ دیوان صاحب کو کردار نگاری اور منظر نویسی پر خاص عبور حاصل ہے۔ کئی کردار اور مناظر کا ایک ساتھ پیچیدہ احوال بھی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ نہیں ہونے دیتا۔ دیوان صاحب کی تحریر کے یہی اوصاف انہیں دیگر ہم عصر لکھاریوں سے منفرد بناتے ہیں۔
مجھے اقبال دیوان صاحب کے ہاں سعادت حسن منٹو ایسی بے باکی، حقیقت پسندی اور جدیدیت نظر آتی ہے۔
دیوان صاحب بھی ایک حقیقت پسندانہ سوچ کے حامل مصنف ہیں۔ آپ کے موضوعات diverse ہیں۔ آپ کی تحریریں معاشرتی حرکیات اور انسانی تجربات کے بارے میں ایک فکری تناظر پیش کرتی ہیں۔ یہ تحریریں عصری زندگی کی پیچیدگیوں کو گہرائی اور فکری بصیرت کے ساتھ گرفت میں لاتی ہیں۔
یہ کتاب "وہ ورق تھا دل کی کتاب کا” یوں تو مجموعی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ مگر مملکت پاکستان جن سماجی، سیاسی اور معاشی گھمن گھیریوں کا شکار ہے۔ ان مسائل کا
Viable
حل, سولہویں باب میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ مثلآ زائد صوبوں کا قیام، کابینہ کی محدود تعداد، آزاد الیکشن کمیشن، براہ راست سینیٹ، موضوعاتی کمیٹیاں، آزاد عدلیہ، وزیراعظم کی روزمرہ مصروفیات کو پبلک سے شئیر کرنا، ٹیکنوکریٹ کابینہ، ہر سرکاری تعیناتی بذریعہ مقابلے کے امتحانات، اسلحہ لائسنس پر پابندی، ہیوی ٹریفک لائسنس کےلئے میٹرک تعلیم کی شرط، پولیس کو مقامی حکومت کے تحت چلانا، مردم شماری بذریعہ شناختی کارڈ، زرعی اصلاحات، یونیورسٹی اور مارکیٹ کا لنک، تعلیم میں ہنر، ٹیکنالوجی، ریسرچ وغیرہ شامل ہیں۔
آخر میں ہم کتاب سے چند دلچسپ فقرے درج کیے دیتے ہیں۔
"محبت ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جو دل میں گھر کر جاتی ہے۔”
"کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دو متضاد خیالات دراصل ایک ہی بڑی سچائی کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔”
طاقت کا مسلمہ اصول ہے کہ اس سے رعایت مزید طاقت ہی مانگ سکتی ہے۔”
"عورت کی دنیا عیش کی دنیا ہے۔ possessions کی دنیا ہے۔”
"ہم بیوروکریسی کے لوگ، چراغ کے جن ہیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ چراغ کس کے پاس ہے، ہمارا کام مالک کی خواہشات کی تکمیل ہے۔”
"عشق کے انتظار میں اور شادی کے انتظار میں صرف اتنا فرق ہے کہ شادی کے بعد کے انتظار میں نیند آ جاتی ہے۔”
"عورت کو اگر سمجھنا چاہتے ہو تو اسے سنو مت، بلکہ دیکھا کرو۔”
دنیا میں کوئی ایسا نہیں جسے آپ کچھ سیکھا نہ سکیں اور دنیا میں کوئی ایسا نہیں جس سے آپ کچھ سیکھ نہ سکیں.”
"سارا مسئلہ نوکر شاہی کی سوچ کا ہے، وہ کبھی سیدھا سوچ ہی نہیں سکتی۔”
اس کتاب کے دو ایڈیشن آ چکے ہیں۔ یہ کتاب بک کارنر جہلم نے شائع کی ہے۔ 455 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے آپ آئن لائن بک کارنر جہلم کی ویب سائٹ سے منگوا سکتے ہیں۔ کتاب وہ جو ہماری سوچوں میں طلاطم، افکار میں بدلاؤ اور خیالات میں پختگی پیدا کر دے۔ میں پورے وثوق سے یہ بات کہتا ہوں۔ یہ کتاب آپ کو یہ تینوں ذائقے عطا کرے گی۔

Facebook Comments HS


