بنگلہ دیش فارمولا
”شیخ حسینہ کے دور حکومت میں زبردست کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی کرپشن، اختلاف رائے کا کچلا جانا، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریاں، زیر تحویل تشدد، حزب مخالف کے جلسوں میں گڑبڑ، انتخابات کے پہلے سے تیار شدہ نتائج بھی معمول بن چکے ہیں جنہوں نے ان کے دور حکومت کو ایک دلدل میں دھکیل دیا ہے“ ، یہ پیرا گراف پروفیسر ڈاکٹر عادل ایم خاں کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب، ”بنگلہ دیش میں ترقی اور طرز حکومت کے پچاس سال“ پر معروف ادیب و دانشور سابق فیڈرل سیکریٹری طارق محمود کے تبصرے سے لیا گیا ہے۔
طارق محمود خود بھی ڈھاکہ یونیورسٹی سے معاشیات میں سند یافتہ ہیں جبکہ بنگلہ دیشی نژاد آسٹریلوی شہری پروفیسر ڈاکٹر ایم عادل خاں جو کہ سیاسی معیشت میں پی ایچ ڈی ہیں اور آسٹریلیا کی کوئینز لینڈ یونیورسٹی کے اسکول آف سوشل سائنسز سے وابستہ ہیں اقوام متحدہ میں بطور پالیسی مینیجر خدمات انجام دینے سے قبل بنگلہ دیش کی وزارت منصوبہ بندی میں اہم عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دور حکومت سے متعلق ان کی کتاب پر تبصرے کا پیرا گراف اجاگر کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ بنگلہ دیش کی زبردست ترقی سے متاثر ہو کر پاکستان کے ایوان اقتدار میں بھی کچھ عرصے سے بنگلہ دیش ماڈل اختیار کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ماڈل اختیار کرنے کی باتیں کرنے والوں کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ بنگلہ دیش میں طرز حکومت کی تقلید تو ہمارے ہاں پہلے ہی 2018 سے کی جا رہی ہے بلکہ اس معاملے میں ہم شاید ان سے دو قدم آگے ہی ہیں۔ البتہ جہاں تک معاشی ترقی کا تعلق ہے ہماری حالت ان کی نسبت یقیناً پتلی ہے۔ بہرحال اس کے باوجود اگر یہ معلوم ہو جائے کہ بنگلہ دیش نے غیرمعمولی ترقی کن حالات میں اور کس قیمت پر کی تو ہم میں سے شاید ہی کوئی ہو گا جو یہ فارمولا اپنانے کی بات زبان پر بھی لائے۔
بنگلہ دیش کی ترقی پر اش اش کرنے والے بہت سے لوگ شاید ہی یہ جانتے ہوں گے کہ ققنس کی طرح بنگلہ دیش وہ پرندہ ہے جو دوبارہ اپنی راکھ سے پیدا ہوا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 71 کی فیصلہ کن جنگ سے قبل طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں نوزائیدہ ملک کو جس تباہ کن صورت حال سے گزرنا پڑا تھا اس کے باعث بنگلہ دیش کا شمار غریب ترین ممالک میں ہونے لگا تھا جسے پیش نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اس کا نام دنیا کے سب سے کم ترقی یافتہ گنے چنے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔
اقوام متحدہ کی پالیسی کے مطابق اس فہرست میں شامل ممالک کم شرح سود پر قرضے کے حقدار ہو جاتے ہیں اور ان پر جاپان سمیت دنیا کے 27 ترقی یافتہ ممالک کو بلا روک ٹوک برآمد کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو یہ سہولت حاصل ہونے پر جنوبی کوریا نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا اور بنگلہ دیش کی ایک کمپنی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل کے فروغ کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں بنگلہ دیشی کاریگروں کی بڑے پیمانے پر تربیت شروع کرنے کا اہتمام کر دیا۔
جنوبی کوریا کے لئے بنگلہ دیشی مصنوعات کے لئے برامد کے دروازے کھل جانے سے زیادہ پر کشش بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر آسانی سے میسر سستی اجرت تھی جو پاکستان کی نسبت آدھی تھی۔ یہ ہے 1975 میں بنگلہ دیش کی ترقی کے آغاز کا وہ راز جس کی بنا پر اس کی برآمدات دیکھتے ہی دیکھتے 36 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئیں جن میں سے 80 % کا انحصار ٹیکسٹائل کی مصنوعات اور سلے سلائے کپڑوں پر ہے۔ معاشی حالات بہتر ہوئے تو بنگلہ دیش نے سیاحت، آئی ٹی، دواؤں اور جوتے بنانے کے علاوہ دیگر صنعتوں میں ترقی کی۔
ان سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ترقی آبادی میں اضافے پر نمایاں کنٹرول اور عورتوں کے حقوق سمیت صحت و تعلیم کے میدانوں میں خاطرخواہ کامیابیوں کی صورت میں رونما ہوئی۔ ترقی کے اس راستے پر بخوبی گامزن ہونے میں وہ عنصر جس نے راہ ہموار کرنے میں مدد دی یکساں ثقافت پر مبنی جاگیرداری سے مبرا معاشرہ ہے جس کی قیادت متوسط طبقے کے ہاتھوں میں ہے۔ بنگلہ دیش میں جاگیرداری کا خاتمہ 1951 میں ہی اس قانون کے ذریعے کر دیا گیا تھا جو مشرقی بنگال کی اسمبلی میں منظور کیا جانے والا پہلا قانون تھا۔
یہ اور بات ہے کہ بنگالیوں کی اکثریت کی بنا پر پورے پاکستان میں ایسا ہی قانون نافذ کیے جانے کے خوف سے ہم نے جمہوریت سمیت ان سے بھی جان چھڑا لی۔ آزادی حاصل کرنے پر جو دفاعی انتظامات بنگلہ دیش کے حصے میں آئے وہ اس لئے برائے نام ہی تھے کہ بنگلہ دیش جب پاکستان کا حصہ تھا تو اس کا دفاع بھی مغربی پاکستان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ دفاعی انتظامات مختصر ہونے کا بنگلہ دیشں کو اس لحاظ سے فائدہ تو پہنچا کہ اسے دفاع کی مد میں زیادہ رقم مختص نہیں کرنی پڑی البتہ اس سے بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسے ترقی کی تمام منازل ہندوستان کے سامنے سرجھکا کر طے کرنی پڑیں۔
یہ اتنی بڑی کمزوری تھی جس نے بنگلہ دیش کی حکومت کو اپنے استحکام کے لئے بھی ہندوستان کا محتاج بنا کر رکھ دیا ہے۔ بلا شبہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ڈاکٹر عادل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ دستیاب شہادتوں کے مطابق نہ صرف طاقت کی تمام کنجیاں شیخ حسینہ کی گرفت میں ہیں بلکہ انہیں نادیدہ قوتوں کی مدد بھی حاصل ہے جس کی بنا پر انہیں سوائے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے جو وہ ہونے نہیں دیتیں کسی اور طریقے سے اقتدار سے ہٹانا ممکن نہیں۔
ڈاکٹر عادل ان نادیدہ قوتوں کی وضاحت نہیں کرتے البتہ ان کی کتاب پر اپنے تبصرے میں طارق محمود ہندوستان کے معروف صحافی شیکھر گپتا کی اس رائے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھید بخوبی کھولتے ہیں کہ مالدیپ سری لنکا و نیپال سے ہندوستان کے تعلقات اچھے نہ ہونے اور چین و پاکستان سے پرانی مخاصمت کی بنا اکیلا رہ جانے کے باعث ہندوستان شیخ حسینہ کو ہر صورت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہے گا جنہوں نے اپنا اقتدار قائم رکھے جانے کی ضمانت کے عوض اسے اپنی بندرگاہ تک رسائی اور اس تک پہنچنے کے لئے گزرگاہ جیسی رعایتیں فراہم کی ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر عادل اپنی کتاب میں بنگلہ دیش کی پچاس سالہ تاریخ کو پانچ ادوار میں تقسیم کرتے ہیں جن میں سے پہلا دور شیخ مجیب کا ہے جن کے 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کو جراتمندانہ قرار دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ اس سے بنگلہ دیش کو پاکستان سمیت برادر اسلامی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملی۔ دورحکومت کے آخر میں البتہ انہوں نے یک جماعتی نظام قائم کر دیا جس نتیجہ 1975 میں سوائے ان کی بیٹی شیخ حسینہ کے شیخ مجیب کے تمام اہل خانہ سمیت قتل کی صورت میں نکلا۔
اس سے اگلا دور وہ جنرل ضیا الرحمن کا شمار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے صدارتی طرز حکومت میں سرحدی، ثقافتی اور مذہبی ورثے کی بنا پر جو مغربی بنگال سے مختلف تھا بنگالی قومیت پر بنگلہ دیشی قومیت کا رنگ چڑھایا۔ 1976 سے 1981 تک اس دور میں ایک اور قابل ذکر کام جو جنرل ضیا الرحمن نے شیخ مجیب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انجام دیا وہ برادر اسلامی ممالک سے تعلقات کو مزید بہتر بنا کر مشرق وسطی میں بنگلہ دیشیوں کے لئے ملازمتوں کے دروازے کھولنا تھا جو زرمبادلہ کی ترسیل کا دوسرا بڑا ذریعہ بن گئیں۔ جنرل ضیا الرحمن 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں قتل ہو گئے جس کے بعد 1990 تک جنرل ارشاد کی حکومت رہی جو
ڈاکٹر عادل کے مطابق حکمرانی کا تیسرا دور تھا۔ غیر مرکز پذیر طرز حکومت کے اس دور میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ملک نے خاطر خواہ ترقی کی لیکن بدعنوانی اور اقربا پروری نے اسے گرد آلود کر دیا۔ جنرل ارشاد کے دور کا خاتمہ جمہوری تحریک سے ہوا جو جمہوری حکومت کی بحالی کے لئے جنرل ضیا الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ نے مل کر چلائی تھی۔ جمہوری نظام کی بحالی کے بعد 2006 تک کے عرصے کو ڈاکٹر عادل چوتھا دور قرار دیتے ہیں جس کے دوران دونوں خواتین نے باری باری ملک کی وزارت عظمی سنبھالی۔
اس دور میں دیگر کئی نمایاں کامیابیوں کے علاوہ بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی۔ چوتھے دور حکومت کے بعد دو سال تک نیم فوجی حکومت رہی جس کے اختتام پر شیخ حسینہ کا پانچواں دور حکومت شروع ہوا جو اب تک چلا آ رہا ہے۔ اس دور میں دریائے پدما پر چھ کلومیٹر سے زیادہ لمبے پل کی تعمیر اور ڈھاکہ میں تیز رفتار میٹرو ایسی کامیابیاں ہیں جن پر شیخ حسینہ ور ان کی پارٹی عوامی لیگ بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملازمتیں حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ بھی ایک قابل ذکر پیش رفت ہے جس نے معاشرے میں عورت کو با اختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر عادل کی نظر میں یہ شاندار کامیابیاں اپنی جگہ لیکن قانون کی حکمرانی، شفافیت اور احتساب کے فقدان کو وہ ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے سے تعبیر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی اور اچھی حکمرانی میں عدم توازن کا بحران ان کامیابیوں کو بالآخر ہڑپ کر سکتا ہے۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت کو قتل کرنے کے لئے جمہوریت کو ہی استعمال کیا گیا وہ ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر قابو پانے کے لئے اخلاقی قدروں کو مضبوط بنانے، تعلق خاطر کو فروغ دینے اور شہریوں میں برے بھلے کی تمیز پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں۔
ڈاکٹر عادل کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر شہریت کی اقدار کا فروغ حکومت کو شہریوں کے سامنے جوابدہ بنانے میں مدد دیتا ہے جسے وہ جمہوری اصلاحات میں شامل کرنے کی مشورہ دیتے ہیں۔ ڈاکٹر عادل خاں کی تجاویز سن کر یوں لگتا ہے گویا وہ بنگلہ دیش کی نہیں بلکہ پاکستان کی بات کر رہے ہوں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ درحقیقت یہ وہ ماڈل ہے جسے بنگلہ دیش کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اپنانے کی ضرورت ہے اور جسے پیش کرنے پر ڈاکٹر عادل بلا شبہ زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

