ایبسولوٹلی ناٹ
وضاحت: یہ ایک غیر سیاسی مضمون ہے جسے سیاسی لوگ بھی پڑھ سکتے ہیں (سیاست کو ایک طرف رکھ کر )
میرے والدین نے جانے کیا سوچ کر میرا نام ’فرماں بردار‘ رکھا تھا؟ ممکن ہے ان کا یہ خیال ہو کہ یہ نام رکھنے سے میں بڑا ہو کر ان کا فرماں بردار بیٹا بن جاؤں گا یا پھر اللہ کا فرماں بردار بندہ بن کر اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کروں گا۔ اگر یہی بات تھی جس کا میں نے ابھی تذکرہ کیا ہے تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی، نہ تو میں فرماں بردار بیٹا بن سکا اور نہ ہی فرماں بردار بندہ۔
البتہ شادی کے بعد ایک فرماں بردار شوہر ضرور بنا، مگر اس کا سارا کریڈٹ خود میری زوجہ جاں فزا (زوجہ کا نام ہے ) کو جاتا ہے جس کے قدوقامت (لمبائی: چھ فٹ، چوڑائی: تین فٹ) ، رعب و جلال (غضبناک آنکھیں، لمبی زبان، بھاری ہاتھ) ، انداز تکلم (ہاتھوں سے بات کرنا) اور انتھک محنت کے سبب مجھ میں فرماں برداری کے جواہر پیدا ہوئے۔ اسی خوبی کی بنا پر میرے محلے دار اور جان پہچان والے مجھے ”جورو کا غلام“ یا ”زن مرید“ کے القاب سے پکارتے ہیں، جس کا میں بالکل بھی برا نہیں مانتا کیوں کہ میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں۔
پیشے کے لحاظ سے میں ایک تاجر ہوں اور شہر کے ایک مصروف بازار میں میری انڈر گارمنٹس کی دکان ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ کراچی میں بازار دن بارہ بجے سے پہلے نہیں کھلتے، لہذا میں بھی اپنی دکان بارہ بجے کے بعد کھولتا ہوں، لیکن میری گھریلو ذمہ داریوں کا آغاز فجر کی اذان سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ صبح اٹھ کر سب سے پہلے بیگم صاحبہ کے لیے بیڈ ٹی بنا کر انھیں ان کی بستر پر جاکر پیش کرتا ہوں جسے پی کر وہ دوبارہ سو جاتی ہیں۔
بچوں کے لیے ناشتہ بنا کر انھیں اسکول جانے کی تیاری کروانا بھی میرے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ ناشتے کروا کر بچوں کو اسکول چھوڑنے کے بعد واپس آ کر کچن کی صفائی اور استعمال شدہ برتن مانجھنے ہوتے ہیں، ان تمام امور سے نمٹتے نمٹتے صبح کے دس بج جاتے ہیں۔ کپڑے روز نہیں دھوتا، ہفتے میں تین دن اس کام لیے مختص کر رکھے ہیں، مقررہ دن کپڑوں کو واشنگ مشین میں ڈال کر بیگم صاحبہ کے لیے ناشتہ لینے جاتا ہوں، وہ ناشتے میں چائے کے ساتھ انڈا پراٹھا کھاتی ہیں جو میں کوئٹہ دربار کاکڑ ہوٹل سے لاتا ہوں۔ بیگم کو ناشتہ کروانے کے بعد واشنگ مشین سے کپڑے نکال کر سوکھنے کے لیے رسیوں پر ٹانگ دیتا ہوں۔ میں بیگم صاحبہ کا تہ دل سے شکر گزار ہوں کہ وہ سوکھے کپڑوں کو رسیوں پر سے اتار دیتی ہیں۔
گھر کے سارے کام کرنے کے بعد دن بارہ بجے (بغیر نہائے ) دکان کا رخ کرتا ہوں جہاں رات آٹھ بجے تک گاہکوں کی جیبوں سے پیسہ نکالنے کا فریضہ انجام دینا پڑتا ہے۔ یہ بات آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ لوگوں کی جیبوں سے پیسہ نکالنا شیر کے جبڑے سے گوشت نکالنے کے برابر ہے۔ کتنے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھانی پڑتی ہیں، گاہکوں کو شیشے میں اتارنے کے لیے ان کی چاپلوسی کرنی پڑتی ہے، خواتین کے حسن کا بے جا تعریف کرنا ہوتا ہے تب کہیں جاکر کچھ پیسے ہاتھ لگتے ہیں۔
دکان کی سردردی اور گاہکوں کو چونا لگانے کے بعد رات آٹھ بجے جب گھر پہنچتا ہوں تو وہاں ڈھیر سارے کام میرے منتظر ہوتے ہیں، جن میں سب سے اہم کام بیوی بچوں کے لیے رات کے کھانے کا بندوبست ہے۔ میری بیگم صاحبہ رات کو گھر کا پکا ہوا کھانا کھانا پسند نہیں کرتی (اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ خود کھانا پکانا نہیں چاہتی جب کہ میری واپسی رات آٹھ بجے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ اگر میں کھانا بنانا شروع کروں تو رات کے گیارہ بج جائیں گے اور بچوں کو بھوکا پیٹ ہی سونا پڑے گا) ۔
گھر پہنچتے ہی دوبارہ باکھڑا ہوٹل چلا جاتا ہوں جہاں سے تکہ بوٹی، چرغہ، رول، شوارمے یا بریانی خرید کر لاتا ہوں۔ یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ رات کو کچن میں کوئی کام نہیں ہوتا کیوں کہ رات کا کھانا ہم ڈسپوز ایبل برتنوں میں کھاتے ہیں، لہذا ڈنر سے فارغ ہو کر میں بیگم صاحبہ کا بستر صاف کر کے (جب وہ سونے کے لیٹ جاتی ہیں ) اس کے پیر دباتا ہوں، ایک گھنٹے تک یہ عمل جاری رہتا ہے تب کہیں جاکر بیگم صاحبہ سو جاتی ہیں اور میرے معمولات ختم ہو جاتے ہیں، میں بھی جاکر فرش پر سو جاتا ہوں۔ ان تمام سرگرمیوں کو لکھنے کا مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ زن مریدی یا جورو کی غلامی کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس کے لیے انسان کو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ بے حس اور سخت جان ہونا بھی ضروری ہے۔
میں یہاں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں، صرف پانچ جماعتیں پاس ہوں۔ کاروباری اور گھریلو مصروفیات کی وجہ سے میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں بچتا کہ ملکی سیاست میں دلچسپی لے سکوں یا رات کو ٹی وی ٹاک شو دیکھتا پھروں۔ البتہ گاہکوں کی توسط سے کچھ چیزیں میری بھی علم میں آتی رہتی ہیں، جیسے کچھ دنوں سے میں ایک نعرہ سن رہا تھا ”ایبسولوٹلی ناٹ“ مگر میری سمجھ میں اس کا مطلب نہیں آ رہا تھا۔
یہ تو مجھے اس دن معلوم ہوا کہ یہ فقرہ کب بولا جاتا ہے، جب ایک میاں بیوی میری دکان میں بچوں کے جراب اور بنیان خریدنے آئے۔ بچوں کی خریداری سے فارغ ہونے کے بعد بیوی نے شوہر سے فرمائش کی کہ اس کے لیے بھی کچھ انڈر گارمنٹس خرید لے کیوں کہ پرانے والے اب استعمال کے قابل نہیں ہیں۔ بیوی کی فرمائش سن کر شوہر نے غصے سے کہا: ”ایبسولوٹلی ناٹ!“ ، جسے سن کر بیچاری بیوی خاموش ہو کر رہ گئی۔ میں سمجھ گیا کہ اس فقرے میں کچھ ایسی طاقت ہے جسے سن کر سامنے والے کا منہ بند ہوجاتا ہے۔
ایک دن میری بیگم صاحبہ نے بھی مجھ سے فرمائش کی کہ اسے میکے چھوڑ آؤں۔ میری بدبختی دیکھیے کہ اچانک میری غیرت جاگ گئی اور جواب میں میں نے بھی ”ایبسولوٹلی ناٹ“ کا نعرہ بلند کیا، پھر اس کے بعد مجھے کچھ پتا نہ چلا کہ میرے ساتھ کیا ہوا کیوں کہ جب میں ہوش میں آیا تو خود کو سول اسپتال کے آئی سی یو میں پایا۔ سر پر ایک بڑی پٹی بندھی ہوئی تھی اور کپڑے خون سے تربتر تھے۔ یہ تو خود مجھے زوجہ جاں فزا نے بتایا کہ سر پر پورے پندرہ ٹانکے آئے ہیں۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا: ”وقوعہ کے وقت میرے ہاتھ میں بیلن تھا اور جلد بازی میں میرا نشانہ بھی چوک گیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو اسپتال آنا پڑا۔“
آج ایک ہفتے بعد میرے سر کے ٹانکے کھل گئے ہیں اور بیگم صاحبہ کے حکم کے مطابق میں نے اپنی گھریلو ذمہ داریاں پھر سے سنبھال لی ہیں۔ بہرحال اب میں نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ لوگوں کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے اور کسی بھی کام کرنے سے پہلے اپنی اوقات کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کیوں کہ ”جان ہے تو جہان ہے ورنہ سراسر نقصان ہے“ ۔


