میرا پہلا روزہ
اٹھ بھی جاؤ اب۔ تمھیں جگاتے ہی نہیں رہنا، ہمیں روزہ بھی رکھنا ہے۔ نہیں اٹھنا تو مرو پھر، خبردار جو دوبارہ جگانے کو بولا۔ مجھے جگا جگا کر امی تھک چکیں تو دھمکی لگا کے چلی گئیں۔
دادی بتاتیں روزہ دار جنت کے دروازے باب الریان سے جنت میں داخل ہوں گے۔ چلیں پھر میں دوسرے دروازے سے چلی جاؤں گی۔ دادی کو غصہ آ جاتا، اسی جواب کی توقع تھی تم سے۔ خود تو سب روزہ رکھ لیتے ہیں اور مجھے شرم دلاتے ہیں کہ تم روزہ نہیں رکھتی۔ حالانکہ میں رات سب کو باری باری پکی کر کے سوتی ہوں کہ مجھے یاد سے سحری میں جگا دینا۔
پتہ نہیں کیا ہوتا ہے سحری کے وقت میری آنکھ نہیں کھلتی۔ سب کے بار بار جگانے پہ اٹھ بھی جاؤں تو اچھا اٹھ گئی، کہہ کر پھر سو جاتی ہوں۔ ایسے لگتا ساری نیند بس اسی ٹائم آتی ہے۔ اس میں میرا قصور ہے بھلا؟ اللہ جانتا ہے روزہ چھوٹ جائے تو میں سارا دن کس طرح تڑپتی ہوں، سکون ہی نہیں آتا مجھے۔ اس کا کفارہ پھر روزہ داروں کے لیے افطاری بنا کے ادا کرتی ہوں۔ افطاری تیار کرتے ہوئے ہر چیز اچھی طرح سے چیک کر کے دسترخوان سجاتی ہوں۔
لیکن ستم دیکھیے عین افطاری کے وقت مجھے دسترخوان پہ اس جگہ بٹھا دیتے ہیں جدھر تک آتے آتے چیزیں تقریباً ختم ہوجاتی ہیں۔ کہتے تمھارا کون سا روزہ تھا۔ میرے بہن بھائیوں نے مجھ پر الزام لگا رکھا ہے کہ میں روزہ اس لیے نہیں رکھتی تاکہ زیادہ کھا سکوں۔ حد ہوتی الزام تراشی کی۔ میں کب کھاتی ہوں کچھ؟ جو بھی کھاتی ہوں خاص اللہ کی رضا کے لیے کھاتی ہوں، کہ افطاری کرتے ہوئے روزہ داروں کو پریشانی نہ ہو۔ ورنہ افطاری سے پہلے کس دل سے فروٹ چاٹ اور دہی بھلے کی دو پلیٹیں چکھتی ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں۔
پکوڑے اور سموسے بناتے ہوئے بھی بس نمک چکھنے کے لیے ہی کھانا پڑتا ہے۔ سب کام کرتے ہوئے تھک جاتی ہوں یہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ بس یہ نظر آتا ہے کہ دو گلاس ٹینگ بھی چڑھائے ہیں۔ اب کام کرتے کرتے میرا بی پی لو ہو جاتا ہے، ایسے میں اگر مر مرا جاؤں تو کون بنائے گا ان کے لیے افطاریاں۔ خود تو سارے افطار ٹرانسمیشن دیکھنے میں مگن ہوتے ہیں۔
اللہ ایسے ظالم گھر والے کسی کو نہ دے جنھیں ہر چیز افطار میں تیار ملے اور پھر بھی وہ باتیں کریں۔ مجھے روزے نہ رکھنے کا طعنہ دینے والے بھول گئے کہ پچھلے سال بھی میں صرف انتیس روزے چھوڑے تھے۔ تیسواں روزہ رکھنے کا میرا پختہ ارادہ تھا۔ لیکن مولویوں نے آدھی رات کو شوال کا چاند دیکھ لیا۔ آپ ہی بتائیے کیا کرتی، عید والے دن تو شیطان روزہ رکھتا ہے۔
لیکن اب جو بھی ہو میں دشمنوں کا منہ بند کرنے کے لیے روزہ رکھ کے دکھاؤں گی۔ رات پکا ارادہ کر کے سوئی تھی لیکن یہ کیا آج پھر صبح ہو گئی۔ مجھے کسی نے جگایا ہی نہیں، میں خفا ہو رہی تھی۔
میری ناراضی کی پرواہ کیے بغیر امی بولیں جتنا تمھیں جگایا جاتا ہے ایسے میں تو مردے بھی اٹھ جاتے ہیں۔ چھوڑ دو یہ ڈرامے بازیاں تم روزہ رکھنا ہی نہیں چاہتی۔
یہ بات ہے تو پھر آج میں آٹھ پہرہ روزہ رکھ کے دکھاؤں گی۔ مجھے روکے کوئی نہ۔ میں نے دھمکی لگاتے ہوئے کن اکھیوں سے امی طرف دیکھا۔ کوئی نہیں روکتا تم رکھنے والی بنو کی۔ امی کی بات سے شدید دکھ ہوا۔ کوئی اس طرح بھی کرتا ہے اپنی اولاد کے ساتھ۔
مجھے یاد ہے آخری بار رات 2 بجے کے ایف سی کا برگر کھایا تھا بس۔ افففف اتنا پہاڑ سا دن اور بھوکے پیٹ کیسے گزارہ ہو گا، میری آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اللہ اللہ کیسے ظالموں سے پالا پڑا ہے۔ کسی نے جھوٹے منہ نہیں روکا۔ یا اللہ اب تیرا ہی آسرا ہے۔ اللہ میاں جی کوشش کرتی ہوں۔ اگر بھوک لگی تو غلطی سے کچھ کھلا پلا دینا مجھے۔ گھر والوں سے مایوس ہو کر ڈائریکٹ اللہ ہی سے التجا کی۔ دن کا 1 بجا ہے اور مجھے بھوک سے چکر آنے لگے ہیں۔ آنتیں قل ہوا اللہ پڑھ رہی ہیں۔ ایک نظر فریج کو دیکھتی ہوں جس کے اندر طرح طرح کی نعمتیں رکھی ہیں تو ایک نظر گھڑی کو۔ جس کی سوئیاں بتا رہی ضبط کا امتحان ابھی اور ہے۔
میرا تو سر درد سے پھٹ رہا ہے، اٹھنے کی ہمت بھی نہیں رہی۔ کیا میں کبھی اپنے پیروں پہ کھڑی ہو سکوں گی۔ مجھے لگ رہا میرا آخری وقت آ گیا ہے۔ اس لیے اگلے پچھلے گناہوں کی معافی مانگ کر میں تو کلمہ بھی پڑھ لیا۔ اللہ جی اٹھانا ہے تو اٹھا لیں لیکن اس طرح بھوک سے تو نہ ماریں۔ دن کے پونے چار بجے ہیں بس اللہ میاں جی اب روزہ کھول دیجیئے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ کوئی ہے جو مسجد سے جا کر اعلان کرے کہ افطاری کا ٹائم ہو گیا۔
لوگ تو غلطی سے اتنا کچھ کھا جاتے مجھے تو غلطی بھی نہیں لگ رہی۔ یا اللہ اس بار تو غلطی لگ جائے آگے میری توبہ جو میں روزہ رکھوں۔ میں دل ہی دل میں اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔ کہ منہ سے تو کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔ اب تو آواز بھی بند ہو چکی تھی۔ میں نڈھال ہو کر پڑی تھی۔ کہ چھوٹی بہن اٹھانے آئی آپی آ جاؤ، روزہ کھلنے میں پانچ منٹ رہ گئے ہیں۔ لیکن مجھ سے تو اٹھا ہی نہیں گیا۔ رنگ پیلا زرد ہو چکا تھا۔ تقریباً گھسیٹ کر مجھے دسترخوان تک لایا گیا۔
سب میری آؤ بھگت کرنے لگے۔ لیکن یہ کیا روزہ کھلنے کے باوجود مجھ سے کچھ نہ کھایا گیا۔ امی نے زبردستی سموسہ پلیٹ میں رکھ کے دیا جسے منہ میں رکھتے ہی قے آ گئی۔ اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ یعنی میں بیہوش ہو چکی تھی۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں اور خبردار جو دوبارہ کبھی روزہ رکھا۔ مجھے طعنے دینے والوں کے منہ بند ہوچکے تھے اور طنز کی جگہ تفکر نے لے لی تھی۔


