پاکستان میں دھڑا بندی کا ارتقا


پاکستانی قوم جیسا افرادی تنوع شاید ہی دنیا کی کسی خطہ میں پایا جاتا ہو۔ عرصہ پچھتر سال میں اس تنوع نے بتدریج معاشرتی تقسیم کی لکیروں کو مٹانے کی بجائے مزید گہرا کر دیا ہے اور نفسیاتی گرہیں کھلنے کی بجائے مزید پیچیدگی کی طرف گامزن ہیں۔ دقیانوسی دھڑا بندی سے اکتا کر پاکستان باسیوں نے عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق دھڑا بندی کو اپنا کر اپنی انفرادیت بہر صورت قائم رکھ لی ہے۔ ذات پات، مذہب، فرقہ پرستی اب تقسیم کی معدوم ہوتی لکیریں ہیں جن کا ترک کیا جانا عصر حاضر کا تقاضا سمجھا جا چکا ہے، لہذا جمہور پاکستان کی دلچسپ اور نت نئی تفاوت کو رائج کرنے کی کوششیں اپنے عروج کی طرف رواں دواں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے باسی آج بھی دھڑا بندی کو اسی چاہ سے اپنائے ہوئے ہیں جس چاہ سے ان کی پچھلی پیڑھیاں۔

سب سے عام فہم، بنیادی اور روایتی دھڑا بندی سیاست کے نام پر ہے۔  بڑے بڑے سیانے مفکروں کو بھی انگریزی فیری ٹیل دا پائیڈ پائپر پڑھ کر بھی بانسری کی دھن میں تالاب میں کودنے والے چوہوں میں اور ان چوہوں کو ڈبونے والے پائپر کے انعام کے تقاضے میں کوئی مماثلت آج تک محسوس نہیں ہوئی۔

دوسری اہم ترین دھڑا بندی مذہب کے نام پر آج بھی اپنے جوبن پر ہے۔ اگرچہ اس دھڑا بندی کے محرکات ہمیشہ مختلف اوقات میں مختلف رہے ہیں مگر نتائج ہر دور میں فتاویٰ کفر کی شکل میں ہی نکلے ہیں۔ ہندو مسلم، پھر سنی شیعہ اور بعد ازاں ان گنت فرقہ جات اسلام کی شکل میں اپنا وجود دکھا کر آج کل یہ دھڑا بندی سمٹ سمٹا کر شدت پسند اور معتدل مسلمانوں پر منتج ہو رہی ہے جن کا مذہب ہمیشہ سے اک دوسرے کی وجہ سے خطرے میں رہا ہے۔ تیسری دھڑا بندی لسانیت اور صوبائیت کے نام پر پیدائش پاکستان سے وجود میں آئی جو اردو بنگالی جھگڑے سے ہوتے ہوئے پشتو، سندھی، بلوچی، پنجابی پوٹھوہاری تفریق تک ارتقا پذیر ہوئی ہے، افسوس کہ یکساں قومی نصاب بھی اس میں کوئی کمی نہ لا سکا ہے۔

دھڑے بندیاں ہمیشہ سے کسی مفاد کے پیش نظر بنتی بگڑتی ہیں، پنجاب کے اکثر دیہات میں دوسرا دھڑا نظام قدرت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے بنانا فرض اول سمجھا جاتا ہے، دفاتر میں افسر ان کے منظور نظر اور مظلومین بھی اس کا ایک رنگ ہیں، گلی محلے میں ہم خیال اور بد خیال دھڑے بھی اپنا الگ مقام قائم و دائم رکھے ہوئے ہیں۔ دھڑے بندی کی دلچسپ ترین صورت خاندانی دھڑا بندی ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ارتقا پذیر ہوتی چلی جاتی ہے، اس ضمن میں سسرال میکا، ساس بہو، نند بھاوج کی مثالیں دھڑا بندی کی عام مثالیں ہیں۔

فرد واحد اپنی ذات میں مختلف اوقات میں ان تمام دھڑا بندیوں میں تقسیم شدہ ہے، ایک لمحہ بھی وہ اس دھڑا بندی سے خود کو آزاد نہیں پاتا، اس کا نتیجہ پریشان ذہنی، ڈپریشن اور شدت پسندی کی شکل میں نکل کر آج ہمارے معاشرے کی شکل میں سامنے ہے۔ اس تقسیم در تقسیم کے بعد قومی مزاج اور نظام میں تبدیلی کی توقع بیل سے دودھ کی توقع کرنا ہے، جو بیل کی جدید سائنسی آلات کی مدد سے تبدیلی جنس کے علاوہ ممکن نہیں۔

Facebook Comments HS