والدین اور اولاد میں اختلاف کیوں؟

اکثر اخبارات میں والدین کی جانب سے عاق ناموں کے اشتہارات پڑھنے کو ملتے ہیں۔  بکھرتی ہوئی روایتی خاندانی اکائی  میں پستے ہوئے لوگوں میں ظالم و مظلوم کے فرق کی لکیر دن بدن معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے۔  زیادہ تر عاق کرنے کے اشتہارات کی ایک جیسی عبارت میں بیٹے کی نا خلفی اور نا ہنجاری کی وجہ بنا کر  والدین اسے اپنی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے بے دخل کرنے کا نقارہ پیٹتے ہیں تا کہ

Read more

اسرائیل ایران جنگ میں پاکستانیوں کا کردار

تقریباً تمام معتبر خبر رساں اداروں کی خبر ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں میزائل فائر کیے ہیں جن کے توڑ کے لیے ایران کا ہوائی دفاعی نظام حرکت میں آیا، کچھ مبینہ وڈیوز بھی انٹرنیٹ پر گردش میں ہیں۔ مگر تا حال ایران کی طرف سے اس کی تردید یا توثیق ہونا باقی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا جس کے رد عمل کے طور پر ایران نے 13 اپریل

Read more

جیفری چاسر کی پاکستان دشمنی

زمانہ طالب علمی میں پتا چلا کہ جیفری چاسر کو انگریزی ادب کا بابائے آدم کہا جاتا ہے۔ چونکہ وہ دن مطلق جہالت کے دن تھے، لہذا چاسر کی کینٹربری ٹیلز نے بڑا مزا دیا۔ بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل کافی عرصہ سے انگریزی اور انگریزوں کے افکار سے دور رہنے کے بعد ادراک کے کچھ نئے پہلو آشکار ہوئے ہیں، اور شدت سے احساس ہوا ہے کہ چاسر ایک فتنہ پرور اور پاکستانی قوم کا کٹر مخالف گورا تھا

Read more

نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

ٹک ٹاک پر ایک وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک ماڈرن ماں اپنے دو بچوں کو کپڑے گندے کرنے سے منع کر رہی تھی۔ موصوفہ نے بچوں کو ڈانٹنے کے لیے ایک جملہ ارشاد فرمایا ”ایک سلیپ پڑے گی تمہیں“ ۔ ان کی ”سلیپ“ مجھ ناچیز پر سوچ کے کچھ در وا کر گئی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں تقریباٗ ڈیڑھ بلین انسان انگریزی بولتے اور سمجھتے ہیں مگر جتنا پاکستانیوں نے انگریزی کے ساتھ دلچسپ و

Read more

کٹی پتنگیں، کٹتی گردنیں اور ٹک ٹاک پر ردعمل

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کر بعد مغرب کو بطور خاص ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس کے لیے مغرب تیار نہ تھا۔ ایک پوری نوجوان نسل جس کو جنگ کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس کو یہ سمجھانا کہ جو تعلیم و تربیت ان کی کی گئی ہے، اس کی اب ضرورت نہیں رہی، آسان کام نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال محاذ جنگ سے واپس آنے والے وہ نوجوان تھے جو اوائل جوانی میں

Read more

پاکستان میں دھڑا بندی کا ارتقا

پاکستانی قوم جیسا افرادی تنوع شاید ہی دنیا کی کسی خطہ میں پایا جاتا ہو۔ عرصہ پچھتر سال میں اس تنوع نے بتدریج معاشرتی تقسیم کی لکیروں کو مٹانے کی بجائے مزید گہرا کر دیا ہے اور نفسیاتی گرہیں کھلنے کی بجائے مزید پیچیدگی کی طرف گامزن ہیں۔ دقیانوسی دھڑا بندی سے اکتا کر پاکستان باسیوں نے عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق دھڑا بندی کو اپنا کر اپنی انفرادیت بہر صورت قائم رکھ لی ہے۔ ذات پات، مذہب،

Read more