”شوگر سٹریٹ“ میں نجیب محفوظ کے ساتھ
اردو ادب کی ایک اچھی روایت یہ ہے کہ جو بھی کتاب بین الاقوامی سطح پر قارئین کی توجہ کا مرکز بنتی ہے، اردو مترجم فوراً اس کا اردو ترجمہ کر کے پڑھنے والوں کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر دوسری زبانوں کے فکشن کی تقریباً تمام مشہور کتابوں کے اردو تراجم دستیاب ہیں۔ مگر اس سے ایک طرف جہاں اردو زبان کا دامن وسیع ہو رہا ہے اور اردو ادب میں نت نئے خیالات متعارف ہو رہے ہیں وہیں غیر سنجیدہ پبلشرز اور کمرشل مترجم کی بے ایمانی سے کافی اچھی کتابوں کا بیڑا غرق کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں نجیب محفوظ کی کتاب ”شوگر سٹریٹ“ پڑھنے کا اتفاق ہوا جس کا اردو ترجمہ ظفر امام نے کیا ہے۔ نجیب محفوظ کو میں نے پہلے بھی پڑھا ہے اور کافی عرصے سے اس کی تخلیقات سے شناسائی تھی۔ خاص طور پر اس کا ناول ”آب نیل پہ آوارگی“ ایک بہترین ناول ہے جس کی کہانی آج بھی میرے حافظے میں محفوظ ہے۔ نجیب محفوظ چونکہ ایک نوبل انعام یافتہ ادیب ہیں تو ان کی کوئی بھی کتاب مارکیٹ میں آتے ہی بک جاتی ہے۔ اسی چیز سے پبلشرز نے فائدہ اٹھایا ہے۔
فکشن ہاؤس لاہور نے یہ کتاب چھاپی ہے مگر مترجم نے اس ترجمے کے ساتھ کافی نا انصافی کی ہے۔ لگتا تو یہی ہے کہ مترجم نے یہ ترجمہ صرف چند پیسوں کے عوض کیا ہے یا وہ فن ترجمہ سے ابھی تک واقف نہیں ہیں۔ کتاب میں مکالمات کو ایسے پیش کیا ہے کہ اردو زبان کی ساخت کا بالکل خیال نہیں رکھا گیا ہے، حتٰی کے ایک ہی نام کو مختلف جگہ مختلف انداز میں لکھا گیا ہے۔ مثلاً علویہ سابری، علویہ صابری یا عادل کریم، عدلی کریم وغیرہ۔ جب ایک مترجم ایسی نازک چیزوں کا خیال نہ رکھے تو کتاب کی اصل روح تک پہنچنا قاری کے لئے انتہائی مشکل ہو گا۔ بہرحال یہ ایک بہترین کتاب کا ناقص ترجمہ ہے۔
یہ ایک تاریخی ناول ہے جس میں نجیب محفوظ نے بہترین انداز میں مصری معاشرے کی عکاسی کی ہی۔ کہانی بہت ہی خوبصورت ہے اور کہانی کا مرکز بیسویں صدی میں مصر کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات اور غلام مصری قوم کی نفسیاتی الجھنیں ہیں۔
کہانی سید احمد عبدالجواد کے خاندان اور ان کے دوستوں کے گرد گھومتی ہے۔ اسی خاندان کے توسط سے مکالمات کے ذریعے مصنف نے مصر کے اندرونی حالات، سیاسی و سماجی تضادات کو بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ زمانہ جنگ عظیم دوئم سے پہلے کا ہے جس وقت مصر میں ایک طرف جہاں شاہ کے حامی سرگرم تھے وہیں کمیونسٹ ایک الگ قسم کے ریاست کا خواب دیکھ رہے تھے۔ دوسری طرف بنیاد پرستوں کی گروہ تھی جو اسلام کو ہی تمام مسائل کا حل گردانتے تھے۔ اس وقت مصر مکمل طور پر اندرونی انتشار کا شکار تھا۔ دوسری طرف معاشی بحران نے لوگوں کا جینا محال کر دیا تھا۔
جب ایک معاشرہ منتشر ہو تو اس میں کوئی بھی چیز معمول کے مطابق نہیں ہوتی، نہ محبت، نہ علم و ہنر، نہ انسانی جذبات اور نہ معمولات زندگی۔ جس طرح سید احمد جو ایک امیر آدمی ہیں آخر میں وہ اپنا دکان بیچنے پر مجبور ہوتے ہیں، زبیدہ جو ایک شوخ و چنچل عورت ہے نشے کی لت میں پڑ کر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتی ہے۔ احمد جو ایک نوجوان ہے اسے علویہ صابری نامی ایک کلاس فیلو سے محبت ہوتی ہے۔ وہ اسے اس حد جذباتی لگاؤ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں، ”ایک لفظ ایک ایسے آدمی کی ہونٹوں سے جس سے آپ محبت کرتے ہیں وہ ساری دوسری چیزوں کو غیر اہم بنا دیتا ہے۔“ جب وہ اپنی محبت کا اظہار کر کے شادی کی خواہش کرتا ہے تو لڑکی اسے کہتی ہے کہ مجھے ایک امیر شوہر چاہیے جو ماہانہ کم از کم پچاس پونڈ کمائے۔ مطلب غلام قومیں محبت کرنا بھی بھول جاتی ہیں اور ان کے نزدیک ہر چیز سوداگری ہی رہ جاتی ہے۔
لڑکیوں کی پڑھائی کو عیب سمجھا جاتا ہے کہ وہ بس گھر بیٹھ کر گھر ہی سنبھالیں۔ نعیمہ ایک خوبصورت لڑکی ہے، چھوٹی عمر میں اس کی شادی کروائی جاتی ہے، پہلے بچے کی ڈلیوری کے وقت اس کی موت ہو جاتی ہے۔ جبکہ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے مگر والدین اسے اجازت نہیں دیتے۔ دوسری طرف ہر کیفے میں سیاست پہ بحث ہو رہی ہے۔ کوئی شاہ کا وفادار تو کوئی مخالف۔ اسی دوران ہٹلر مصر پر حملہ کرتا ہے، جنگ چھڑ جاتی ہے۔ ہر چیز تتر بتر ہوتی ہے، انگریز بھاگنے کی تگ و دو میں ہوتے ہیں اور مصری ہاتھیوں کی لڑائی میں درمیان میں پس رہے ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ اس زمانے کی مصری معاشرے پر ایک تاریخی دستاویز ہے۔ مکالمات کے ذریعے حالات اور لوگوں کے خدشات و متضاد سیاسی خیالات کو خوبصورت انداز میں جگہ دی گئی ہے۔ پھر جنگ ختم ہوتی ہے، خوشحالی کی امید بھر آتی ہے، مگر مصر جیسا تھا ویسا ہی رہا۔ اس صورتحال کو مصنف نے اس انداز میں بیان کیا ہے۔
”اس طرح پرانی نسل ختم ہوئی اور نئی نسل اس خلا کو پر کرنے کو تیار بیٹھی تھی۔“
قومیں جب تک آزادی کی اصل روح کو نہ سمجھیں ان کی زندگی میں کبھی انقلاب نہیں آئے گا۔


