تیسری عالمی جنگ کا منظرنامہ


یہ دور انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ترقی یافتہ کہلاتا ہے جس میں انسان نے مختصر ترین وقت میں اتنی تیزی سے ترقی کی ہے کہ اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ذرا سوچئیے سائیکل ہو یا کار کی ایجاد ہوائی سفر ہو یا ٹرین کا، مارکونی کی ایجاد وائرلیس ہو اب اتنی تیز رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرچکا اوپر سے کمپیوٹر اور موبائل کی ترقی و ترویج نے انسانی رویے اور سلیقہ ہی تبدیل کر دیا ہے، اسی تیز رفتاری کی بگٹٹ دوڑ میں انسان کی تسلی صرف زمین اور سمندری وسائل تک محدود نہ رہی بلکہ وہ خلاؤں کو بھی مسخر کرچکا اور اپنی برتری قائم کرنے کی دوڑ میں ہے۔

ہتھیاروں اور گولہ و بارود کی ترقی سے آگے بات ایٹمی ہتھیاروں تک جا پہنچی جن کے استعمال کے خیال سے ہی خوف آتا ہے۔ دنیا یہ ہولناک مناظر جاپان میں دیکھ چکی اور انسان بھگت چکا ہے۔ اس وقت دو عظیم ممالک چین اور امریکہ کے مابین ترقی میں آگے بڑھنے کا اصل مقابلہ ہے۔ ہر فریق کی کوشش ہے کہ کوئی گولی چلائے بغیر اور قیمتی انسانی جانوں کو ضائع کیے بغیر ہی برتری حاصل کر لیں مگر یہ مقابلہ مخاصمت کی حد تک پہنچ گیا ہے۔

روس اور یوکرائن میں پچھلے دو سال سے جو جنگ چل رہی ہے اسے کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچایا جا سکا اور اب یورپی یونین میں جذبات اس حد تک برانگیختہ ہیں کہ فرانسیسی صدر ایمونیول میکرون نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی سپاہ کو یوکرائن کے دفاع کی خاطر زمینی دستوں کو تعینات کریں گے جس کے جواب میں صدر ولادیمیر پوٹن نے واشگاف اعلان کر دیا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر یورپ ہمسائے ایک ایٹمی جنگ کی راہ ہموار کریں گے جو تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ہوگی اس کے لئے تیار رہیں جس کی انہوں نے اپنے تئیں تیاری مکمل کر رکھی ہے۔

اب یہ جنگ ہوگی کیسے۔ آئیے اس منظرنامہ کو دیکھیں کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گا اور دنیا کی ساری ترقی یکایک ملبے کا کیسے ڈھیر بن جائے گی۔ اس وقت روبوٹ ٹیکنالوجی بڑی مقبول عام ہو رہی ہے جو انسانی کام مشینی طور پہ کرتے ہیں ان کے پروگرام پہلے تو کمپیوٹر پروگرامنگ سے تھی مگر اب مصنوعی ذہانت نے کام اور زیادہ آسان کر دیا ہے جو ڈرون اور جہازوں کو بھی کنٹرول کر کے کام کروانے والوں کا کام اور آسان بندیا ہے۔ اگلی جنگ میں توقع ہے کہ پہلا ہلے میں روبوٹ کا روبوٹ سے اور ڈرون کا ڈرون سے ہی ہو گا۔

پھر بجلی گھروں کو برباد کر دیا جائے گا، انٹرنیٹ کا نظام معطل ہو سکتا ہے۔ بالکل ہالی ووڈ کی بنائی ہوئی سائنسی فلموں کی طرح انسانوں کے دوبدو لڑنے سے پہلے ان مشینوں سے ہی لڑائی ہوگی۔ پانی کے ڈیم بھی اگلا اہم نشانہ بن سکتے ہیں۔ روس کی صنعتی ترقی نے دنیا کو حیرت زدہ کر رکھا ہے جس کو یورپ و امریکہ کی خاص نظر ہے اسے بھی ممکنہ اہم نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یورپی اور امریکی خفیہ اطلاعات کے مطابق روس میں ہر ماہ 250,000 آرٹلری کے گولے تیار کرتا ہے یعنی سالانہ تیس لاکھ گولے جبکہ وہ مشترکہ طور پر بارہ لاکھ گولے سالانہ بنا سکتے ہیں۔

امکانی طور پہ ان کا بے دریغ استعمال یوکرائنی محاذ پہ ہی ہو گا۔ جنگ ایک بدنما شکل میں ہی وقوع پذیر ہوتی ہے اب وہ کتنی ہی جدید ہو اس کی ہیئت و ترکیب کبھی حسین نہیں ہو سکتی۔ جنگ میں بنیادی طور پہ حریف سبقت لینے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں جیسے کہ حکومتی تختہ الٹ دیا جانا، یا کوئی ایسا بڑا اندرونی دھماکہ جو ملکی جڑوں کو ہلاکت رکھ دے۔ مقابل اس وقت اپنی جنگی تیاریوں میں اس قدر شدید جنون میں مبتلا ہیں کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے دوڑ اتنی تیز ہو چکی ہے کہ مقابلے کا اصل وقت بھی سکڑتا چلا جا رہا ہے۔ اپنی عسکری و سائنسی ترقی اور برتری بھی زیادہ دیر تک قائم رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ بڑے ممالک کے قائدین عقل و شعور سے کام لیتے ہوئے صبر و تحمل اور ضبط سے لیں ورنہ چرچل کی پیشین گوئی سچ ثابت ہو جائے گی کہ تیسری عالم کیسے ہوگی یہ تو پتہ نہیں مگر چوتھی عالمی جنگ کلہاڑیوں اور بیلچوں سے ہوگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments