امریکہ کے بعد ہم بھی جنگ ہار رہے ہیں؟


ریاستی مقتدرہ کی طرف سے کوشش بسیار کے باوجود سیکیورٹی فورسز اور پولیس پہ ٹی ٹی پی کے مہلک حملوں کا تسلسل تھم نہیں سکا تاہم شمالی وزیرستان میں فوجی چیک پوسٹ پہ تازہ حملہ کے جواب میں پاکستانی ایئرفورس کی طرف سے افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور خوست میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پہ فضائی حملوں کی خبریں تشویشناک ہیں، بلاشبہ پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر کیے جانے والے علامتی فضائی حملے سیاسی دعوے کے طور پہ تو کام آئیں گے کیونکہ یہ اپنی فوج اور عوام کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کے اظہار تھے لیکن شاید یہ ان پیچیدہ مسائل کا آسان حل ثابت نہ ہو سکیں۔

وزارت خارجہ کے تفصیلی بیان کے مطابق، پیر کو صبح سویرے ہونے والے حملوں کا ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت مسلح گروپوں کے ٹھکانے تھے، افغان حکام نے بتایا کہ پاکستانی ائرفورس کے حملہ میں مجموعی طور پر آٹھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں پانچ خواتین اور تین بچے شامل تھے، سرکاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ہمیں ٹی ٹی پی کی طرف سے لاحق خطرے سے نمٹنے میں افغان حکام کو درپیش چیلنج کا بخوبی ادراک ہے لیکن حملوں کے لئے افغان سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ خطہ کی سلامتی کے لئے اجتماعی خطرہ ہیں، اسی لئے پاکستان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حل تلاش کرنے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لئے کام جاری رکھے گا۔

افغان طالبان، جنہوں نے اگست 2021 میں کابل سے امریکی انخلا کے بعد ملک پر حکمرانی قائم کی، نے پاکستانی حملوں پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ”لاپرواہی“ قرار دیا۔ فضائی حملوں کے چند گھنٹے بعد ، افغان فوج نے سرحدی اضلاع کے قریب پاکستانی فوجی ٹھکانوں پر مارٹر گولے داغے، جس سے چار شہری اور تین فوجی زخمی ہوئے، فضائی حملہ کے دو دن بعد جمعرات 21 مارچ کو ٹی ٹی پی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں فوجی ٹرک پہ خودکش حملہ کر کے صوبیدار سمیت 2 کو شہید 17 جوانوں کو زخمی کر دیا، چند ہفتے قبل ٹی ٹی پی نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل دار بن میں قائم فوجی کیمپ پہ حملہ کر کے 25 سے زیادہ فوجی جوانوں کو اس وقت شہید کر دیا جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر امریکی دورہ میں مشغول تھے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کی تردید کی ہے کہ غیر ملکی مسلح گروپوں کو افغان سرزمین سے پڑوسی ممالک میں کارروائیوں کی اجازت ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاک افغان سرحد کے کچھ حصوں کو کنٹرول کرنا دشوار ہے، اس ضمن میں ہم نے پوری کوشش کی اور کرتے رہیں گے لیکن ایک چیز جو ہمیں قبول کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ افغانستان کا پاکستان کے ساتھ جڑا طویل سرحدی علاقہ جہاں پہاڑوں اور جنگلات سمیت ناہموار علاقے اور ایسی جگہیں موجود ہیں جو ہمارے کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ برسوں پاکستان کو افغان طالبان کے سرپرست کے طور پر دیکھا گیا عام خیال یہی تھا کہ وہ طالبان کی اس قیادت پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے، جسے پناہ دی، مالی امداد دی اور سفارتی طور پر تحفظ فراہم کیا تاہم امریکہ کی نام نہاد ”جنگ دہشت گردی“ کے دوران افغان طالبان کے پہلو بہ پہلو امریکہ کے خلاف لڑنے والی ٹی ٹی پی ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ دی، فوج نے انہی پاکستانی طالبان کے ساتھ کئی امن معاہدات کیے جن میں شکئی معاہدہ زیادہ اہم تھا اور ان کی سرکوبی کی خاطر درج بھر آپریشن کیے جو بظاہر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے، چنانچہ اس لئے ٹی ٹی پی اور ہماری مقتدرہ کی قوت و استعداد کے درمیان خط امتیاز کھینچنا دشوار ہوتا گیا۔

انتہائی قابل اعتماد ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ کابل سے امریکی انخلاء سے چند دن قبل ٹی ٹی پی کی قیادت نے نہایت معقول شرائط کے ساتھ اپنے جنگجووں کے لئے ہموار سماجی زندگی میں واپسی کا محفوظ راستہ مانگا تھا لیکن بعض افسروں نے اپنے غرور کی بنا پہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے کچھ رہنماؤں کو افغانستان کی طرف دھکیل دیا، شاید افغان طالبان کے کابل واپس آنے کے بعد ، پاکستانی افسران کو امید تھی کہ وہ نئے افغان حکمرانوں پر اپنے روایتی اثر و رسوخ کو ٹی ٹی پی پر قابو پانے کے لیے استعمال کریں گے لیکن توقعات کے برعکس افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف مسلح کارروائی کی بجائے بات چیت سے معاملات سلجھانے کا موقف لے کر خود کو داخلی انتشار سے بچا لیا، جس کے بعد ٹی ٹی پی کی طرف سے پاکستانی پولیس اور سکیورٹی فورسز پہ حملوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

2023 کو ہماری حالیہ تاریخ کے خونریز ترین سالوں میں شمار کیا جائے گا، جس میں ملک بھر میں ہونے والے 650 سے زیادہ حملے میں تقریباً 1,000 افراد شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فوج کے اہلکار شامل تھے۔ سیکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے منسلک دیگر نسبتاً کم معروف مسلح گروپوں نے قبول کی تھی تاہم گزشتہ کئی برسوں کے دوران، پاکستان نے اپنی سرزمین پہ ہونے والے ان حملوں کا الزام ٹی ٹی پی پر عائد کیا، جن میں ہزاروں افراد مارے گئے، ان میں 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والا مہلک حملہ سب زیادہ نمایاں تھا، جس میں 130 سے زائد طلباء ہلاک ہوئے، بعد ازاں اے پی ایس پہ حملہ کی ذمہ داری لینے والا ٹی ٹی پی کمانڈر احسان اللہ احسان پراسرار طور پہ ریاستی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

2023 میں 90 فیصد سے زیادہ حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان جسے ان صوبوں میں ہوئے جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے بارے پاکستان کی ریاستی ہیئت مقتدرہ منقسم ہے، صدر آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی اور ہماری اعلی عدلیہ کے بعض عناصر کے علاوہ بائیں بازو کی علاقائی سیاسی تنظیمیں ٹی ٹی پی کو طاقت سے کچلنے جبکہ عمران خان کی پی ٹی آئی، مولانا فضل الرحمن اور وزیراعظم شہباز شریف ان عوامل کو بات چیت کے ذریعے نمٹانے پہ قائل ہیں، عالمی مقتدرہ خاص کر امریکہ بھی بوجوہ ٹی ٹی پی کو طاقت کے ذریعے مٹانے کی حکمت عملی پہ زور دیتا ہے، اس ایشو پہ ہماری مقتدرہ بھی منقسم ہے اور وہ ازخود کوئی فیصلہ لینے کی بجائے سیاستدانوں سمیت دیگر اسٹیک ہولڈر کی طرف دیکھ رہی ہے، چنانچہ اس حوالہ سے فیصلہ سازی کا پورا نظام کنفیوژن کا شکار ہے، چنانچہ دہشت گردی سے نمٹنے کا معاملہ بتدریج الجھتا چلا جا رہا ہے۔

خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں درجنوں آپریشنز اور فوج کی طویل موجودگی سے کئی لاینحل مسائل سر اٹھانے لگے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ضمنی نقصان (Collateral damage) سے شہری آبادیوں کی بڑھتی مشکلات سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان نفرتوں کی خلیج بڑھا رہی ہیں، جس کا براہ راست فائدہ دہشت گرد تنظیموں کو پہنچتا ہے، اگر زیادہ دیر تک بے یقینی اور تذبذب کی یہی کیفیت طاری رہی تو حالات مزید بگڑ جائیں گے۔

اس لئے بھلائی اسی میں ہے کہ شہری آبادیوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری سی ٹی ڈی پولیس کے حوالے کر کے فوج کو سرحدات اور کنٹونمنٹ تک محدود کر دیا جائے، اس میں کوئی شک نہیں شہری آبادیوں میں چھپے دہشت گردوں اور مجرموں سے نمٹنے کا کام فوج کے بس کا روگ نہیں اسے پولیس ہی بہتر طور پہ نمٹا سکتی ہے۔ قصہ کوتاہ، اگر صورت حال جوں کی توں رہی تو امریکہ کی مانند پاکستان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہار جائے گا۔

اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پچھلی نصف صدی میں گہری جڑیں رکھنے والے تشدد کے گمبھیر قضیہ کو چند دنوں کے اندر صرف بے رحم جنگی مشین کے ذریعے حل کرنا ممکن نہیں، اسے گہری بصیرت، عمیق تحمل اور مربوط سیاسی مساعی کی حامل مائیکرو مینجمنٹ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں شہید ہونے والے فوجی افسران کی نماز جنازہ کے موقع پہ صدر آصف علی زرداری کا بلند آہنگ بیان دراصل ہارے ہوئے سیاسی کی جذباتی التجاؤں کے سوا کچھ نہیں تھا، جس کی بازگشت ہمیں جوابی سرحدی جھڑپوں اور ہتھالہ خودکش حملوں میں سنائی دیتی ہے۔

Facebook Comments HS