کیا رمضان بوفے ڈنر کا نام ہے؟
پاکستان میں رمضان المبارک نجانے کیوں کھانے پینے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستانیوں کا رمضان میں سارا فوکس خور و نوش پر ہو جاتا ہے اسی لیے کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں کیونکہ سپلائی کا قانون یہ ہے کہ سپلائی ہمیشہ سے ہر شے کی محدود ہوتی ہے اور ڈیمانڈ کے بڑھنے سے سپلائی اور ڈیمانڈ میں عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سب رمضان میں گرمئی بازار اور گرانی کا واویلا شروع ہوجاتا ہے۔
قرآن پاک نے روزے کا مقصد صرف حصول تقویٰ بیان فرمایا ہے لیکن ہمارے روزے حصول طعام تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ افطار کے وقت سڑکوں اور بازاروں میں عوام کی بے چینی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ تقریباً ہر شخص چڑچڑے پن کا شکار نظر آتا ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ رمضان میں ہر شخص غصے میں کیوں ہوتا ہے اور کسی بھی ناپسندیدہ محرک پر اس کے مزاج برہم کیونکر ہو جاتے ہیں۔
سرکاری و نجی اداروں کے اوقات کار رمضان میں سکڑ جاتے ہیں اور دفاتر میں حاضری بھی کم ہو جاتی ہے۔ جو لوگ رمضان میں کام کرنے کا احسان بھی کرتے ہیں وہ بھی بجھے دل سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ رمضان میں لوگوں کی کارکردگی بھی خراب ہو جاتی ہے کیونکہ بجھے ہوئے دل اور مجبوری کے تحت ہونے والا کام کبھی بھی تخلیق کا شاہکار نہیں بن سکتا ہے۔
ہمارے روزے بے روح، بے کیف، بے نتیجہ اور صرف بھوک پیاس کا دوسرا نام ہے۔ طبرانی نے اپنی کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے حضور کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے۔
بہتیرے روزے دار ایسے ہیں جن کے روزے کا ماحصل صرف بھوک پیاس ہوتی ہے اور بہتیرے شب بیدار ایسے ہیں جن کی شب بیداری کا ماحصل فقط رت جگا ہوتا ہے۔
ہمارے وطن عزیز پاکستان میں رمضان میں جو کسی بھی بیماری یا پھر اپنے کسی سخت محنت طلب جسمانی کام کے سبب روزے نہیں رکھ پاتے تو انہیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور روزے دار اس کے اندر کا احساس جرم پیدا کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔
شوگر، بلڈ پریشر یا پھر کسی بھی بیماری یا پھر بڑھاپے کے سبب اگر کوئی روزہ نہ رکھے اور اسے سحری اور افطار کے درمیان کسی پبلک پلیس سے فوری طور پر
با امر مجبوری کچھ کھانے یا پینے کی ضرورت پڑ جائے تو سوائے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جانے کے سوا اس کے لیے کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔
ہم پاکستانیوں کو نجانے کب یہ سمجھ آئے گی کہ روزے کا مقصد بھوک پیاس یا جفاکشی کی مشق نہیں بلکہ ایک ایسا رجحان پیدا کرنا ہے جو زندگی کے ہر گوشے میں بلند کرداری، راست روی اور خدا ترسی کا مظہر ہو۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہیں۔ اگر صرف جفا کشی مقصود ہوتا تو اس کے لیے روزے رکھوانے کی ضرورت نہ تھی۔ صرف یہ حکم دینا کافی تھا کہ سارے دن دھوپ میں بھوکے پیاسے کھڑے رہو اور رات بھر اوس کھاتے رہو۔


