پاکستان کا بحری مال بردار جہاز جس نے بنگلہ دیش میں شپ بریکنگ کی صنعت کی بنیاد رکھی
16 اگست 1971 کو چٹا گانگ کی بندرگاہ میں مکتی باہنی کے چند جنگجو گوریلے داخل ہوئے اور وہاں پر لنگر انداز بحری جہاز ایم۔ وی العباس کے انجن روم میں گھس کر ایک دھماکہ کر دیا۔ جس کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہو گیا اور بندرگاہ استعمال کے قابل نہ رہی۔چٹاگانگ کی بندرگاہ 1971 میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے ”مشرقی پاکستان“ ، کی سب سے بڑی تجارتی بندرگاہ تھی۔ آج مشرقی پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور ”بنگلہ دیش“ کہلاتا ہے۔ مشرقی پاکستان، پاکستان کے باقی ماندہ صوبوں سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ بدقسمتی سے متحدہ پاکستان میں 1970 کے عام انتخابات کے بعد ہونے والی اتھل پتھل کی وجہ سے مشرقی پاکستان کے عوام پاکستان کی مرکزی حکومت سے شدید نالاں اور ناراض تھے۔ ان حالات میں مارچ 1971 سے صوبۂ مشرقی پاکستان میں باقاعدہ خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے اپنے صوبے کی آزادی کے لئے جنگ شروع کر دی تھی اور نیم فوجی تنظیم ”مکتی باہنی“ کے نام سے قائم کر لی تھی۔ اس تنظیم کو بھارتی فوج کی آشیر واد بھی حاصل تھی۔ بلکہ بھارت نے مشرقی پاکستان سے ملحقہ اپنی سرحدوں پر مکتی باہنی کے گوریلوں کو تربیت دینے کے لئے باقاعدہ تربیتی کیمپ قائم کر رکھے تھے۔
ایم۔ وی العباس کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں تیار کیا جانے والا پہلا تجارتی مال بردار جہاز تھا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی حکومت پاکستان نے کراچی میں ایک جہاز سازی کے ادارے کے قیام کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی۔ 1952 میں حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں تفصیلی فیزیبلٹی رپورٹ بھی بنا لی۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ایک بڑی رقم اور بھاری زر مبادلہ درکار تھا اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے جرمنی کی حکومت سے رابطہ کیا۔ حکومت جرمنی نے اس منصوبے کے لیے تکنیکی اور مالی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہو گئی حکومت جرمنی نے قرضے کی رقم اس زمانے میں بہت ہی فعال ادارے پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن کو فراہم کر دی۔ 1955 میں کراچی ”شپ یارڈ اینڈ انجنیئرنگ ورکس“ مکمل کر لیا گیا اور پاکستان ترقیاتی کارپوریشن نے اس ادارے کا انتظام و انصرام سنبھالنے کے لیے اس کو 1957 میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حوالے کر دیا تاکہ اس ادارے کو تجارتی بنیادوں پر چلایا جا سکے یہ ادارہ 1992 تک KPT کے ماتحت رہا اور اس دوران اس ادارے میں 5 تجارتی بحری مال بردار جہاز تیار کیے گئے۔ اس کے بعد یہ ادارہ پاک بحریہ کی تحویل میں چلا گیا اور اب یہ دفاعی نوعیت کی سر گرمیوں میں مشغول ہے۔ 1974 میں یہاں سب سے بڑا بحری مال بردار جہاز پاکستان نیشنل شپنگ کاپوریشن کے لئے بنایا گیا۔ جس کا نام ایم۔ وی لالہ زار تھا۔ لیکن پہلا بحری مال بردار جہاز محمدی سٹیم شپ کمپنی کے لیے 1967 میں تیار کیا گیا جو ایم۔ وی العباس تھا۔ العباس کو فخر پاکستان بھی کہا جاتا تھا اور یہ مستقل کراچی اور چٹاگانگ کے درمیان تجارتی سفر پر رہتا تھا۔ محمدی اسٹیم شپ کمپنی 1947 میں ہی قائم کر دی گئی تھی۔ یہ پاکستان کی نجی شعبے میں قائم ہونے والی پہلی جہاز ران کمپنی تھی اس کے مالکان میں محمد علی حبیب، رستم کاوس جی اور قاسم دادا شامل تھے۔ کمپنی کے مرکزی دفتر کے لیے کراچی کی مشہور تجارتی شاہراہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ایک بلند و بالا پرشکوہ عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ پاکستان کے قیام کے بعد ملک کی سب سے اونچی عمارت تھی اور محمدی ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے 1974 میں کمپنی قومیا لی گئی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن میں ضم کر دی گئی۔
دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان نے آزادی حاصل کر لی اور وہ بنگلہ دیش کہلانے لگا۔ اب چٹاگانگ کی بندرگاہ بنگلہ دیش کی مرکزی بندرگاہ بن گئی۔ چونکہ ایم۔ وی العباس بندرگاہ میں ناکارہ حالت میں موجود تھا اور بندرگاہ کو استعمال کرنے کے لیے نوزائیدہ مملکت بنگلہ دیش کو دشواریاں پیش آ رہیں تھیں۔ اس لیے روس کی ایک کمپنی سے اپریل 1972 میں رابطہ کیا گیا جو اس ناکارہ جہاز کو گھسیٹ کر چٹاگانگ کے قریبی ساحلی علاقہ جو ”فوجدار ہاٹ“ کہلاتا ہے لے گئی۔ وہاں ایک چھوٹی سی مقامی کمپنی نے جس کا نام کرنا فلی میٹل ورکس تھا، نے اس جہاز کو بطور کباڑ خرید لیا اور وہیں اس جہاز کو توڑنے کا کام سر انجام دیا گیا۔ اس تمام سرگرمی میں اس مقامی کمپنی نے خطیر منافع کمایا۔ بنگلہ دیش کی حکومت کو یہ احساس ہوا کہ جہاز توڑنے کا کاروبار خاصا منافع بخش ہے۔ اس لیے انہوں نے اس ساحلی علاقے کو فوری طور پر ”صنعتی شپ بریکنگ یارڈ“ میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح یہ صنعت رفتہ رفتہ ترقی کرنے لگی اور 1990 کے وسط تک یہ دنیا کی دوسری بڑی جہاز توڑنے کی صنعت بن گئی اور 2008 کے آتے آتے فوجدار ہاٹ دنیا کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ کہلایا جانے لگا۔ بنگلہ دیش کی روز افزوں ترقی کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی 278 روپے ملتے ہیں جبکہ ایک ڈالر میں بنگلہ دیشی 109 ٹکے آتے ہیں۔


