پاکستان سپرلیگ کا فائنل اور عماد وسیم کا سوٹا
پاکستان سپر لیگ 2024 کے فائنل اسلام آباد یونائیٹڈ کی سنسنی خیز جیت پر اختتام کو پہنچ چکا ہے مگر جاتے جاتے یہ فائنل میچ بہت سی چیزیں شائقین کرکٹ کے ذہنوں پر نقش کر گیا ہے چاہیے وہ محمد رضوان کا انعامی رقم کی تصویر کو غصے سے پھینکنا ہو، اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں کا میچ کے اختتام پر فلسطین کے جھنڈے کے ساتھ مارچ پاسٹ ہو یا پھر عماد وسیم کا ڈریسنگ روم میں سگریٹ پینا ہو۔ یہ سب چیزیں یقیناً پاکستان سپر لیگ 2024 کے حوالے سے لازماً یاد رکھی جائیں گیں۔
پاکستان سپر لیگ 2024 کے اس سیزن پر لکھنے کو تو بہت کچھ ہے اور یقیناً وقفے وقفے سے وہ سب چیزیں آپ کے سامنے لاتے رہیں گے مگر آج بات کر لیتے ہیں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راونڈر عماد وسیم کی جنہوں نے ایسا کش لگایا کہ پوری دنیا میں اس کی دھوم مچ گئی اور ان کے اس کش نے پاکستان سپر لیگ کے مخالفین کو اس کی انتظامیہ پر بھی بہت سے سوالات اٹھانے کے مواقع فراہم کر دیے۔ ایک وقت تھا جب بچپن میں ہم وسیم اکرم کو ٹی وی پر یہ کہتے ہوئے سنتے تھے کہ میں اس لیے نہیں تھکتا کیوں کہ سگریٹ نہیں پیتا اور ایک آج کا دن ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میں 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد عماد وسیم ڈریسنگ روم میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھائی دیے تو کسی نے اس کو عماد وسیم کے لیے انرجی کا کش کہا تو کسی نے جیت سے پہلے جیت کا کش کہا۔
عماد وسیم جن کا اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز سے تبادلہ کیا تھا ان کی پاکستان سپر لیگ کے پہلے مرحلے میں پرفارمنس کوئی خاص نہیں رہی تھی مگر پلے آف مرحلے میں اور پھر فائنل میں اپنی پرفارمنس سے اسلام آباد یونائیٹڈ کو تیسری بار چیمپئن بنوانے میں کامیاب تو ہوئے مگر ان کے ڈسپلن نے ایک بار پھر بہت سے سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ میں جب عماد وسیم نے اپنے 4 اوورز پورے کیے تو وہ میدان سے باہر چلے گئے میچ کے اٹھارہویں اوور میں جب اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے نسیم شاہ گیند بازی کر رہے تھے تو کیمرے کی آنکھ نے ایک ایسا منظر قید کیا جس نے پاکستان سپر لیگ کی مینجمنٹ پر بہت سے سوالات اٹھائے۔ نسیم شاہ کی گیند بازی کے دوران جب کیمرا عماد وسیم پر گیا جو اس وقت اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈریسنگ روم میں بیٹھے تھے تو پوری دنیا نے عماد وسیم کو ڈریسنگ روم میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھا۔
میرے لیے یہ منظر کافی حیرانی کا باعث بنا۔ سگریٹ نوشی کرنا یا نا کرنا کسی بھی فرد یا کھلاڑی کا ذاتی معاملہ ہے مگر کسی میچ کے دوران ایک ایسے کھلاڑی کا سگریٹ نوشی کرنا جو اس وقت پلیئنگ الیون کا حصہ ہو کافی حیران کن ہے۔ عماد وسیم جو پاکستان کی جانب سے ہر طرز کی کرکٹ کھیل چکے ہیں اور کافی سینئر کھلاڑی ہیں ان کی طرف سے ایسا کرنا بہت عجیب بات ہے۔ ایک عام انسان کو بھی معلوم ہے کہ میچ کے دوران میدان میں بہت سے کیمرے ہوتے ہیں جو کسی وقت بھی آپ پر آ سکتے ہیں اس کے باوجود عماد وسیم کا یوں سر عام سگریٹ نوشی کرنا یقیناً اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اب ڈسپلن کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ چیز ان سوالات کو بھی جنم دیتی ہے کہ اگر عماد وسیم فائنل میچ میں میچ کے دوران ایسا کر سکتے ہیں تو شاید اس سے پہلے بھی انھوں نے ایسا کیا ہو مگر کیمرے پر نا دکھایا گیا ہو؟ عماد وسیم کی اس حرکت نے بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کی بھی اس عمل میں حوصلہ افزائی کی ہے اور اگر ان کے اس عمل کی مذمت نا کی گئی تو ہو سکتا ہے کل کو مزید کھلاڑی ہمیں اسی طرح سے ڈریسنگ روم میں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دکھائی دیں۔ اگرچہ عماد وسیم نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو پاکستان سپر لیگ کا ٹائٹل تو جتوا دیا ہے مگر پاکستان سپر لیگ کی مینجمنٹ اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی مینجمنٹ کو اس معاملے پر سخت ایکشن لینا ہو گا۔ اگر اسلام آباد یونائیٹڈ کی مینجمنٹ اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دکھاتی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو لازمی طور پر ایکشن لینا پڑے گا اور اس طرح کے اقدامات کرنے ہوں گے کہ پھر کوئی کھلاڑی ایسی حرکت نا کر سکے وگرنہ جس کا دل چاہے گا وہ میچ کے دوران ڈریسنگ روم میں جا کر اس طرح کی حرکتیں کرتا رہے گا۔ کوئی جتنا مرضی اچھا کھلاڑی ہو وہ کھیل سے بڑا نہیں ہوتا چاہیے وہ عماد وسیم ہو یا کوئی اور۔

