قرارداد مقاصد : ایک اور پنگا (پہلا دکھڑا)


محترم وجاہت مسعود کا ”گدلا تالاب“ دیکھتے ہی کھجلی میرے قلم میں بھی ہوئی، لیکن میں نے اسے سیاہی کی شکل دینے سے گریز کیا۔ پھر مجیب الرحمن شامی کا ”رد گدلا پن“ پڑھ کر اور اس کے جواب میں محترم وجاہت کا ”جواب شکوہ“ پڑھ کر یقین جانیں عرصے بعد خوشی ہوئی، وجہ صرف یہی کہ یہ دو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان سیاست سے بالاتر ہو کر ایک تاریخی واقعہ پر علمی بحث تھی، جس میں ایک دوسرے کے لئے عزت اور تعظیم بھی نظر آئی وگرنہ جونہی ہم یا ہمارے پسندیدہ شخص کے خلاف کوئی بات کرے یا بیان دے اور ہمارے پاس اس کے جواب کے لئے دلیل نہ ہو تو یا تو اس شخص اور اس کے کسی رشتے دار سے منسوب جھوٹے سچے اسکینڈل ہم سامنے لے آئیں گے، وگرنہ اگر معاملہ قرارداد مقاصد یا پاکستان میں نفاذ اسلام سے متعلق ہو تو دو قدم بڑھ کر نعرہ لگا دیں گے، ”سر تن سے جدا“ ۔

میں یہاں قرار داد مقاصد صحیح تھی یا غلط فی الوقت اس پر نہیں لکھنا چاہتا، لیکن تاریخی طور پر کس نے، کب کیا اور کیوں کیا، ہوا کیا تھا جیسے سوالوں کے جوابات سے قاری کو آگاہ کرنا ضرور چاہوں گا تاکہ آج کے طالب علم اور مستقبل کے طالب علموں کو فیصلہ کرنے یا مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

میرے لئے ویسے بھی کسی وقت، غلط فیصلہ کرنے والے لوگ، ان لوگوں سے پھر بھی بہتر ہوتے ہیں جو دریا کنارے بیٹھے لہریں گنتے رہتے ہیں اور 75 سال بعد دنیا کو بتاتے ہیں کہ اتنے برس پہلے دریا میں کود کر کوئی عملی قدم اٹھانے والا کتنا بے وقوف تھا۔

قاری کو کوئی بھی تاریخی تحریر پڑھتے وقت یہ سمجھ بھی ضرور ہونی چاہیے کہ لکھنے والا تجزیہ کار ہے یا تاریخ کا طالب علم۔ اور اگر تجزیہ کار ہے تو وہ غیر متنازعہ ہے یا اس کی ساکھ اور تحریر ہمیشہ کسی مخصوص طبقہ فکر کی حامی یا مخالفت میں تو نہیں ہوتی۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو دونوں کشتیوں کے سوار ہوں۔ وجاہت مسعود ہوں، شامی صاحب یا ناروے سے سید مجاہد علی، میرے لئے یہ لوگ تجزیہ کار زیادہ ہیں اور تاریخ کے طالب علم کم۔

حالیہ جتنے لوگوں نے قرار داد مقاصد پر کچھ لکھا، کسی نے قاری کو یہ نہیں بتایا کہ ”ایک مسلمان رکن اسمبلی“ ایسا بھی تھا جس نے قرارداد مقاصد کی مخالفت کی تھی۔

میں یہی چاہوں گا کہ میری تحریر کو صرف تاریخ کے طالب علم کے طور پر پڑھا جائے کیونکہ میری لکھی ہر بات کا مجھ سے ثبوت مانگا جاسکتا ہے۔

پاکستانی تو آج بھی اس سازشی تھیوری کو آگے لے کر چل رہے ہیں کہ جان بوجھ کر جناح صاحب کو خراب ایمبولینس میں آخری سفر پر لایا گیا (تاکہ وہ کل کے مرتے آج ہی مر جائیں ) ۔ اور کچھ لوگ اس کا ذمہ دار بھی وزیراعظم کو ٹھہرا دیتے ہیں۔

جبکہ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ گاڑیوں کے اس قافلے میں ایمبولینس کے پیچھے، گورنر جنرل کی لمبی چوڑی کیڈلاک کار، ڈاکٹر بخش، ڈاکٹر مستری اور اے ڈی سی مظہر کے لئے الگ جیپ اور کار کے علاوہ گورنر جنرل کے ملٹری سیکریٹری کرنل نولز کی گاڑی بھی ایمبولینس کے پیچھے چل رہی تھیں، جن کے آخر میں گورنر جنرل کا اسٹاف اور اس کا سامان ایک ٹرک میں سب سے پیچھے آ رہا تھا۔

ویسے یہ ایمبولینس جناح اسپتال کراچی کی تھی جو شہر کے دوسرے چار اداروں ریڈ کراس، انکل سریا، لیڈی ڈفرن، سیونتھ ڈے سے منگائی گئی ایمبولینسوں میں سب سے بہتر تھی۔ اور گورنر جنرل کے ملٹری سیکریٹری نے ٹھوک بجا کر خود منتخب کی تھی۔ اور جناح صاحب کے ماری پور سے دوران سفر واپسی میں وہ خود بھی قافلے کے ساتھ تھا۔

کوئٹہ میں قائد اعظم کے دونوں ڈاکٹروں نے ڈاکٹر فاطمہ جناح کو وفات سے دو دن پہلے یعنی 9 ستمبر کو بتا دیا تھا کہ قائد اعظم ٹی بی سے ختم ہوچکے پھیپھڑوں، بگڑتے نمونیہ اور ہیمرج کے بعد اب چند دن کے مہمان ہیں اور ان کی کوئٹہ میں ممکنہ وفات سے ریاست کے لئے بے انتہا مسائل اور مشکلات کھڑی ہوجائیں گی اس لئے انہیں فوراً کراچی منتقل کر دیا جائے۔ ڈاکٹر جناح خود بھی دیکھ رہی تھیں کہ ان کا بھائی ”جا رہا“ ہے۔ لیکن ڈاکٹر فاطمہ جناح نے کوئٹہ سے یہ بات کراچی میں موجود کسی بھی وزیر، خود قائد اعظم یا ان کے اسٹاف کو بھی نہیں بتائی تھی۔ البتہ قائد اعظم جانتے تھے۔ یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ قائد 14۔ 15 اگست 1948 سے 11 ستمبر تک کوئٹہ میں موجود تھے نا کہ زیارت میں۔

بظاہر اوپر کے دو پیراگراف قرارداد مقاصد کے سیاق و سباق سے ہٹ کر محسوس ہوتے ہیں۔ مگر اس لئے لکھے گئے ہیں تاکہ ہمیں احساس ہو کہ ہم تک تاریخی معلومات کتنے غلط طریقے سے آج تک پیش ہو رہی ہیں۔

”قرارداد مقاصد اور قائد اعظم کیا چاہتے تھے کی تاریخ“ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔ ہر گروہ اپنی اپنی نفیری بجا رہا ہے۔ اور مطالعہ پاکستان کا طالب علم محض کنفیوز ہو رہا ہے۔

پاکستان اور انڈیا دونوں نے جب برطانیہ سے آزادی حاصل کی اس وقت ان کے پاس اپنا کوئی آئین یا دستور نہیں تھا۔ اس لئے کوئی الیکشن یا قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ ٹائپ کا ادارہ بھی پاس نہیں تھا۔ ہمیں یہی علم نہیں تھا کہ ہمارا نظام حکومت امریکہ کی طرح صدارتی ہو گا یا برطانیہ کی طرح پارلیمانی اور یا پھر ختم ہو چکی عثمانی سلطنت کی طرح، ”خلیفۃ المسلمین یا قائداعظم کی قیادت میں ون پارٹی سسٹم“ ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ، ہندوستان کے لوگوں کو مستقبل میں حکمرانی کے لئے تیار کرنے کے لئے، 1946 میں غیر منقسم انڈیا میں صوبائی الیکشن ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ کے لئے، ان الیکشن میں دو طرح کی نشستیں تھیں۔ عام نشست اور مسلمان نشست۔

مسلمان نشستوں پر آل انڈیا مسلم لیگ، کانگریس اور یونینسٹ وغیرہ نے اپنے اپنے مسلمان امیدوار کھڑے کیے۔ لگ بھگ ہر جگہ آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمان نشستوں پر اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ لیکن چونکہ عام نشستوں کی تعداد متعدد صوبوں میں مسلمان نشستوں سے بہت زیادہ ہوتی تھیں (جس پر ہر مذہب کا سیاست داں الیکشن لڑ سکتا تھا) اس لئے آل انڈیا مسلم لیگ حکومت صرف بنگال اور سندھ کے صوبوں میں بنا سکی۔ جہاں مسلمان نشستیں عام نشستوں سے زیادہ تھیں۔

یاد رہے 1937 میں بھی الیکشن ہوئے تھے جس میں ”پنجاب“ سے مسلم لیگ کو محض دو نشستیں ملی تھیں اور یونینسٹ پارٹی کے ہاتھوں مسلم لیگ کو بھاری شکست دیکھنی پڑی تھی۔ لیکن 1946 میں وہی مسلم لیگ پھر الیکشن لڑتی ہے اور اسی یونینسٹ پارٹی کو بری طرح شکست دے دیتی ہے۔ جبکہ اس کے کئی یونینسٹ وزیر اپنی ضمانتیں بھی ضبط کروا بیٹھتے ہیں۔ قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ نے یہاں کیا طریقہ اپنایا تھا جس کی وجہ سے پنجاب کے زمیندار، امراء اور تاج برطانیہ سے انتہائی قریب لیڈر، 1946 میں بہ آسانی شکست کھا گئے۔ اس سوال کے جواب میں قرارداد مقاصد کی بنیاد چھپی ہوئی ہے۔ لیکن بعد میں۔

صوبائی انتخابات 1946 کے بعد مرکز یعنی نئی دہلی میں جو حکومت یا لیجسلیٹو (یا یوں سمجھیں قومی اسمبلی) بنی اس کے لئے انتخابات نہیں ہوئے بلکہ ہر صوبے سے کہا گیا کہ وہ متناسب نمائندگی کا خیال رکھتے ہوئے ”اتنے“ نمائندے مرکز کے لئے نامزد کردے (بالکل پاکستان کی موجودہ سینیٹ کی طرح یا موجودہ قومی اسمبلی میں خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کی طرح) ۔

اس مرکزی حکومت کے بنیادی مقاصد دو تھے۔ ایک ہندوستانی خود امور مملکت کو چلانے کے قابل ہوجائیں کیونکہ اس وقت لگ بھگ طے تھا کہ 1948 میں برطانیہ، آزاد ہندوستان چھوڑ کر چلا جائے گا۔ اور دوسرا یہ مرکزی حکومت اپنی نئی مملکت کے لئے دستور سازی اور دوسرے اہم معاملات بھی اٰیڈوانس میں تیار کر لے۔ پھر یاد رہے 1946 کے الیکشن ہونے سے پہلے، برطانوی حکم ران، مسلم لیگ کو کوئی اہم پارٹی نہیں سمجھتی تھی اور کانگریس کو ہی ہندوستان کی نمائندہ جماعت گردانتی تھی۔ مسلم لیگ محض ایک پریشر گروپ ہی سمجھی جاتی تھی۔ اسی لئے یہ طے تھا کہ برطانیہ کے جانے کے بعد ایک آزاد ہندوستان کو کانگریس نے ہی چلانا ہے۔ ان کے خیال میں ہندو، سکھ ہی نہیں مسلمانوں کی بھی اہم نمائندہ جماعت ہے۔

لیکن 1946 کے انتخابات کے نتائج نے بہت کچھ بدل دیا۔ مسلم لیگ نے ثابت کیا کہ مسلم نشستوں پر اس کی بے مثال کامیابی اس بات کا ثبوت تھی کہ ہندوستان کے مسلمان، کانگریس، خاکسار تحریک یا یونینسٹ نہیں بلکہ مسلم لیگ پر بھروسا کرتے ہیں۔

بہرحال مرکز میں بننے والی حکومت (جس کا کام غیر منقسم مگر آزاد ہندوستان کے لئے قانون اور دستور سازی بھی تھا اور جس کی شکل آج کے پاکستان کی سینیٹ جیسی تھی) ۔ اس کے لئے صوبوں سے جیتے جانے والی سیٹوں کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی سیٹوں کا فارمولہ اپلائی ہوا تو اس بندر بانٹ میں آل انڈیا مسلم لیگ کو مرکز میں 73 نمائندہ سیٹیں ملیں، جبکہ کانگریس کو 208 سیٹیں ملیں۔

اس مرکزی اسمبلی کا وزیراعظم (جو دراصل نائب صدر کہلاتا تھا) اکثریتی سیٹیں حاصل کرنے کی بناء پر 2 ستمبر 1946 میں کانگریس کے راہ نما جواہر لال نہرو بنے۔ نہرو کا خیال تھا کہ کانگریس اسمبلی میں راج کرے گی اور مسلم لیگ کی حیثیت محض ایک اپوزیشن جیسی ہوگی (جو پارلیمانی نظام میں غلط بھی نہیں تھا) ۔ لیکن محمد علی جناح نے پے درپے ایسے فیصلے ہڑتالیں اور بائیکاٹ کیے کہ صوبہ پنجاب میں کانگریس کی جوڑ توڑ سے بننے والی یونینسٹ حکومت اور کانگریس کی مرکزی حکومت دونوں چلنے سے قاصر رہیں۔ بلکہ پنجاب میں حکومت توڑ کر گورنر راج لگانا پڑا جو اگست 1947 تک قائم رہا۔

بالآخر وائسرائے ہند نے نہرو کی کابینہ میں مسلم لیگ کو بھی 5 وزیر نامزد کرنے کا کہا۔ حصہ جو نشستوں کے تناسب سے کہیں زیادہ تھا اور محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت۔

محمد علی جناح نے کنگ کی بجائے کنگ میکر بننا پسند کیا اور اپنے لئے مرکزی حکومت میں کوئی عہدہ منتخب کرنے کی بجائے، اکتوبر 1946 میں لیاقت علی خان کو وزیر خزانہ، ابراہیم اسماعیل چندریگر کو کامرس (تجارت) ، غضنفر علی خان کو صحت، سردار عبدالرب نشتر کو ریلوے اور مواصلات کا وزیر نامزد کیا۔ لیکن جناح کا ماسٹر سٹروک اس مرکزی اسمبلی کے لئے جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون نامزد کرنا تھا جو انڈیا میں کچلی ہوئی ہندو ذات کے اچھوتوں کے لیڈر تھے۔ اور یہ مستقبل کے لئے واضح پیغام تھا کہ مسلم لیگ صرف مسلمانوں کی جماعت نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کابینہ نے اکتوبر 1946 سے اگست 1947 تک کام کیا۔

دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی آزادی کے بعد جب پہلی کابینہ بنی تو لیاقت علی خان کی جگہ وزیر خزانہ سر غلام محمد کو بنایا گیا جبکہ باقی چاروں وزیروں کو وہی عہدے دیے گئے جن کا انہیں پہلے سے تجربہ تھا۔ آزادی کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اپنے پاس دفاع اور خارجہ کی وزارتیں رکھیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اور 1946 کے انتخابات کے بعد (مسلم لیگ کی کامیابی سے ) بننے والی پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر فروری 1947 میں آنے والے نئے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 3 جون 1947 کو برصغیر کے تمام لیڈروں کو بلا کر انہیں شاہ برطانیہ کا پیغام پہنچایا کہ برطانیہ ہندوستان کو دو ملکوں میں تقسیم کر کے آزاد کر رہا ہے۔ 3 جون 1947 سے پہلے یہ بات کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مسلمانان ہند محمد علی جناح کی قیادت میں ایک الگ ملک حاصل کرنے جا رہے ہیں۔ اور اس 1948 میں ہونے والی اس ممکنہ آزادی کے لئے ابھی بھی ایک سال باقی تھا۔

اس سلسلے میں بنیادی اصلاحات اور احکامات کا سب سے اہم نوٹیفیکیشن جولائی 1947 میں گزٹ آف انڈیا میں شائع ہوا۔ جس کی رو سے بتایا گیا تھا کہ آزاد ہونے والے ممالک کے نام انڈیا اور پاکستان ہوں گے۔ جو مقامی گورنر جنرل کے نیچے کام کریں گے۔ یہ گورنر جنرل شاہ برطانیہ کو اس وقت تک جواب دہ ہو گا جب تک یہ ملک اپنے اپنے لئے ایک قابل قبول دستور نہیں بنا لیتے۔ اسی لئے آزادی کے وقت پاکستان کا ابتدائی نام ڈومینین آف پاکستان تھا۔

تبھی قائد اعظم کے سر پر ایک خوشی کی خبر بم کی طرح گری کہ 1948 نہیں بلکہ برطانیہ ایک مہینے میں ہندوستان چھوڑ کر جا رہا ہے۔ دوسری طرف نہرو کی مرکزی حکومت، ”ایک ہندوستان“ کے لئے متعدد اہم امور نبٹا چکی تھی۔ جبکہ پاکستان کے لئے یہی طے نہیں تھا کہ دارالحکومت کیا ہو گا، انداز حکومت پارلیمانی ہو گا یا صدارتی۔ مملکت کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوں گی اور ملک چلانے کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے۔

ڈومینین آف پاکستان کا نیا دستور بنانے کے لئے اور نوزائیدہ مملکت کا کاروبار (کسی قومی اسمبلی کی طرح) چلانے کے لئے حکومت برطانیہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے وہی 73 ارکان جو مرکز میں صوبوں کی طرف سے 1946 کے انتخابات کے بعد نامزد کیے گئے تھے ان 73 میں سے 69 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے لئے نامزد کر دیا (یا ایک طرح سے نئی دہلی سے کراچی پوسٹ کر دیا) ۔

پاکستان کے لئے پہلی دستور ساز اسمبلی جس کو سرکاری طور پر ”آئین ساز اسمبلی“ کہا جاتا تھا، کا پہلا اجلاس 10 اگست 1947 کو کراچی میں ہوا۔ 69 نامزد (سابقہ مرکزی حکومت کے ) ارکان میں سے لگ بھگ 60 لوگوں نے پہلے دن، جبکہ 4 ارکان نے 11 اگست کو حلف اٹھایا۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق 69 میں سے صرف 63 ارکان نے مختلف ادوار میں حلف اٹھایا جبکہ میرے ریکارڈ کے مطابق یہ تعداد 65 تھی (پنجاب سے وزیر صحت و خوراک غضنفر علی خان کا نام ان کے ریکارڈ میں آج تک ظاہر نہیں ہو رہا۔ اسی طرح متعدد مقامات پر پبنہ مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے اے ایم حامد کا نام بھی رہ جاتا ہے جس کی شاید وجہ یہ ہے کہ لوگ انہی کے ہم نام پٹھاٹولہ سلہٹ کے عبدل حامد اور انہیں ایک ہی شخص سمجھتے ہیں ) ۔ باقی 4 نشستیں (سندھ سے ایک اور پنجاب سے تین) ایک عرصے تک خالی رہیں کیونکہ نامزد ارکان نے ہندوستان ہجرت کا فیصلہ کیا تھا۔

اس میں یہ اہم بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ محمد علی جناح ہوں، لیاقت علی خان یا مولانا شبیر احمد عثمانی۔ یہ لوگ 1946 کی مرکزی یا صوبائی حکومت کے الیکشن جیتے تھے اور دستور ساز اسمبلی میں ان کا شامل ہونا کسی کی مرضی یا پسند کی وجہ سے نہیں تھا۔ متعدد لوگ شبیر احمد عثمانی کو دستور ساز اسمبلی کے لئے زبردستی کا ممبر سمجھتے ہیں۔

لوگوں کو یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اس 69 ارکان کی گورے کی طرف سے نامزد آئین ساز اسمبلی میں شبیر احمد عثمانی واحد مذہبی شخصیت نہیں تھے۔ مولانا محمد عبداللہ الباقی اہل حدیث کے راہ نما تھے جبکہ مولانا اکرم خان جمعیت علمائے ہند سے تھے۔ ارکان میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پیرزادہ عبدالستار بھی تھے جو لبرل خیالات رکھنے والے ارکان اسمبلی کو پاکستان کا دشمن مانتے تھے۔ اسی طرح 1946 میں مسلم لیگ نے ایسا کیا طریقہ اپنایا کہ پنجاب میں اسے یونینسٹ کے خلاف بے مثال کامیابی ملی۔ اس کا جواب ہے متعدد ”پیر صاحبان“ اور ”گدی نشینوں“ سے اسلام کے نام پر لی گئی حمایت۔ ان سجادہ نشینوں نے ہی درحقیقت پنجاب میں زمینداروں اور یونینسٹ لیڈروں کا اسلام کے نام پر تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

آئین ساز اسمبلی کے ارکان میں واحد نام جس کی ”برصغیر ہند کی تاریخ“ پر علمی قابلیت چیلنج نہیں کی جا سکتی مگر وہ آئین ساز اسمبلی میں کب اور کیسے آیا اور کب نکل گیا، جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کا نام ہے۔ جو اس آئین ساز اسمبلی کا حصہ عارضی طور پر 1948 کے بعد سے رہے تھے۔ ممکن ہے یہ قائد اعظم یا کسی اور رکن کے انتقال یا ہجرت کے بعد خالی ہونے والی نشست پر منتخب کیے گئے ہوں۔ 64 یا 65 کی کنفیوژن بھی اسی نام کی وجہ سے رہتی ہے۔

دو خواتین جو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا شروع سے حصہ رہیں۔ ان میں بنگال سے شائستہ اکرام اللہ سہروردی اور پنجاب سے سر محمد شفیع کی صاحبزادی جہاں آرا شاہ نواز شامل رہیں۔

لیاقت علی خان کی بیگم، محترمہ رعنا لیاقت ہوں یا مس فاطمہ جناح: ان دونوں کا آئین ساز اسمبلی یا حکومت کے کسی بھی کام میں کبھی کوئی کردار نہیں رہا کیونکہ ان دونوں نے 1946 کا کوئی الیکشن نہیں لڑا تھا اور نہ کبھی دہلی میں مرکزی حکومت یا کراچی میں پہلی آئین ساز اسمبلی کا حصہ رہیں۔ بعض واقعات میں رعنا لیاقت کا نام آئین ساز اسمبلی کی کسی کمیٹی کے سلسلے میں لیا جاتا ہے جو خواتین کی وراثت یا حقوق کے لئے قانون سازی کر رہی تھی جبکہ بیگم رعنا لیاقت کبھی آئین ساز اسمبلی کی ممبر نہیں رہیں۔

اس 64 یا 65 کی ابتدائی فہرست میں غیر مسلم ارکان 14 تھے پنجاب سے ایک اور 13 بنگال سے۔ اسمبلی میں موجود کم از کم دو قادیانی رکن ان 14 میں شامل نہیں، کیونکہ انہوں نے انتخابات مسلم نشستوں پر جیتے تھے۔

اس بات کو پھر دہراتے ہیں کہ جولائی 1947 میں شائع ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ پاکستان کی حیثیت برطانیہ کی کالونی یعنی ڈومینین ریپبلک آف پاکستان رہے گی۔ سربراہ گورنر جنرل کہلائے گا جو شاہ برطانیہ کے ماتحت ہو گا۔ برطانیہ فوج اور دوسرے اہم اداروں کو چلانے کے لئے تجربہ کار برطانوی لوگ فراہم کرے گی تاوقتیکہ پاکستان کے لوگ اس قابل نہ ہوجائیں یا اپنا دستور یعنی آئین بنا کر اس پر عمل کرنا شروع کر دیں۔

دستور کی غیرموجودگی میں انڈیا ایکٹ 1935، متعدد دوسرے قوانین سمیت پاکستان میں نافذ العمل رہے گا۔ اس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ دستور کی عدم موجودگی میں پاکستان میں موجود صوبوں میں 1946 میں منتخب ہوئی صوبائی اسمبلیاں (وزیراعلی کے ماتحت) بدستور ویسے ہی کام کرتی رہیں گی۔ اور اپنے صوبوں میں عمل درآمد کرانے کے لئے کسی بھی قانون کو منظور کر کے نافذ کرنے میں آزاد۔ اسی طرح موجودہ پاکستان کی حدود میں موجود آزاد ریاستیں بھی اپنے اپنے طور پر اس وقت تک کام کرنے اور قوانین نافذ کرنے میں آزاد تھیں جب تک وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہ کر لیں۔ ان میں بہاول پور، خیر پور، سوات اور قلات کی ریاستیں قابل ذکر ہیں یعنی یہ آزادی کے وقت پاکستان کا حصہ نہیں تھیں۔

ہندوستان کا مسئلہ دوسرا تھا۔ ان کے پاس ادارے، فیکٹریاں، فنڈز، تجربہ کار لوگ، اسلحہ سب کچھ تھا۔ سب سے بڑھ کر لکھے ہوئے قواعد اور قوانین سب کچھ موجود تھا اور ہمارے پاس زیادہ تر قواعد اور قوانین کی نہ تو کوئی کاپی موجود تھی اور نہ نقشے وغیرہ۔ اور سب سے بڑھ کر قابل اور کام کرنے والے لیڈروں کا فقدان اور ناکافی وسائل کا سامنا تھا۔

جبکہ نہرو کی حکومت نے وہیں سے کام کرنا شروع کر دیا تھا جہاں سے وہ اکتوبر 1946 سے کر رہی تھی۔ بس ماؤنٹ بیٹن کا عہدہ وائسرائے سے تبدیل ہو کر گورنر جنرل ہو گیا۔ اور نہرو کا نائب صدر سے وزیراعظم۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دستور سازی اور ”نئی مملکت ہند“ کے متعدد امور اکتوبر 1946 سے کام کرنے والی نہرو حکومت پہلے ہی منظور کرچکی تھی۔ اگر مسلم لیگ ان پالیسیوں سے متفق رہتی تو دوسرے آزاد ملک کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اور اگر اختلاف کرتی تو وجہ اختلاف دو قومی نظریہ یا مذہب کے علاوہ کیا ہو سکتا تھا!

بہرحال نہرو کے مقابلے میں محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کو لگ بھگ ہر چیز صفر سے شروع کرنی تھی۔

ایک اور بات جو آج کے بہت سارے نام نہاد تاریخ داں بھول جاتے ہیں یا سمجھنے سے قاصر ہیں وہ یہ ہے کہ جناح نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دونوں آزاد ممالک کا مشترکہ گورنر جنرل کیوں قبول نہیں کیا۔ جس کا پاکستان کو بادی النظر میں نقصان بھی ہوا۔ یہ جواب بھی ادھار رہا۔

اس کھچڑی کو ابھی یہیں روکتے ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو ای میل یا کمنٹ میں لکھ دیں۔ میں اس کا جواب یا وضاحت اگلی قسط میں دینے کی کوشش کروں گا۔

Facebook Comments HS