چین کا سحر انگیز شہر "شیامن”


چین کے جنوبی صوبے فوجیان کا شہر شیامن اپنی خوب صورتی اور تاریخ کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں میں پسند کیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس شہر جانے کا حسین اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ واقعی اس شہر میں وہ سب کچھ ہے جس کی ایک سیاح کو ضرورت ہوتی ہے۔ صوبہ فوجیان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں زمین ہموار نہیں ہے۔ یہی خاصیت شیامن میں بھی پائی جاتی ہے۔ چڑھائی چڑھتی سڑکیں شہر کا دیدہ زیب نظارہ دکھاتی ہیں تو اگلے ہی لمحے کوئی ڈھلوان آپ کو یہ احساس دیتی ہے کہ آپ زمین کی جانب کھنچتے جا رہے ہیں۔

میں ائر پورٹ سے باہر بھی نہیں نکلا تھا جب مجھے میری چینی ساتھی نورین (یہ ان کا اردو نام ہے ) نے بتایا کہ بیجنگ کے مقابلے میں اس شہر کا موسم گرم ہو گا اور یہاں آپ کو ہوا میں نمی بھی محسوس ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ساحلی علاقہ ہے اور شیامن میں کئی جزیرے ہیں۔ ہم ائر پورٹ پر ہی سامان کی وصولی کے لئے پیدل سفر کر رہے تھے کہ اچانک ایک نوجوان ہمیں پیانو بجاتا ہوا دکھائی دیا۔ یہ آنے والے مہمانوں کا استقبال تھا کہ انہیں اس شہر کی رفتار سے ملتی جلتی ہلکی ہلکی موسیقی سنوائی جا رہی تھی۔ شیامن کی خاص بات یہاں زندگی کی رفتار ہے۔ یہاں زندگی کی تمام آسائشیں ہیں اور کسی بھی انداز سے ایک جدید شہر ہونے کے با وجود یہاں زندگی کی رفتار بہت زیادہ تیز نہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پہاڑ سبزہ اور پانی ایک ساتھ ہیں جو انسانوں کے مزاج کو سکون اور طبیعت میں ٹھہراؤ دیتے ہیں۔

اس شہر کے چیدہ چیدہ پر کشش سیاحتی مقامات کی بات کی جائے تو گلانگیو جزیرہ، ماؤنٹ ووئی، ساؤتھ پوٹو ٹیمپل، اور ٹیننگ ڈانشیا لینڈ فارم سرفہرست مقامات ہیں جو سیاحوں کو خوبصورت مناظر اور ایک منفرد ثقافت فراہم کرتے ہیں۔ یہاں ایک عمدہ بندرگاہ ہے جو اس شہر کو ایک بڑا تجارتی شہر بناتی ہے۔ چین کی جانب سے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو میں سمندری بیلٹ کی بات کی جائے تو دیگر ممالک سے چین کے جنوبی راستے میں یہ ایک اہم بندرگاہ ہے جو سالہا سال سے اس ملک کی سمندری تجارت میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

شہر کے اعلی تعلیم کے متعدد اداروں میں سب سے نمایاں شیامن یونیورسٹی ہے، جس کی بنیاد 1921 میں ایک محب وطن سمندر پار چینی کاروباری شخصیت تان کاہ کی (چن جیگنگ) نے رکھی تھی۔

اس شہر کے بازار بھی منفرد ہیں۔ نئی اور پرانی عمارتوں کا امتزاج اور مسکراتے دکاندار آپ کا استقبال بہت خوب کرتے ہیں۔ کھانے میں یہاں یوں تو ہر طرح کی اقسام ہیں لیکن خاص طور پر ”سی فوڈ“ زیادہ نظر آتا ہے۔ ریستوران میں شیشے کے بڑے بڑے باکسز اور ان میں پانی میں تیرتی سمندری مخلوق ایک انوکھا رنگ دیتے ہیں جہاں آپ اسی لمحے اپنی پسند کا کوئی بھی سمندری کھانا نکل وا کر پکوا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کے اکثر مقامات پر آپ کو حلال کھا نے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

یہ علاقہ اپنے مختلف جزیروں، اپنی کافی شاپس، قدیم علاقوں، سمندر، نیلے آسمان اور سبز زمین کے علاوہ اپنی کاروباری افادیت اور قدیم یونیورسٹی سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS