رفاقت حيات کا ناول رولاک

اگر کسی کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھ لیا جائے تو یہ نہ صرف قاری کے لئے ایک اطمینان بخش لمحہ ہوتا ہے بلکہ کتاب اور مصنف کی کامیابی کی بھی دلیل سمجھی جاتی ہے اور اس لحاظ سے رولاک اور رفاقت حیات کامیابی کے مبارک باد کے مستحق ٹھہرتے ہیں کیونکہ میں یہ ناول آغاز سے لے کر انجام تک پڑھ چکا ہوں، گو کہ ضخامت کے لحاظ سے یہ چھ سو انہتر صفحات اور چھیالیس اقساط پر مشتمل ہے۔
یہ ناول ہے تو ایک پرانے اور تاریخی شہر کا تعارف یا لوکیل لیکن ناول جیسے تخلیقی صنف میں اس کا اس طرح احاطہ کیا گیا ہے کہ اس میں تاریخ کی مسافت، رسم و رواج کی کثافت، اساطیر کی وساطت، مقامیت کی صداقت، سیر و تفریح کی عنایت، سنجیدگی کی تمازت، رومانس کی لطافت، سماج کی روایت، سیاست کی حلاوت، معاش اور تلاش کی سیاست، روحانیت کی نفاست، مادہ پرستی کی رقابت، بنیاد پرستی کی حقارت، ترقی پسندی کی بشارت، پیر پرستی اور مرید سرپرستی کی تجارت، راہ راست اور راہ فرار کی عداوت، تاریخ اور تاریخی مقامات کی سیرو سیاحت یعنی اس ناول میں ایک جہان ہے اور یہ اس لئے ہے کہ اس میں ایک شہر اور شہر کے ساتھ جڑا ہوا سماج اور چلتا پھرتا معاشرہ ہے جس کا احاطہ اس پورے ناول میں ایک طویل کہانی بلکہ کہانیوں کی شکل میں موجود ہے جسے پڑھ کر اس سے ناول کا مزا بھی لیا جاسکتا ہے اور تاریخ کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
اس ناول میں فلموں کے بولڈ سین اور بولڈ مکالموں کی طرح بولڈ مناظر اور بولڈ جملے ہیں جو ایک رولاک کی زبانی یا واحد متکلم کی صورت اس پر جچتی یا سجتی نہ بھی ہو لیکن اس کی زندگی کا حصہ ہے اور سماجی حقیقت سے اخذ شدہ لامتناہی حوالے ہیں۔
یہ ناول پڑھتے ہوئے قاری پر یہ تاثر بھی چھوڑتا ہے جیسے کہ یہ خشونت سنگھ کے ناول دلی سے زیادہ متاثر ہو، جیسے دلی ناول میں بھی واحد متکلم سے کہانی شروع ہوتی ہے، پارٹیشن سے پہلے پنجاب کے ایک گاؤں سے بچپن کی کہانی شروع ہوتی ہے اور پھر دلی شہر کے کونے کونے چپے چپے کا احاطہ کرتا ہے اور اس میں جو مہا کے بولڈ جملے مناظر اور عملی ہما ہمی ہے۔ وہ ہمیں یہاں بھی ملتی ہے، لیکن یہاں میرا مقصد بالکل بھی بلکہ کسی بھی لحاظ سے دونوں کے معیار کا نہیں ہے صرف میں ایک تاثر کی بات کر رہا ہوں اور جنھوں نے یہ دونوں ناول پڑھے ہوں وہ اس کا اندازہ بخوبی کر سکتے ہیں۔
اس ناول کی زبان بہت عام فہم ہے لیکن بالکل سادہ اور سپاٹ بھی نہیں، کہیں تو بالکل رولاکی انداز گفتگو ملتی ہے لیکن کبھی یہی رولاک اتنا دانشور اور فلسفی ہو جاتا ہے کہ اس میں سے مصنف کی شخصیت جھانکنا شروع کر دیتی ہے۔
اس ناول میں بڑے تخلیقی جملے ہیں، فن ہے، مزاح ہے، طنز ہے، ظرافت ہے لیکن جیسے اس سماج میں شرافت مفقود ہے اس ناول میں بھی جس سماج کو دکھایا گیا ہے اس میں شرافت تمام تر رعنائیوں کے ساتھ روبہ زوال ہے۔
اس ناول میں زمان و مکان کا لحاظ واضح نظر آتا ہے جو ناول کے پڑھنے کے دوران قاری پر واضح ہوتا جاتا ہے اور وہ خود بھی ان تمام تر زمانی اور مکانی لمحوں کی بھول بھلیوں میں کچھ وقت کے لئے شامل ہو کر اپنی یاد داشتوں اور ماضی کے مادی تغیر کے سفر سے ہوتے ہوئے زمانہ حال تک پہنچ جاتا ہے جو تخلیقی سچائی کی اکائی تا اجتماعی اذہان کے لئے تسلیم اور مصدقہ ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہو، کیونکہ حقیقت نگاری تک اپنی بات کو پہنچانے کے لئے مصنف تمام تر جزئیات سے بڑے کمال سے گزرتے ہیں لیکن کچھ مستثنیات کے علاوہ جیسے فضائی بوسہ جو دور اور لوکیل کے لحاظ سے ٹائم لی نہیں لگتا ہے لیکن اصول یہ بھی کہتا ہے کہ مستثنیات قانون کو پروف کرتا ہے۔
اس ناول میں مصنف ہمیں یہ احساس کبھی بھی نہیں دلاتا ہے کہ وہ یہ سب چیزیں پہلے سے دیکھ چکے ہیں بلکہ ہمیں انگلی سے پکڑ کر دکھا رہا ہوتا ہے اور خود بھی اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ گویا وہ بھی یہ سب چیزیں پہلی بار دیکھ رہا ہے جس سے اس ناول میں مزید تخلیقی اور حقیقی جان ڈل جاتی ہے۔ اس ناول میں بے شمار کردار ہیں، سارا شہر اس کا لوکیل، آس پاس کے شہروں کے لوکیل اور اس کے سارے مناظر اور کردار اس ناول کے مناظر اور کردار ہیں لیکن قادر بخش، لال بخش، ماں، نوری، گھنشو، ماروی، سلیم، خالہ رشیدہ، ماسٹر ابراہیم، فیکے ماسٹر، حسینہ، لالی، صغراں، سومل، سیمی، نور محمد جھنگی، زلفی اور قاضی یہ سب وہ کردار ہیں جو اس ناول کو نہ صرف جوڑتے ہیں بلکہ عروج کمال تک بھی پہنچاتے ہیں۔
یہ ناول اس وقت عروج کی جانب گامزن ہو جاتا ہے جب ماروی، قادر بخش سے لکھا ہوا خط لے لیتی ہے اور یہ ناول اس وقت عروج کو پہنچتا ہے جب قادر بخش کی ماں سومل کے گھر جاتی ہے۔
اس ناول میں جگہ جگہ تخلیقی جملے ہیں جو اس ناول کو مزید دلچسپ اور دلکش بناتے ہیں۔ جیسے کہ :
ہم ایک اجاڑ اور ویران مزار پر مل رہے تھے اور ہمارے پاس جلانے کے لئے اپنے ناموں کے چراغ تھے اور نہ منت کے لئے باندھے جانے والے دھاگے، چادر تھی نہ تقسیم کرنے کے لئے کوئی شیرینی، ۔
وہاں تک پہنچنے کے لئے مجھے کافی پیدل چلنا پڑا۔ ایک گندے پانی کے جوہڑ کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے بھنگی پاڑے سے اٹھنے والی مخصوص بدبو نے چند گلیاں پہلے ہی میرے نتھنوں میں گھس کر اپنے لئے جگہ بنالی تاکہ میں بعد میں اپنی ناگواری کا اظہار نہ کر سکوں۔ ،
میں بس سٹینڈ پہنچا تو وہاں میرے شہر جانے والی آخری بس روانگی کے لئے تیار کھڑی تھی۔ میں کچھ دیر اس بس کے اردگرد منڈلاتا اسے حسرت بھری نظر سے دیکھتا رہا۔ یہ ہر روز میرے شہر کا چکر لگا کر آتی تھی اور مجھ سے کہیں زیادہ خوش نصیب تھی۔ اس کے پہیوں پر میرے شہر کی مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس کے اندر کی فضا میرے شہر کے لوگوں می سانسوں سے اٹی ہوئی تھی۔ ،
گھر میں کل تین چارپائیاں تھیں۔ دو پر میں اور اماں سوتے تھے اور جب کہ ایک چارپائی نیم چھتی پر پڑی رہتی تھی۔ مجھے ان تینوں کی نواڑ کسنے میں خاصی دیر لگ گئی۔ اس دوران اماں میری قریبی فرش پر پیڑھی رکھے باریک دندانوں والی کنگھی سے اپنے سر کی جوئیں نکالتی رہیں۔ وہ اپنے ہاتھ کے ایک انگوٹھے کے ناخن سے جوئیں چٹخ چٹخ مار رہی تھیں اور ایسا کرتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک ظاہر ہونے لگتی تھی۔
اس ناول پر سلیم الرحمان صاحب نے ایک مختصر مگر جامع فلیپ لکھ تو دیا ہے، ناول کو قابل داد بھی گردانا ہے لیکن اپنی رائے میں کوئی ذمہ داری اپنے سر نہیں لی اور تمام تر ذمہ داری ناول کے مصنف کے سر تھوپ دی ہے اور یہ یقین بھی مصنف کے کندھوں پر لاد دیا ہے کہ حقیقت پسندی میں جدت کے نام پر تمام تر قلابازیوں کے باوجود آج بھی بڑا دم خم ہے اور اسی روش کو اپنا کر رفاقت حیات نے ایسا ناول لکھا ہے جسے یقین ہے، سراہا اور یاد رکھا جائے۔ اور آخر میں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس ناول کو وہی قاری اول تا آخر پڑھے گا جو مطالعے کا آوارہ گرد یا ادبی رولاک ہو کیونکہ اس ناول میں جو رولاکی ہے وہ ہی اس ناول کی تخلیقی بے باکی یا بے باک تخلیقیت ہے۔

