رمضان المبارک اور احترام رمضان آرڈنینس
رمضان کا مہینہ جب شروع ہوتا ہے، روزہ داروں کی جسمانی مشقت کا آغاز ہوتا ہے۔ دن بھر نہ کھانا پینا اور ازدواجی تعلقات نہ رکھنا اور اپنے آپ کو عبادات میں مشغول رکھنا، یہی حساب کتاب پورے مہینے چلتا ہے۔ پر یہ مہینہ صرف اسی لیے یاد نہیں رکھا جاتا جو اوپر ان جسمانی مشقتوں میں کوئی شخص اپنے آپ کو مشغول رکھتا ہے، بلکہ کچھ اور حوالوں سے بھی دنیا بالخصوص پاکستان میں جانا تھا ہے۔ دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں بھی احترام رمضان کے قوانین موجود ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر میں رمضان کے احترام کو قانونی سے زیادہ سماجی طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہمارے قانون سازوں کو ترکی، انڈونیشیا اور ملائشیا سے سیکھنا چاہیے، کیونکہ اسی کے ملتے جلتے قوانین جیسے پاکستان میں ہیں، ان ممالک میں ملتے ہیں۔
ان دوسرے ممالک میں غیر مسلم اور روزہ رکھنے سے قاصر افراد، جیسے چھوٹے بچوں، معذور، بیمار، وہ خواتین جو اپنے ایام سے گزر رہی ہوں اور دوسرے وہ افراد جو کسی مختلف وجوہات کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکتے ہوں، ان کے لیے کافی استثناء دی جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بے شک دن کے کے اوقات میں کھانے پینے کرنے والے مسلم افراد کو سخت جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے اور وہ ہوٹل یا ریستوران جو دن کے اوقات میں کھلے ہوئے ہوں اور وہاں کوئی کھاتے پیتے بھی پایا جائے، تو ان پر بھی جرمانہ لگتا ہے۔
تاہم غیر مسلموں اور اوپر بتائے گئے افراد کے لیے ان ریستورانز میں کچھ جگہ علیحدہ سے مختص کی جاتی ہے تاکہ وہ افراد بھی رمضان کے دن کے اوقات میں کھا پی سکیں۔ سعودی عرب میں ائرپورٹ کی حدود میں کھانے پینے پر کوئی پابندی نہیں، کیونکہ سفر کی حالت میں روزہ رکھنے کی مسلم آبادی پر چھوٹ ہوتی ہے، اس لیے ائرپورٹ کی حدود کے اندر کھانے پینے کی دکانیں رمضان میں دن کے اوقات بھی کھلی ہوتی ہیں۔
ترکی میں اگرچہ رمضان میں کھانے پینے کو دن کے وقت سرعام کرنا، معیوب سمجھا جاتا ہے، لیکن وہاں احترام رمضان جیسا کوئی قانون نہیں۔ اگر وہاں کوئی شخص دن کے اوقات میں کھانے پینے میں مصروف دکھائی دے یا کوئی ریستوران اس عمل میں شریک ہو، تو اس کی تادیب کے لیے کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔
انڈونیشیا، جو سب سے بڑا مسلم ملک ہونے کا بھی اعزاز رکھتا ہے، وہاں کے اکثر صوبوں میں روزے داروں پر احترام رمضان سے ملتا جلتا قانون بے شک نافذ ہے، لیکن ان کے بعض مقامات جہاں سیاحوں کی آمد و رفت رہتی ہے، وہاں کوئی اس طرح کے قوانین نافذ نہیں اور کھانے پینے کی دکانیں بھی سر عام دن میں اپنا کاروبار کر رہی ہوتی ہیں۔
وہاں کے مسلمان بھی اسی پریکٹس میں رہتے ہیں کہ روزہ رکھ بھی سکتے ہیں اور نہ بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنے معمولات زندگی نارمل عام دنوں کی طرح ادا کر سکتے ہیں۔ جکارتہ میں تو حتی کہ بارز (شراب خانے ) کو بھی دن کے اوقات بند کرنے یا کروانے پر سختی سے منع کیا ہے۔
اسی طرح ملائیشیا میں بھی رمضان میں کھانے پینے کا تعلق سماجی آداب سے ہے نہ کہ کوئی سخت قوانین وہاں پر نافذ ہوں، اور جبری دکانوں، ہوٹلوں اور ریستورانز کی پابندی وہاں کی جائے۔ کوالالمپور میں بے شک کچھ ریستوران بند کیے جاتے ہیں، لیکن اکثر انڈین اور چائنیر ریستوران رمضان میں دن کے اوقات بھی کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے کے افعال آسانی کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان ممالک میں سینما ہال، مووی تھیٹرز اور دیگر تفریحی مقامات کی بندش بھی دن کے اوقات دیکھنے کو نہیں ملتی اور نہ ہی ان پر کوئی جرمانہ عائد ہوتا ہے۔
لیکن ہمارے ملک پاکستان میں احترام رمضان آرڈیننس مجریہ 1981 کے نام سے ایک عجیب و غریب قانون نافذ ہے، جو دن کے وقت پاکستان میں اس طرح نافذ ہوتا ہے کہ صبح کے وقت ڈھونڈنے سے بھی کھانے پینے کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی اور سارا شہر کسی ویرانے کی مانند بھائیں بھائیں کر رہا ہوتا ہے۔ یہ قانون مشہور آمر، جنرل ضیا ء الحق کے دیگر کارناموں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جس کو اس کے دور سے پہلے یہاں کے لوگ جانتے بھی نہیں تھے۔
یعنی پاکستان اپنی وجود میں آنے کے 34 سال تک رمضان کے مہینے کا احترام نہیں کر سکا یا اس وقت شاید پاکستان میں مسلمان نہیں بستے تھے جو رمضان کا احترام کیا کرتے تھے۔ سنہ اکیاسی میں ہی ضیائی دور کے آغاز میں مسلمانوں کا وجود پاکستان میں ہوا، جو رمضان میں کسی دوسرے کو کھاتا پیتا دیکھ کر تکلیف میں مبتلا ہو جاتے اور ان کے روزے متاثر ہونے خدشہ ہوجاتا۔ جس کے تدارک کی وجہ سے ضیائی رجیم کو یہ قانون نافذ کرنا پڑا۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر کئی لوگوں کو سزائیں ہو چکی ہیں، جبکہ بعد میں اس قانون میں کئی ترامیم کر کے سزا کی مدت اور جرمانے کو کئی گنا بڑھا دیا گیا۔
بعض چھوٹے شہروں میں تو پولیس کو بس احترام رمضان کی آڑ میں اپنے پولیس گردی اور جیبیں گرم کرنے کا بہترین موقع بھی مل جاتا ہے۔ ابھی حالیہ میں گھوٹکی سندھ کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کچھ پولیس افسران کو ایک غریب دکاندار کی کھانے پینے کی اشیاء کو ضائع کرتے ہوئے دکھایا گیا اور اطلاعات کے مطابق پولیس نے اس دکاندار سے بھاری رشوت بھی طلب کی تھی۔
اس طرح خانپور مہر گھوٹکی میں اس پولیس اہلکار نے پہلی رمضان کو ہوٹل کھلا رکھنے پر ایک غریب ہوٹل مزدور کا سارا دودھ بہا کر ضائع کر دیا اور دین کی توقیر بچا لی اور ڈھیر سارا ثواب کما لیا۔ کراچی کے ایک معروف صحافی لکھتے ہیں کہ: ’سندھ کی پانچ ہزار سال کی تاریخ اپنی سیکولر روایتوں، غیر معمولی برداشت، فطرت کی رنگینی، ثقافتی تنوع اور کثیرالجہتی فطری رنگوں کی عکاس ہے۔ یہ سندھ کا کون سا افسر ہے جو اپنی ہی تہذیب، تمدن اور تاریخ ہی سے نابلد ہے؟‘ ، ایس ایچ او کسی غریب کا کاروبار تو بند کرا سکتے ہیں، مگر ان کو دودھ گرانے کے کس نے اجازت دی؟
یہ قانون اب بھی سختی کے ساتھ نافذ العمل ہے اور اب بھی رمضان المبارک کے دوران ’روزہ خوروں‘ کی گرفتاریوں اور جرمانوں کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پولیس ریلوے سٹیشنوں اور لاری اڈوں کے باہر سے تو ’سرعام‘ کھانے پینے کے الزام میں غریب مسافروں کو گرفتار کر لیتی ہے۔ بہت سی کینٹینیں بند کرا دی جاتی ہیں، لیکن مہنگے ہوٹلوں میں خصوصی اجازت کے تحت ’سب کچھ‘ دستیاب ہوتا ہے۔
پر کسی کے روزہ رکھنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہو گا کہ پوری قوم کے اوپر بھی روزہ تھوپ دیا جائے اور سارے عام معمولات زندگی درہم برہم کر دیے جائیں بلکہ سیکھنا یہ ہے کہ عام نارمل حالات میں، معمول کے کاروبار انجام دیتے ہوئے بھی محض اللہ کے لئے بھوک و پیاس برداشت کی جا سکتی ہے۔ یورپ میں ہمارے مسلمان بھائی، عام معمولات کے ساتھ 20 گھنٹے کا روزہ بھی رکھ لیا کرتے ہیں۔ اگر آپ نے ساری دنیا کے لوگوں کو پابند کر دیا کہ ہمارے نازک مزاج روزہ دار کو کھانے کی شکل نہیں دکھانی تو پھر اس روزہ دار نے خاک ٹریننگ لی؟
روزہ کسی انسان کی ذات پر فرض ہے، اس کے لیے ایک مشقت ہے، کہ وہ اپنے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے دن بھر بھوکا پیاسا اور جنسی طور پر بچ سکتا ہے، یہ کوئی سزا نہیں، ایک طرح کی ٹریننگ ہے۔ پس اس ٹریننگ کے دوران شریعت نے یہ خیال رکھا ہوا ہے کہ کوئی آدمی جذبات میں آ کر اپنی جان کو حد سے زیادہ تکلیف میں نہ ڈال بیٹھے۔ اس لئے تو غیر یقینی حالات ( مرض اور سفر) کے دوران، روزہ سے استثنی دیا گیا ہے۔ (ظاہر ہے کہ شریعت میں خدا اپنے بندوں کو خواہ مخواہ کی اذیت نہیں دینا چاہتا۔
سوچیئے کہ جو شریعت، خود روزہ دار کی اپنی جان جوکھوں میں نہیں ڈالنا چاہتی، وہ اس روزہ دار کی وجہ سے باقی سارے شہر کو بھلا کیوں پابند سلاسل کرنے لگی؟ نماز پڑھتے ہوئے نمازی کا احترام کرنا اور اسی طرح کسی روزہ دار کے سامنے کھانے پینے سے گریز کرنا، ایک طرح کے معاشرتی آداب میں شمار ہوتا ہے، نہ کہ اس کو قانون بنا کر پوری قوم پر یک مشت تھوپ دیا جائے۔
پھر رمضان میں حکومت نے کھانے پینے اور دیگر تفریحی کاموں جیسے سینما بینی پر زبردستی تو پابندی عائد کردی، پر لوگوں کو لڑائی جھگڑا کرنے، سرعام گالیاں بکنے، مہنگائی کرنے، جھوٹ بولنے اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی شاید چھوٹ دی ہوئی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ رمضان مبارک کے مہینے میں روزے دار ایک دوسرے کے خلاف زور دار طریقے سے لڑ جھگڑ رہے ہوتے ہیں جس میں فزیکل ایکشن کے ساتھ ساتھ گندی گندی بیہودہ گالیوں کا بھرپور استعمال بھی آزادانہ کیا جاتا ہے۔
اس موقع پر کوئی دوسرا دیندار آدمی نہ ان کو کوئی لعن طعن کر رہا ہوتا ہے اور نہ ان پر کوئی جرمانہ وغیرہ عائد ہوتا ہے، اور نہ ہی ان کے روزوں کی صحت پر کوئی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہوتے ہیں۔ ملوث افراد بھی خوش، قانون نافذ کرنے والے افراد بھی خاموش اور دیگر اس تماشے کے سارے تماش بین افراد بھی جیسے اپنی جسمانی خوراک کی کمی کو ایسے ہی ذہنی خوراک سے پورا کر کے اپنا روزہ انجوائے کر کے اپنے اپنے گھروں کو ہنسی خوشی روانہ ہو جاتے ہیں۔
یہاں پر احترام رمضان نامی قانون نافذ نہیں ہو سکتا ۔ رمضان کے مہینے کے دوران یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ گراں بازاری کم ہوتی ہے نہ منافع خوروں میں تبدیلی آجاتی ہے۔ ہوٹلوں میں رش کم پڑتا ہے نہ چائے خانے بند ہو جاتے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ میں کوئی کمی آتی ہے نہ رشوت خور اپنا طریقہ بدل دیتے ہیں۔ ورک کلچر بدل جاتا ہے نہ لوگوں کے کام ٹالنے سے ہم باز آتے ہیں۔ کیا احترام رمضان صرف کھانے پینے کی پابندی کا ہی نام رہ گیا ہے۔


