آپ کی تنخواہ کتنی ہے، بتائیں نا
کشور کمار کی آواز میں فلم پہلی تاریخ کا یہ گیت سریلا اور دل کو خوب بھاتا ہے، گدگداتا ہے، ساتھ ہی ساتھ ایک اچھی خبر بھی سناتا ہے، اس گیت میں سیرو تفریح سمیت کئی منصوبے بھی بتائے گئے ہیں، تنخواہ ملنے کی خوشی، دل میں بجتے جل ترنگ، اس گیت میں سب ملتا ہے۔ بھائی، تنخواہ چیز ہی ایسی ہے، ہم میں سے اکثریت کے لیے یہ چند روز کی مہمان ہوتی ہے مگر اس کے ملنے پر ہمیشہ من میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں۔
دیر سویر تو ہو جاتی ہے مگر تنخواہ کا پہلی تاریخ سے گہرا تعلق ہے، پہلی تاریخ ایک استعارہ ہے، تنخواہ ملتی ہے، تیس روز کے انتظار کے بعد من کی مراد پوری ہوتی ہے مگر یہ گھڑی کی سوئیاں پھر پیچھے چلی جاتی ہیں، پھر وہ ہی انتظار، پھر وہ ہی گن گن کر دن گزارنا
تنخواہ ملازمت پیشہ افراد کے لیے ایک امید اور خوشی کے ساتھ ساتھ نوحہ بھی ہے، ملتی تو تیس روز کے انتظار کے بعد مگر ملنے کے بعد اتنی جلدی جاتی کہاں ہے، یہ راز ایک راز ہی ہے، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تنخواہ آتی تو کچھوے کی رفتار سے ہے مگر خرچ خرگوش کی رفتار سے ہوتی ہے۔ جیب میں پیسے ہیں تو سارے حساب کتاب، بچت کے سارے منصوبے اکثر دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، تنخواہ ملنے کا دن تو ہر ماہ آتا ہے مگر پھر بھی یہ دن دیگر دنوں سے الگ محسوس ہوتا ہے۔
پہلی نوکری اور تنخواہ ایسی چیز ہے جو انسان ہمیشہ یاد رکھتا ہے مگر یہ بھی تو کہا جاتا ہے کہ عورت سے اس کی عمر اور مرد سے اس کی تنخواہ نہیں پوچھنی چاہیے، پہلی بات تو سمجھ آتی ہے مگر دوسری بات کچھ زیادہ ہضم نہیں ہوتی، کیوں نہ پوچھیں بھئی، خواتین سے کچھ ڈرنا چاہیے، مردوں سے ان کی تنخواہ کیوں نہ پوچھیں، ویسے بھی دوسروں کے معاملات میں مداخلت اور کریدنا تو ہمارا ٹریڈ مارک ہے
تنخواہ کسی کو کم تو کسی کو زیادہ ملتی ہے، مساوی تنخواہ کے لیے قوانین ہیں مگر ان پر عمل کم ہی ہوتا ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مساوی تنخواہ کا عالمی دن ہر سال اٹھارہ ستمبر کو منایا جاتا ہے۔
کتنا سچا اور کتنا جھوٹا مگر ایک سروے کے مطابق، لکسمبرگ میں سالانہ اوسط تنخواہ اڑسٹھ ہزار ڈالر یعنی 20 کروڑ روپے کے قریب ہے، جو ماہانہ ایک کروڑ چھیاسٹھ لاکھ بنتی ہے۔
ایک سروے کے مطابق، پاکستان میں ایک شخص کی ماہانہ اوسط تنخواہ بیاسی ہزار کے قریب ہے
جون آتے ہی عوام کی نظریں بجٹ پر ہوتی ہیں، کیا مہنگا اور کیا سستا ہو گا مگر سرکاری ملازمین کو دو ڈھائی گھنٹے کی تقریر میں صرف اور صرف اس بات میں دلچسپی ہوتی ہے کہ تنخواہ کتنی بڑھے گی
کئی افراد تو اپنی تنخواہ خرچ کرنے میں کچھ زیادہ ہی محتاط ہوتے ہیں مگر تمام حربے اکثر ناکام ہی رہتے ہیں، تنخواہ جیسے آتی ہے، ویسے ہی جاتی ہے، اس دنیا میں ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو اپنی قلیل تنخواہ بھی دیگر افراد پر خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ کینیا کے ایک ٹیچر کو ہی دیکھ لیجیے۔ جو اپنی تنخواہ غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں، یہ ہی نہیں بچوں کو مفت پڑھاتے بھی ہیں، دو ہزار انیس میں دنیا کے سب سے منفرد معلم کے اعزاز اور دس لاکھ ڈالر نقد انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔
شوہر اور بیوی کے درمیان اختلافات کب پیدا ہو جائیں، وجہ کیا بنے، کچھ پتہ نہیں چلتا، تاہم اکثر تنخواہ یہاں اپنا حصہ ڈالتی ہے، اکثر شوہر اپنی بیوی کو درست تنخواہ بتانا پسند نہیں کرتے، بھارت میں تو ایک خاتون دو قدم آگے رہی، شوہر کی تنخواہ کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا اور اپنے مقصد میں کامیاب رہی۔
یونیورسٹی آف لندن کی تحقیق میں بیوی کے مقابلے میں کم تنخواہ حاصل کرنے والے شوہروں کے لیے کوئی زیادہ اچھی خبر سامنے نہیں آئی۔ جس کے مطابق، اگر بیوی کی تنخواہ شوہر سے زیادہ ہو تو شوہر نہ صرف ناخوش رہتے ہیں بلکہ انہیں کئی نفسیاتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
تنخواہ کم ہو اور کوئی سنے بھی نہ تو منفرد احتجاج کے ذریعے اپنی آواز حکام بالا تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسکردو میں واپڈا ملازمین نے ایک ماہ کی تنخواہ نہ ملنے پر احتجاجاً پورے شہر کی بجلی بند کر دی۔ اکثر ملازمین کم تنخواہ کا یہ حل بھی نکالتے ہیں کہ دفتر ہی نہیں آتے اور چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں۔
کم تنخواہ کے خلاف تو احتجاج انوکھی بات نہیں مگر کینیڈا میں ڈاکٹروں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ ان کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں، انہیں کم کیا جائے، ان کا موقف تھا کہ ہماری تنخواہ کم کر کے نرسوں کی تنخواہ زیادہ کی جائے اور رقم کو مریضوں کی فلاح کے لیے بھی مختص کیا جائے
کاروبار چل جائے تو اس کا الگ ہی مزہ ہے، کئی فائدے بھی ہیں مگر تنخواہ ملنے کی خوشی، ایک ایک دن کا انتظار۔ تم کیا جانو کاروباری بابو
عمیر نجمی نے کیا خوب کہا ہے
ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
جیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے


