ہمارے معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح میں اضافے کی وجوہات


دنیا میں سب سے خوبصورت اور بہترین رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ جتنا یہ خوبصورت ہے۔ اتنا ہی یہ رشتہ نازک بھی ہے اور بھیانک بھی ہے۔ جیسا کہ میرے مضمون سے واضح ہے کہ ہمارے معاشرے میں اور خاص کر پاکستان میں طلاق کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ہر دوسرا تیسرا شخص گارڈین جج کی عدالتوں میں مقدمات کی نظر ہے اور وہ شخص عدالتوں میں کیسز میں الجھا ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو طلاق کی شرح ہے۔ اس میں اضافہ آخر کیوں ہے۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔

اسلام میں طلاق کے بارے میں سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔ اسلامی معاشرے میں طلاق ایک انتہائی نامعقول قسم کا حلال کام ہے جس کا اختیار شوہر کو دے رکھا ہے اور بیوی کو خلع کا حق دے رکھا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے۔ بڑی تلخ بات ہے کہ ایسے جوڑوں کے ہاں جب اولادیں پیدا ہو جاتی ہیں تو ان پر یہ ذمہ داریاں بڑھ جاتیں ہیں۔ ان کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام کریں ایک دوسرے کی عزت کریں ایک دوسرے کے اوپر ضد اور انا کو حاوی نہ ہونے دیں دیکھا جائے تو اس میں نقصان نہ عورت کا ہوتا ہے۔ نہ خاوند کا ہوتا ہے۔ مرد اور عورت اپنے اپنے راستوں پہ چل پڑتے ہیں۔ بیچ میں جو شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ وہ ہے۔ اولاد۔

اولاد انسان کی بہت میٹھی اور اللہ تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اولاد کی محبت اور ان کی قدر ان لوگوں سے پوچھیے جن کے ہاں اولادیں نہیں اور جو اولاد کے لیے اللہ کے حضور دعائیں مانگتے ہیں جب اللہ کی رحمت سے ان کی اولاد ہو جاتی ہے تو ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ غلطی چاہے مرد کی ہو یا عورت کی ہو ہونا تو یہ چاہیے کہ خاندانی مسائل کو گھر کے اندر میاں بیوی نہایت اچھے ماحول میں حل کریں لیکن یہ ایک فیشن بن چکا ہے کہ عورت خاوند کو نیچا دکھانے کے لئے اور خاوند عورت کو نیچا دکھانے لیے عدالتوں کا رخ کر کے الٹی سیدھی موقف اپنا کر اور کچھ ان کے گھر والے بھی ان کو پٹیاں پڑھا کر اور کچھ معاشرے کے لوگ بھی اس کا منفی کردار ادا کر کے ہنستے بستے گھر کو انتہائی حد تک تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ عورت ایک ایسا اس کا مقام بن جاتا ہے کہ ان کے ہاں نہ تو کوئی مناسب رشتوں کے لیے جاتا ہے اور نہ ان کی اولاد اچھی تعلیم و تربیت سے محروم احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے بھی بچے یتیم اور اسیر بن جاتے ہیں۔ اگر باپ کے پاس بچے جاتے ہیں تو ماں کی محبت سے محروم اور اگر بچے ماں کے پاس جاتے ہیں تو باپ کی محبت سے محروم اور یہی چیز بچوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں جو کہ معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے منفی رجحانات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ایسی اولادوں کو لوگ طعنے بھی دیتے ہیں اور ایسے طعنے دیتے ہیں کہ وہ نہ جینے کے قابل ہوتے ہیں۔ نہ مرنے کے

تو میرا مضمون لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ دونوں جانب سے عقل اور شعور کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں بنیادی چیز یہ ہے کہ ایک دوسرے میں برداشت کا مادہ ہونا چاہیے پیج جو تیسرا شخص چاہے اس کے بہن بھائی ہو یا ماں باپ ہو یا کوئی پڑوسی ہو تو ان کے باتوں پر کام دھرنے کے بجائے اپنے گھر کی مستقبل کے بارے میں اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں اور ان کی تعلیم و تربیت کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں اور جو شخص بات لے کر اتا ہے تو اس میں ان کے باتوں پر یقین کرنے کی بجائے اس کی تحقیق کرے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے جس کا مفہوم ہے کہ اے ایمان والو جب کوئی فاسق آدمی کوئی خبر لے کر آئے تو اس سے پہلے اس خبر کی تصدیق کر لو اس سے پہلے کہ کوئی ایسا فیصلہ سرزد ہو جائے جس کا بعد میں پچھتاوا ہو اللہ تعالی کمی بیشی معاف فرمائے یہ میں نے آیت کا مفہوم بتا دیا جہاں لوگوں کا رویہ اور سسرال اور میکے کی جو جنگ ہے۔ یہ جو منفی جو رجحان ان کی طرف سے بھڑک اٹھتا ہے تو اس میں کچھ ہمارے اے آر وائی ڈیجیٹل ہم ٹی وی جیو ٹی وی کے وہ نام نہاد ڈرامے ہوتے ہیں کہ جس کا ٹائٹل سبجیکٹ ہی یہی ہوتا ہے کہ دو خاندانوں کے درمیان پھوٹ کیسے ڈالنی اور کس طرح لڑکی کو طلاق دلانی ہے تو یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے اور حقیقت سے بہت قریب تر ہے۔

میں اپنے مضمون میں دونوں کو صبر و تحمل بردباری قوت برداشت سے رہنے کی اپیل کرتا ہوں اس کی بنیادی وجہ صرف اور صرف اولاد کا مستقبل ہے۔ یہ جو مرد کو بھی سوچنا چاہیے اور عورت کو بھی سوچنا چاہیے مل کر مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہو تو ضروری نہیں ہے کہ پورے محلے میں ڈھنڈورا پیٹا جائے کیونکہ اس سے خود کی بدنامی ہوتی ہے۔ کسی کا کچھ بھی نہیں جاتا اور جب طلاق کا سرٹیفکیٹ لے لیتی ہے اور پھر زندگی کے ایسے موڑ پر آ جاتے ہیں کیونکہ آگے بڑھاپا میں جوانی نہیں انی تو اس میں پھر یہ ہوتا ہے کہ پھر یہ لوگ پچھتا رہے ہوتے ہیں پھر یہ اولاد ان کے لیے گلے کی ہڈی بن جاتی ہے۔

اگر کسی کو یہ بات بری لگ رہی ہو لیکن ہوتا ایسے ہی ہے اور حقیقت میں ایسے ہی ہوتا ہے جب بچہ یا بچی کی شادی میں رکاوٹ آئے خاص کر بچیوں کی شادیاں بڑا نازک مرحلہ ہوتا ہے جب کسی وجہ سے بچے تعلیم مکمل نہ کر سکتے ہوں تو یہی بچے کل کلا والدین کو بد دعائیں دے رہے ہوتے ہیں پھر اس میں نہ تو کوئی چاچا نہ کوئی ماما نہ کوئی خالہ نہ کوئی پھوپھی کسی نے سامنے نہیں آنا ہوتا بلکہ وقت نہ اسی جوڑے کو ہوتا ہے جس سے یہ حماقت ہوئی ہوتی ہے کیونکہ بڑھاپے میں ہی انسان کو پھر عقل آتی ہے لیکن وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

وہ ایک دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ اب پچھتائے کیا ہو جب چڑیاں چھٹ گئی کھیت جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے پھر سوائے پچھتاووں کے کچھ نہیں ہوتا اللہ تعالی نے یہ بڑا خوبصورت رشتہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے۔ دو خاندانوں کو آپس میں ملانے کا ایک ذریعہ ہے تو اس کو اس طرح اپنی بیوقوفیوں اور اپنے غلط فیصلوں کے بھینٹ نہ چڑھایا جائے خدارا تو انہی الفاظ کے ساتھ میں اپنے اس مضمون کو اختتام کرتا ہوں اس دعا کے ساتھ کہ اللہ رب العزت سب کے گھروں کو آباد رکھے اور سب کو ہدایت نصیب کرے جو شیطان لوگوں کی باتوں میں آ کر اپنا مستقبل خود خراب کرتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ہم ہماری اولادوں کا ہمارا اور ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو آمین۔

Facebook Comments HS