زرعی یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر راجہ عادل سرفراز کا تحقیقی کارنامہ
ذیابیطس ایک انتہائی سنگین میڈیکل ایشو بنتا جا رہا ہے اور اس کو کنٹرول میں لانا بہت زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً سوا تین کروڑ کے قریب لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں اور بین الاقوامی ذیابیطس فیڈریشن نے 2045 تک یہ تعداد 6 کروڑ تک جانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ذیابیطس وہ میڈیکل کنڈیشن ہے جس میں آپ کا جسم روزانہ خوراک کی شکل میں کھائے جانے والی شوگر یا گلوکوز کو کیسے ہینڈل کرتا ہے؟ یہ جاننا سب سے ضروری ہے۔ جب آپ کھانا کھاتے ہیں، تو آپ کا جسم اسے گلوکوز میں توڑ دیتا ہے، اس گلوکوز کو ہمارے جسم کے خلیے توانائی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
تاہم، آپ کے خلیات میں داخل ہونے کے لیے، گلوکوز کو انسولین نامی ہارمون کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس اس وقت ہوتی ہے جب آپ کا جسم انسولین کو کسی بھی وجہ سے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتا۔
اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر راجہ عادل سرفراز جو کہ سینٹرل ہائی ٹیک لیب کے انچارج بھی ہیں نے 6 سال تحقیق کے بعد گلوکووائپ چائے تیار کی ہے جس کو جانوروں اور انسانوں پر ٹرائل کے بعد شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر کے خلاف موثر ترین حل کے طور پر پایا گیا۔ اس چائے کو کینسر کے مرض میں مبتلا 20 مریض جو کہ کیموتھراپی جیسے تکلیف دہ عمل سے گزر رہیں ان پر آزمایا گیا اور اس کو بہت موثر پایا۔
گلوکووائپ مکمل قدرتی اجزا پر مشتمل چائے ہے جس کو بنانا اور استعمال کرنا بہت آسان ہے۔ تحقیقی حلقوں میں راجہ عادل سرفراز صاحب کی اس ایجاد کو بہت زیادہ سراہا گیا۔ یہ پروڈکٹ زرعی یونیورسٹی میں لگے ایکسپو 2024 میں بھی رکھی گئی تھی جہاں ملک بھر سے آئے لوگوں نے اس کی افادیت کو سمجھا اور راجہ صاحب کے تحقیقی کام کو داد دی۔ ڈاکٹر راجہ عادل سرفراز کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی تحقیق کے دائرہ کار کو صرف چائے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہم مکمل ایسی غذائیں پیدا کرنے پر ریسرچ کر رہیں ہیں جو کینسر اور شوگر کے خلاف جادوئی اثرات رکھتی ہیں جیسا کہ فورٹیفائیڈ بریڈ، چپاتی، اچار کیچپ، اور آئل وغیرہ۔



