کیفے وکٹر (افسانہ)


ماہ نومبر کے آخری دن تھے، موسم میں تبدیلی کا بھرپور اشارہ مل رہا تھا۔ جیکٹس اور سوئٹرز کے حصار جسم کو سردی کی شدت میں اضافہ کے سامنے بندھ باندھ رہے تھے۔ درخت زرد پوشاک اوڑھے نا جانے کس کے ہجر کا ماتم کر رہے تھے۔ ساحلی شہر ہونے کے باوجود ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو جانے کی وجہ سے موسم کی عجیب سی کیفیت تھی۔ میں اپنے آفس میں بیٹھا تحریر و تحقیق کے کام میں مگن تھا۔ قدموں کی چاپ سے میری توجہ بٹی۔ دروازے پر فراست کھڑا تھا اور اندر آنے کی اجازت چاہتا تھا۔ ”آؤ آؤ فراست، رک کیوں گئے؟“ میں نے اسے اندر بلا لیا۔ ”صاب جی سلام۔“ اس نے ایک طرف ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

………………………………………………

فراست میرے آفس میں نائب قاصد تھا اور میری اس سے ملاقات بھی آفس میں ہی ہوئی تھی۔ میٹرک پاس تھا اور 6 ماہ کا کمپیوٹر سرٹیفکیٹ بھی ہونے کے باوجود اسے سرکاری نوکری کے لئے اس اسامی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ حالانکہ اس نے جونئیر کلرک یا آفس بوائے کی اسامیوں کے لئے درخواست دی تھی۔ لیکن حیرت اور حیرانی کی بات یہ تھی کہ ہمارے محکمۂ تعلیم کے ہیومن ریسورس سیکشن نے کوئی تگڑی یا سیاسی سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اسے نائب قاصد یعنی 1 گریڈ کی اسامی کا تقرر نامہ تھما دیا تھا۔

حالانکہ فراست نے کسی سیاسی دلال کو اس نوکری کے 50 ہزار روپے بھی دیے تھے۔ فراست اسی پہ بہت خوش تھا کہ چلو سرکاری نوکری تو مل گئی۔ میں اس کے ساتھ اس معاشرتی سلوک اور غیر مساویانہ سلوک پر بہت افسوس کرتا تھا۔ معاشرتی قدریں، برابر کے شہری حقوق وغیرہ مجھے سب کتابی باتیں لگتی تھیں۔ اپنے پیشہ وارانہ کیرئیر میں مجھے اس طرح کے بہت سے تجربات ہوئے تھے۔ میں اس بات پر پختہ ایمان رکھتا تھا کہ انسان کبھی خدا جیسی صفات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔ یہ خداوند کریم ہی کی صفت تھی جو سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتا تھا۔ ”۔ اس کا سورج نیکوں اور بدوں پر یکساں چمکتا ہے۔“ اسی لئے انسانوں سے کامل انصاف اور عدل کی توقع کرنا فضول ہے۔

……………………………………

میں اس آفس میں ایک ذمہ دار عہدہ دار تھا۔ اپنے سارے اسٹاف کے ساتھ میرا چھا بول چال تھا۔ اپنی حتیٰ الوسع کوشش کر کے میں سب کا خیال رکھتا اور احترام بھی کرتا۔ فراست سے بھی اسی لئے ہمدردی اور احترام کا رشتہ تھا۔ کیونکہ وہ اپنے کم تعلیمی معیار اور ایک کم آمدن انسان ہونے کے باعث اکثر اس معاشی نظام کے مائنڈ سیٹ کا شکار ہوتا تھا۔ میں اس کا بہت خیال رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس مہنگائی کے دور میں جب حاکم وقت کو معاشی حالات دگر گوں ہوتے ہوئے اپنی اقتدار کی کرسی ہلتی محسوس ہو رہی ہو تو وہاں عام سے کم آمدن والے ورکر کا کیا حال ہو گا۔

میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، ”اور فراست، کیا حال ہے، کیا چل رہا ہے؟“ اس نے جواب دیا، ”سر چھوٹی بیٹی ساری رات بخار میں تپتی رہی ہے“ اس نے نیند بھری آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔ ”تو بھائی اسے ہسپتال کیوں نہیں لے گئے؟“ اس نے میرا سوال سنتے ہی کہا، ”سر۔ ۔ ۔“ اس سے قبل کہ جملہ پورا ہوتا، کمرے میں خاموشی تھی۔

میں اپنے سامنے میز پر کھلی او ر ادھ کھلی کتب سے کچھ پڑھتے اور لکھتے ہوئے فراست سے بھی باتوں کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ میں نے طویل خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ سر نیچے جھکائے خاموش کھڑا تھا۔ میں اس کی بے بسی اور مجبوری کو جان گیا۔ میں اپنی نشست سے اٹھا اور فراست کو بازؤں میں بھر کے گلے سے لگا کر اسے تسلی اور حوصلہ دیا۔

…………………………………………

میں نے سخت لہجے میں اسے کہا، ”فراست تم مجھے یہ بتاؤ، ساری رات چھوٹی سی جان بخار میں تپتی رہی، تم اسے ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لے کر گئے۔ اور اب وقت دیکھو 11 بج رہے ہیں، اور اب تم میرے پاس آئے ہو۔“ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ معاشرے میں اتنی معاشی ناہمواریاں کیوں ہیں؟ اور پھر سفید پوشی کی حد یہ کہ اپنی مشکل اور پریشانی کو کسی سے کہنے کی ہمت بھی نہ ہونا۔ میں مزید تاخیر کرنے کی بجائے اپنے میز کی دراز سے پرس نکال کر ہزار ہزار کے تین نوٹ مٹھی میں بند کر کے فراست کے ہاتھ میں بغیر کچھ کہے تھما دیے اور کہا اب مزید تم آفس میں نظر نہ آؤ۔’۔ تم ایک دوسرے کا بار اٹھاؤ۔ ”میں تمہارے انچارج افسر کو فون کر کے تمہاری چھٹی کا بول دیتا ہوں۔ فوراً گھر جاکر بیٹی کو لے کر کسی کلینک، ۔ نہیں نہیں ہسپتال میں بچوں کے ڈاکٹر سے ملو۔ کوئی مشکل ہو تو میرا سیل نمبر تمہارے پاس ہے۔“ ۔ اور بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اس لئے کہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔ ”فراست کے چہرے پر احسان مندی کے تاثرات تھے۔“ چلو چلو مجھے نظر نہیں آؤ، ڈاکٹر سے ملنے اور بیٹی کے چیک اپ کی خبر مجھے ضرور دینا ”میں نے اسے رخصت کرتے ہوئے کہا۔

……………………………………

شام مجھے ایک دوست سے ملنے جانا تھا۔ ابھی گھر سے نکلنے کو تھا کہ چارجر سے فون ہٹاتے ہوئے ایک نامعلوم نمبر سے کال آنے لگی۔ پہلے تو دل میں آیا کہ چھوڑوں دوں نہ سنوں۔ لیکن پھر خیر کیا دل میں آئی کہ کال لے لی۔ دوسری طرف ایک آشنا آواز دی، جب اس نے ”صاب جی“ کہا تو فوراً مجھے فراست کا خیال آیا، واقعی یہ فراست تھا۔ ”جی فراست۔ کیا حالات ہیں، اور سب سے پہلے مجھے اپنی بیٹی کی طبیعت کا بتاؤ،“ میں نے ایک ہی جملے یہ سب باتیں کہہ دیں۔

خیر اس کی آواز میں ایک اعتماد اور ذمہ داری کا عنصر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا کیونکہ ان حالات میں جہاں اسے اپنی بیٹی کو لے کر جہاں پہنچنا چاہیے تھا وہ وہاں موجود تھا۔ ماہر ڈاکٹر نے اسے بر وقت پہنچنے کا کہہ کر اس کا اعتماد بحال کر دیا تھا۔ اس کی بیٹی میں تبدیلیٔ موسم کی وجہ سے وائرل انفیکشن کی علامات تھیں اور یہ انفیکشن قابل علاج بھی تھا۔ بچی کی خیریت جان لینے کے بعد میں نے فراست سے معذرت چاہی اور رابطے میں رہنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ رات دوست کے ہاں سے نکلتے اور پھر گھر کے چند اور کام نمٹاتے ہوئے ذرا تاخیر ہو گئی۔

………………………………

اگلے روز آفس میں فراست نظر آیا تو میں نے اسے بلا لیا۔ ”ہاں بولو فراست، کیا گھر میں خیریت ہے؟ بیٹی کا خاص کر بتاؤ؟“ میں نے اس سے استفسار کیا۔ اس نے سب سے پہلے میرا شکریہ ادا کیا اور بروقت مالی مدد اور حمایت کے لئے احسان مندی کا اظہار کیا۔ میں نے بہت سادہ الفاظ میں اسے یہ بات بتائی کہ ”اس میں میرا کیا کمال ہے؟ مجھے قدرت نے تمہاری مدد کا وسیلہ بنانا تھا خیر اس نے تمہیں میرے پاس بھیج دیا۔ اور مجھے رازق و داتا نے اس کام کے لئے ذہنی اور معاشی طور پر تیار کر رکھا تھا۔“ شاید میری باتیں اس کی مشکل نہ ہوں میں نے اپنا انداز بیاں سادہ رکھتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا، ”میرے بھائی فراست! جب تک اس مالک کونین کی مرضی نہ ہو، ہماری سانسوں کا اک لمحہ بھی اپنی حدوں کو عبور نہیں کر سکتا۔“ میں نے ان باتوں سے اسے احسان مندی کی کیفیت سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔ وہ توجہ سے میری باتیں سن رہا تھا۔ شاید اسے بھی عمر کے اس حصے تک اس بات کا اندازہ ہو گیا ہو کہ روزمرہ زندگی میں مشکلیں، پریشانیاں اور دکھ تکلیف سائے کی طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ لیکن الٰہی ذات بھی اپنی مخلوق کی روشوں کو اپنی نظر میں رکھتی ہے۔ ہر تنگی اور مشکل میں اپنے لوگوں کے لئے مدد کے وسیلے فراہم کرتا ہے۔ اور اب تو اسے یہ تجربہ بھی ہو گیا تھا کہ ذات الٰہی پر پختہ ایمان او ر بھروسا رکھنے والوں کو وہ اپنی نعمتوں اور برکات سے محروم نہیں رکھتا۔

………………………………

اسی دوران سیل فون کا رنگر بجنے لگا۔ دوسری طرف کال پہ میرا اسکول فیلو دوست وکٹر تھا۔ ابھی گزری رات ہی تو اسے مل کر آیا تھا۔ وکٹر اور میں سافٹ وئیر انجینئرنگ ڈپلومہ میں ساتھ ساتھ تھے لیکن ہماری دوستی اسکول کے زمانے سے چلتی آ رہی تھی۔ کال سننے پر اس نے کہا کہ کوئی قابل اعتبار اور ضرورت مند بندہ شام میں تین گھنٹے کے لئے آئی ٹی ہاؤس میں درکار ہے اور اچھی تنخواہ دی جائے گی۔ میں نے اس سے ایک دو دن کا وقت مانگا۔ چائے کا کپ ہونٹوں سے لگائے نہ جانے کیسے اور کیوں اس موقع کے بارے فراست کا نام ذہن میں آ گیا۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ اگر وہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھا سکے تو یہ اس کے لئے بہت زبردست ہو گا۔ اس سے قبل کہ میں اس سے بات کرتا، میں اس نوکری کے تمام جزئیات کا جائزہ لے رہا تھا۔

……………………

فراست کو شام میں وکٹر کے آئی ٹی سٹوڈیو میں کام مل جانے کی وجہ سے اس کے معاشی حالات قدر بہتر ہونے لگے تھے، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو پورے دھیان اور توجہ سے سر انجام دے رہا تھا۔ اور اس کے اسی مخلص طرز عمل سے یہ واضح تھا کہ وہ اس اصول کو اپنائے ہوئے تھا کہ، ”جو کچھ کرتے ہو یہ جان کر کرو کہ اپنے رب کے لیے کرتے ہو۔“ دن پہ دن گزرتے گئے، تین سال کا عرصہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔

میری ریٹائرمنٹ کے چند سال ہی باقی تھے۔ بس کبھی کبھار سوچتا تھا کہ ملازمت سے بھی رخصت ملنے کو ہے اور شاید۔ اس فانی زندگی سے بھی۔ لیکن مجھے اس بات کی دلی خوشی تھی کہ فراست کو مالی معاملات میں مستحکم ہوتے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے اور پہناوے سے اس کی ذہنی اور معاشی حیثیت میں بہتری اور خوشحالی کا اندازہ ہوتا تھا۔ یہ سب دعاؤں کی قبولیت اور فراست کی اپنی لگن اور جدوجہد کے باعث تھا۔ خاندانی طور پر اس پارٹ ٹائم جاب کی نعمت کے ساتھ رب العالمین نے اسے دو بیٹوں سے بھی نوازا تھا۔

وکٹر جب کبھی مجھے فون کرتا یا پھر میرا اس کے سٹوڈیو کی طرف جانا ہوتا وہ فراست کی شکل میں ایک مخلص اور محنتی ورکر فراہم کرنے کے لیے میرا شکریہ ادا کرتا۔ اسے فراست پر بہت اعتماد اور بھروسا تھا۔ آئی ٹی اسٹوڈیو کی روزمرہ دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اپنے شوق کے باعث فراست اس ماحول میں رہتے ہوئے یہاں پر ہونے والے کام کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی عبور حاصل کر رہا تھا۔ اگر دیکھا جائے تو صبح سرکاری ملازمت کے بعد دوپہر سے رات گئے تک پرائیویٹ ملازمت کے لیے وقت نکالنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ جب مجھے فراست نے بتایا کہ صاحب! میں نے انٹر کمپیوٹر سائنس کا امتحان ہائی سیکنڈ ویژن سے پاس کر لیا ہے، تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی۔

………………………………………………………………………………

جلد فراست نے سرکاری ملازمت سے تین سال کی بغیر تنخواہ کے لمبی چھٹی لے لی اب وہ صبح سے رات گئے تک آئی ٹی اسٹوڈیو کو وقت دے سکتا تھا۔ فراست کے لیے یہ روزگار ایک سنہری موقع تھا، جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنا معیار زندگی بھی بہتر کر لیا اور وہ اب معاشی طور پر مضبوط بھی ہو گیا تھا۔ اسے اس کی محنت اور لگن کا ثمر اپنی ذاتی گھر، بچوں کی اچھی تعلیم، بہتر علاج معالجے اور سفر کے لئے ایک اوسط نوعیت کی گاڑی کی شکل میں ملا تھا۔

اور وہ ان نعمتوں اور سہولتوں کا حقدار بھی تھا۔ آج جمعہ کا دن تھا میں حسب معمول اپنے آفس میں کتابوں میں گھرا ایک مضمون مکمل کرنے میں محو تھا۔ دروازے پر ہلکی دستک نے میرا دھیان کتابوں سے ہٹا دیا اور دروازے پر فراست کو کھڑے پایا۔ ایک اچھے اور صاف ستھرے پینٹ شرٹ اور کنٹراسٹ کورٹ میں ملبوس، لیکن چہرہ اترا ہوا، مجھے حیرت ہوئی فراست! آؤ آؤ بیٹھو۔ خیریت ہے نا؟ میں نے پوری توجہ اس کی طرف مبذول کرتے ہوئے استفسار کیا۔

اس نے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا، ”نہیں صاحب! وکٹر سر اپنا کاروبار سمیٹ کر کینیڈا جا رہے ہیں۔“ میرے لیے یہ حیران کن بات تھی اور نہیں بھی، اور اب فراست کی پریشانی اور مایوسی کی وجہ بھی میرے علم میں آ چکی تھی۔ خیر اس سلسلے میں، میں کچھ نہ کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ وکٹر میرا پرانا اور جگری دوست اور اسکول فیلو ضرور تھا لیکن اس کے ارادوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہونا اور وہ بھی اسے پوچھے بغیر، مجھے انتہائی غیر اخلاقی اور نامناسب لگتا تھا، سوائے اس کے کہ میں اسے ایک خوبصورت پھولوں کے گلدستے کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے رخصت کرتا۔ ان تمام باتوں پر غور و خوض کرتے ہوئے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے سوچتے ہوئے میں نے فراست کے کندھے تھپتھپائے اور کہا، ”فکر نہیں کرو، وہ مالک کل اور خالق کائنات بڑا کارساز ہے، جو تمہیں یہاں تک لے آیا اس سے بھی آگے لے جانے اور سرفراز کرنے پر قادر ہے۔“

…………………………………………

میرے دوست وکٹر نے اپنے آئی ٹی اسٹوڈیو کا تمام سامان اور آلات بمعہ جگہ فروخت کر دیے تھے۔ اور اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہونے کو تھا۔ اپنی فلائٹ کے بارے میں تمام تفصیلات سے وہ مجھے پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا۔ میں نے انہیں ائرپورٹ پر نیک خواہشات کے ساتھ خدا حافظ کہا۔ اتفاق سے اس دن فراست اپنے خاندان میں ایک قریبی رشتہ دار کی وفات کے باعث اپنے باس کو ائرپورٹ پر الوداع کہنے نہ پہنچ سکا۔ وکٹر نے جاتے ہوئے ایک براؤن رنگ کا لفافہ میرے حوالے کیا۔ جس پر فراست کا نام لکھا تھا۔ اس نے فراست کی وفاداری خلوص اور محنت کی تعریف کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے کچھ رقم تحفتاً میرے حوالے کی تھی۔

……………………………………………………

ائرپورٹ سے گھر واپسی پر میں نے دو یا تین بار فراست کو فون کیا مگر اس سے رابطہ نہ ہوا۔ اگلی صبح میں نے احتیاطاً یہ امانت اپنے آفس ہینڈ بیگ میں رکھ لی اگرچہ مجھے علم تھا کہ شہر کے حالات ٹھیک نہیں اور اسٹریٹ کرائم کا جن اپنی بوتل سے باہر آیا ہوا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاشرتی ناسور پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے تھے شاید میرے آف لائن میسجز یا پھر مس کالز ریکارڈ کی وجہ سے فراست آفس اوقات کار میں ملاقات کے لیے آپ ہی پہنچ گیا۔

رسمی خیر و عافیت دریافت کرنے کے بعد اس نے ائرپورٹ نہ پہنچنے پر مجھ سے معذرت کی۔ اسے پارٹ ٹائم ملازمت ختم ہونے سے زیادہ وکٹر جیسی شاندار باس سے جدا ہونے کا افسوس تھا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ فراست کی زندگی میں وکٹر کے آئی ٹی سٹوڈیو میں ملازمت کرنا ایک ایسا موڑ تھا جو اسے معاشرتی اور معاشی طور پر 10 سال آگے لے گیا تھا۔ اگر اسے خوش بختی کی ایک جست کہا جاتا تو اس میں کوئی مضائقہ نہ تھا۔ فراست ہمیشہ سے میرا بہت شکریہ ادا کرتا تھا کہ میں نے اس شاندار موقع کے لیے اس کی سفارش اور حمایت کی تھی۔

میں فراست سے مخاطب تھا، ”بھائی رب العالمین کا شکر ادا کیا کرو، ۔ ایک انسان دوسرے انسان کے لیے صرف وسیلہ ہوتا ہے، لیکن اس کے پس پردہ سپریم پاور تو اللہ تبارک و تعالی کی ذات ہے۔“ اس نے جواب دیا، ”صاحب پھر بھی صحیح وقت میں صحیح سمت میں رہنمائی مل جانا بھی کسی نعمت خداوندی سے کیا کوئی کم بات ہے۔“ فراست کی بات میں دم تھا اور یہ حقیقت بھی تھی خیر اس مختصر بات چیت کے بعد میں نے اپنے آفس بیگ سے اس کی امانت نکالی اور اسے دے دی۔

وہ حیرت سے کبھی مجھے اور کبھی اصل لفافے کو دیکھ رہا تھا۔ ”سر۔ یہ کیا ہے؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں نے کہا، ”فراست! یہ تمہارے باس مسٹر وکٹر نے تمہارے لیے مجھے جاتے ہوئے امانتاً تمہارے لیے دیا تھا، ۔ اب تم خود دیکھ لو کہ یہ کیا ہے۔“ فراست نے وہ لفافہ شکریہ کے ساتھ میرے ہاتھ سے لے لیا۔ جب اس نے یہ لفافہ کھولا تو اس میں پانچ ہزار والے بہت سے کرنسی نوٹ تھے۔ ”۔ صاحب یہ کیا ہے؟ اتنے پیسے تو میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھے ہیں۔اور مجھے تو پتہ بھی نہیں کہ یہ کتنے ہیں؟“

میں نے اس کے ہاتھ سے پیسوں والا لفافہ لے لیا اور اسے گن کر بتایا کہ وکٹر صاحب نے تمہیں 10 لاکھ روپے کا انعام صرف تمہاری۔ وفاداری، نیک نیتی اور محنت کے صلے میں دیا ہے۔ ”۔ یہ 10 لاکھ روپے! صاحب اتنی رقم میں کیا کروں گا؟ اتنے سارے پیسوں کا ؟“ فراست نے حیرت اور انکساری کے ساتھ کہا۔ ”دنیا بہت بڑی ہے اللہ تبارک و تعالی کی کاریگری ہے، بہت وسیع ہے اور اس رقم سے تمہیں دوبارہ ایک شاندار موقع ملا ہے کہ تم اپنی محنت وفاداری اور لگن سے اپنی کامیابی کے سفر کو جاری و ساری رکھ سک،“ میں نے بہت واضح الفاظ میں اسے رقم کے بہتر استعمال کی طرف رہنمائی کی۔ چلتے چلتے میں اسے کہا، ”یاد رکھو! جب آپ کو وہ ملتا ہے جو آپ چاہتے ہیں تو یہ خدا کی ہدایت ہے اور جب آپ کو وہ نہیں ملتا ہے جو آپ چاہتے ہیں تو یہ خدا کی حفاظت ہے۔“ مجھے ایک اسٹاف میٹنگ کے لیے نکلنا تھا، لہٰذا فراست کو رقم والا لفافہ دے کر میں میٹنگ ہال کی طرف چل دیا۔

……………………………………………………

دو یا تین ہفتے کا عرصہ ہونے کو آیا، میں بھی اپنے دفتری کاموں میں مگن رہا۔ خیر ایک دن آفس میں بیٹھا میں کچھ فائلوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ دروازے پر ہلکی دستک ہوئی۔ میں نے دیکھا تو دروازے پر فراست ہاتھ میں ایک شاپر لیے کھڑا تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد اس نے شاپر میری طرف بڑھایا، ”۔ سر! یہ مٹھائی ہے۔“ ۔ ”مٹھائی؟ کس چیز کی بھئی!“ میں نے حیرت سے پوچھا۔ فراست نے کہا، ”۔ صاحب! وہ میں نے ایک کیفے کھول لیا ہے۔“ کیفے! ۔ واہ واہ زبردست، ۔ بہت خوب، ”۔ میں چند لمحات میں دل پذیر سویٹس کی مٹھائی پیش کیے جانے کی نوعیت جان گیا، اور فراست کے اس دانشمندانہ قدم پر اس کی تعریف بھی کی۔“ کہاں کھولا ہے کیفے؟ اور کیا کیا کیفے میں رکھا ہے؟ ”میں نے فراست سے سوال کیا۔“ ہاں صاحب! پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے سرکاری نوکری کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا ہے، ۔ دوسرا کیفے کا نام اپنے باس کے نام پر ”کیفے وکٹر“ رکھا ہے جہاں چائے، کولڈ ڈرنک اور دوپہر کے کھانے کے آئٹم جس میں صرف بریانی رکھی ہے، ”فراست نے تفصیل سے مجھے اپنے نئے کاروبار کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے اپنے کیفے یاترا کی دعوت بھی دے ڈالی۔

“ ہاں ہاں، ضرور دوپہر کا کھانا کسی دن تمہارے کیفے پر ہی کھائیں گے، ”میں نے بھی بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی دعوت قبول کی اور شکریہ بھی ادا کیا۔ فراست کی چال ڈھال اور بات چیت میں خود کفالت کے باعث ایک اعتماد اور آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ میں نے اسے بیٹھنے کو کہا اور چائے کی آفر کی لیکن اپنے نئے بزنس کے انتظامی امور میں ذاتی دلچسپی کے باعث بہت سے کام اور ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ معذرت کر کے جلد رخصت ہو گیا۔

……………………………………………………

”کیفے وکٹر“ شہر کے مصروف ترین علاقے میں واقع تھا۔ شہر کے تقریباً تمام بینک کی برانچز اسی روڈ پر تھیں۔ اس کے علاوہ دوسرے ٹریڈ اور بزنس آفس بھی اسی علاقے میں واقع تھے۔ اس حوالے سے فراست کا ”کیفے وکٹر“ اپنے معیار اور صفائی کے لحاظ سے بہت پسند کیا جا رہا تھا۔ اگرچہ شہر میں عالمی اور ملکی حالات کے پیش نظر مذہبی تعصب کا عنصر تو موجود تھا ہی لیکن فراست کے ”کیفے وکٹر“ کو عوام دوسرے بین الاقوامی کاروباری برانڈز کی طرح برداشت کر رہے تھے اور ویسے بھی پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے یہ سب عوامل ثانوی حیثیت رکھتے تھے کہ کیفے کا کیا نام ہے؟

اور اسے کون چلا رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ ”۔ انسان صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا،“ ایک طرف تو یہ الٰہی فرمان تھا تو دوسری طرف اتنی بڑی کائنات میں موجود اپنی مخلوقات کی ضروریات کا ذمہ بھی اسی ذات اقدس نے لے رکھا تھا اور وہ اپنی مٹھی کھول کر تمام نفوس کی ضروریات کو پورا کرنا اسی کی ذمہ داری تھی۔ ان باتوں پر غور و خوض کرتے ہوئے میں ”کیفے وکٹر“ میں میں داخل ہو چکا تھا۔ بینچ اور ان کے سامنے میز صاف ستھرے اور ترتیب سے آراستہ کیے گئے تھے۔

اور اسی طور شیشے کی پلیٹیں، چمچ اور پارسل کے لئے پلاسٹک کے باکس بھی سلیقے سے رکھے گئے تھے۔ تقریباً تمام معروف برانڈز کے کولڈ ڈرنک انہی کمپنیوں کے مہیا کیے گئے فریجز میں سجے ہوئے تھے۔ آؤٹ ڈور سپلائی کے لیے رائیڈرز کے بیگ ایک طرف پڑے ہوئے تھے اور ان بیگز کے اوپر کیفے کا لوگو اور ایڈریس لکھا ہوا تھا۔ ان تمام انتظامات کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کو اولین ترجیح دی گئی تھی۔ 10 یا 15 افراد کا اسٹاف ”کیفے وکٹر“ کے لوگو والا باقاعدہ یونیفارم پہنے ہوا تھا۔

خیر فراست نے واقعی محنت اور لگن اور دانشمندی سے اس کاروبار کی داغ بیل ڈالی تھی جس کا عکس کیفے کے انتظام اور اندرونی ماحول سے جھلک رہا تھا۔ فراست کی مجھ پر جیسے ہی نظر پڑی تو اپنی نشست سے اٹھ کر بڑی عقیدت کے ساتھ میری طرف بڑا، انتہائی گرم جوشی سے میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مجھے اپنے چھوٹے سے آفس کی طرف لے گیا۔ کیفے میں ادائیگی اور لین دین کے تمام معاملات دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق کمپیوٹرائزڈ تھا۔

مجھے یہ سب دیکھ کر حیرت بھی تھی اور خوشی بھی، ۔ میں دل ہی دل میں اپنے رب کی ذات کا شکر گزار تھا کہ جس نے توفیق دی اور مجھے وسیلہ بنایا تھا کہ ایک کمزور اور ناتواں کے لئے مدد کا ذریعہ بن سکوں اور اس کی صحیح سمت میں راہنمائی کر پاؤں۔ آج مجھے اس بات کا احساس تھا کہ فراست نے اپنی حکمت اور اپنی محنت سے مجھے اس پر فخر کرنے کے قابل بنا دیا تھا۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیفے وکٹر (افسانہ)

  • 26/03/2024 at 9:11 صبح
    Permalink

    قابل تعرف اور مثبت سسوچ کا انداز ھے ۔ محنت ، وفا،ایمانداری جی کامیابی کی علامت

Comments are closed.