پاکستان کرکٹ ٹیم یا گلی محلے کی ٹیم


آج کل رمضان المبارک کے مبارک دن چل رہے ہیں اور عید کی آمد ہے۔ اگر ہم کسی بازار سے گزریں تو سیل سیل سیل لوٹ سیل کی آوازیں سنائی دیتی ہیں یا پھر بینر لگے نظر آتے ہیں۔ ہم بھی آج ایک ایسی ہی لوٹ سیل کی بات کریں گے جو آج کل پاکستان کرکٹ بورڈ میں لگی ہوئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ریٹائرڈ کھلاڑی کرکٹ میں واپسی کر رہے ہیں۔

اس لوٹ سیل کا فائدہ سب سے پہلے عماد وسیم نے اٹھایا اور مختلف لیگز میں کھیلنے کے بعد اور اچھا خاصے پیسے کمانے کے بعد ان کے اندر کا پاکستانی جاگا اور انہیں خیال آیا کہ پاکستان تو سب سے پہلے آتا لہٰذا انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر اپنی ریٹائرمنٹ واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ عماد وسیم کی دیکھا دیکھی ایک ٹی وی شو میں ان کے ساتھی رہنے والے محمد عامر کے اندر کی پاکستانیت بھی اچانک سے جاگی اور انہوں نے چار سال کے طویل عرصے بعد پاکستان کرکٹ میں اپنی واپسی کا اعلان کر دیا۔

مجھے محمد عامر یا عماد وسیم کی ریٹائرمنٹ واپس لینے پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے مگر ان دونوں کے اس فیصلے نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے سسٹم پر بہت سے سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ بنتا ہے محمد عامر جو چار سال تک بین الاقوامی کرکٹ سے دور رہے اور انہوں نے اس وقت ٹیم مینجمنٹ سے اختلافات ہونے کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا کیا ان کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کوئی گرین سگنل ملا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لی ہے؟

اگر ایسا ہوا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کو واپسی پر تیار کیا ہے تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ چار سال میں سوائے شاہین شاہ آفریدی کے کوئی اور ایسا تیز گیند باز تیار نہیں کر سکا جو بائیں ہاتھ سے گیند بازی کرتا ہو اور مجبور ہو کر محمد عامر کو ریٹائرمنٹ واپس لینے کا کہا گیا ہے؟ محمد عامر کو اگر ان کی ریٹائرمنٹ واپس لینے پر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تو پھر اس کا پیمانہ کیا ہو گا کیونکہ محمد عامر کی نا تو پاکستان سپر لیگ میں اس طرح کی پرفارمنس تھی نا کہیں اور جو وہ سیدھے پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل کیے جائیں۔

اگر عماد وسیم کی بات کی جائے تو ایسے محسوس ہو رہا ہے یہ کھلاڑی کھیل سے بھی بڑھ کر ہے۔ جس طرح سے عماد وسیم اور محمد عامر نے ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں خاص کر اس وقت کے کپتان بابر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اس کے باوجود اگر ان کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تو کیا ٹیم میں گروپنگ نہیں ہو گی؟ عماد وسیم اور محمد عامر کی ٹیم میں واپسی سے یقیناً ان نوجوانوں کھلاڑیوں کو کافی دھچکا لگے گا جو ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی پرفارمنس دکھا کر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں آنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

عماد وسیم جو کافی عرصہ سے ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ نہیں اور جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی بجائے ٹی وی شو میں بیٹھنے کو ترجیح دی تھی کیا وہ اگر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں شامل نہیں کیے جاتے تو دوبارہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں گے؟ اگر عماد وسیم پاکستان کرکٹ بورڈ کا سینٹرل کنٹریکٹ نہیں لیتے اور فری لانسر کے طور پر کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں تو کیا یہ سہولت دوسرے کھلاڑیوں کو بھی دی جائے گی۔ عرفات منہاس اور مہران ممتاز جیسے کھلاڑیوں کا مستقبل کیا ہو گیا؟ کیا عماد وسیم کی وجہ سے اندھیروں میں کھو جائیں گے؟

عماد وسیم اور محمد عامر کی ریٹائرمنٹ واپس لینے پر ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ پاکستان کی ٹیم نا ہو کسی گلی محلے کی ٹیم ہو جس کا جب دل کرے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دے اور جب دل کرے پاکستان سب سے پہلے کہہ کر ریٹائرمنٹ واپس لے لے۔

مختصر یہ کہ اگر ابھی بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو پرانے کھلاڑیوں کی طرف جانے پڑ رہا ہے اور ان کی شرائط ماننی پڑ رہی ہیں تو اس میں ان کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں بلکہ اس سسٹم کا قصور جو ان کھلاڑیوں کا کوئی متبادل پیدا نہیں کر سکا۔

Facebook Comments HS