کٹی پتنگیں، کٹتی گردنیں اور ٹک ٹاک پر ردعمل
دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کر بعد مغرب کو بطور خاص ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا جس کے لیے مغرب تیار نہ تھا۔ ایک پوری نوجوان نسل جس کو جنگ کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس کو یہ سمجھانا کہ جو تعلیم و تربیت ان کی کی گئی ہے، اس کی اب ضرورت نہیں رہی، آسان کام نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال محاذ جنگ سے واپس آنے والے وہ نوجوان تھے جو اوائل جوانی میں ہی بھرتی کیے گئے اور جب وہ بچ کر وطن واپس پہنچے تو ان کا اپنا معاشرہ ان کے لیے اجنبی بن گیا، ان کی مہارت کی معراج حکم کی بجا آوری میں جان قربان کر دینا تھا مگر پر امن معاشرے میں یہ مہارت بالکل غیر متعلقہ تھی، یہ نسل کبھی بھی تیزی سے بدلتی دنیا میں مناسب انداز میں مدغم نہ ہو سکی۔
اس نسل کو آج بھی دنیا خاموش نسل یا، سائلنٹ جنریشن، کے نام سے جانتی ہے۔ اس نسل نے اپنی تربیت میں دو بنیادی سبق ذہن نشین کیے، مارنا اور بچنا۔ یہ دونوں سبق اس نسل کی فطرت ثانیہ بن چکے تھے۔ امن کے حالات میں مارنا تو ممکن نہ رہا مگر بچنا یہ سروائیول کے سبق کا عملی اظہار اس جنریشن نے ایک ایسی نسل کو پیدا کر کے کیا جس کو، بے بی بومرز، کے نام سے جانا جاتا ہے، خاموش نسل نے اپنی تمام کمزوریوں کا مداوا اس نسل کی تربیت میں کرنا چاہا، نتیجتاً بے بی بومرز آزادی اور سماجی تبدیلی کی بانی نسل بنی۔
پاکستانی معاشرے کو پریشان خیال معاشرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے کی عمر رسیدہ نسل کی مماثلت مغرب کی خاموش نسل سے رتی برابر بھی نہیں ہے، اس نسل کو معصوم یا لا علم نسل قرار دینا مناسب ہوا گا۔ موجودہ نوجوان نسل میں سائلنٹ جنریشن اور بے بی بومرز کے خصائص جمع ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ حال ہی میں ٖ فیصل آباد میں ایک، خوش شکل اور جامہ زیب نوجوان سفید رنگ کے لباس میں ملبوس ہو کر اپنے سفر آخرت کی جانب روانہ ہوا، ڈور سے شہ رگ کٹنے کا واقعہ نیا نہیں تھا، نہ ہی حاکمین اور اہلکاروں کے دعوے نئے تھے۔ لیکن کچھ ضرور نیا ہوا، کوئی بھی ذی شعور جو نئی نسل سے ذہنی طور پر دور نہیں ہے اور نوجوانان کے سوشل پلیٹ فارم پر موجود ہے، نے اس نئی وقوع پذیری کو ضرور محسوس کیا ہو گا۔ یہ مظہر معروف پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔
ٹک ٹاک کو عصر حاضر میں ایک غیر سنجیدہ نوجوان نسل کا نمائندہ پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ مگر گزشتہ دو دنوں سے ٹک ٹاک پر ٹاپ ٹرینڈ میں یہی نوجوان اسی واقعے کو بنیاد بنا کر ایک عزم صمیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ نہ صرف پتنگ باز بلکہ پتنگ فروش حضرات بھی پتنگ اور ڈوریوں کو ڈھیروں میں رکھ کر آگ لگا کر راکھ کر رہے ہیں، ان وڈیوز کا پیٹرن بالکل وہی ہے جو ان کی غیر سنجیدہ وڈیوز کا ہوتا ہے، مگر ان کا چہرہ ان کے اس عزم کی تصویر ہے کہ وہ کٹی پتنگوں اور کٹتی گردنوں سے اکتا چکے ہیں، انہیں ادراک ہو چلا ہے کہ تبدیلی ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہیں کٹی پتنگوں کے بارے سنجیدہ فیصلہ بھی لے سکتے ہیں اور کٹتی گردنیں بچا بھی سکتے ہیں۔


