کرپشن کے فوائد
کرپشن ایک ایسا بدنصیب لفظ ہے کہ آج تک اسے کسی انسان نے (یہاں تک کہ کرپشن کرنے والوں نے بھی) تعریفی کلمات سے نہیں نوازا جس نے اسے بولا نفرت سے بولا (البتہ کیا بڑے شوق سے ہے ) ۔ اس لفظ کی مذمت میں ہزاروں صفحات متعلقہ و غیر متعلقہ افراد نے سیاہ کیے۔ ہمارے ملک میں بھیڑ چال کا یہ عالم ہے کہ کوئی چالاک شخص کوئی ایک موضوع اگر چھیڑ دے تو باقی سب لوگ ٹرک کی بتی کی طرح اس کے پیچھے بغیر سوچے سمجھے لگ جاتے ہیں اور ایک طوفان بدتمیزی شروع ہوجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے پیچھے بھی لوگ ہاتھ دھو کر بلکہ نہا دھو کر پڑ گئے ہیں، ایسے بہت سے لوگ ہیں جنھیں کرپشن کے معنی کا بھی پتہ نہیں وہ بھی اس کی مذمت میں بولتے تھکتے نہیں ہیں۔ کسی دن آپ ایک مائیک ہاتھ میں لے کر کیمرہ مین کے ساتھ راہ پر کھڑے کسی ٹریفک پولیس کا، جس کے جیبیں رشوت کے پیسوں سے لبالب بھرے ہوں گے ، انٹرویو کر لیں اور ان سے پوچھیں کہ کرپشن کے بارے میں اس کے کیا خیالات ہیں، پھر آپ دیکھیے آپ کو کرپشن کی مذمت میں ایک طویل لیکچر سننے کو ملے گا (اس دوران اس کے دونوں ہاتھ پتلون کے جیبوں میں ہوں گے ، مبادا کوئی نوٹ غلطی سے باہر نظر نہ آئے ) ۔
وطن عزیز میں چونکہ اس لفظ کا استعمال بالکل اسی طرح زبان زد عام ہے جس طرح خود کرپشن عام ہے لہذا ہم یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ اس کے کچھ فوائد تو ضرور ہوں گے ۔ جس ملک میں تقریباً نوے فی صد لوگ (بقیہ دس فی صد میں شیر خوار بچے اور وہ لوگ شامل ہیں جنھیں ابھی تک کرپشن کرنے کا کوئی موقع ہاتھ نہیں آیا ہو) کرپشن کی مختلف شکلوں میں ملوث ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ وہ عمل کلیتاً برا ہو۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ کسی برے کام پر پورے معاشرے کا اجماع ہو، الا یہ کہ وہ پورا معاشرہ مجموعی طور پر خود کر پٹ ہو اور اگر یہ بات ہے تو اس معاشرے کو صفحہ ہستی سے کب کا مٹ جانا چاہیے تھا، مگر جانے کیوں ایسا نہیں ہوسکا، گزشتہ قومیں (قوم ہود، ثمود، عاد، قوم لوط اور فرعون کی قوم) اپنے مخصوص گناہوں کی وجہ سے عذاب الہیٰ کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں، لہذا اگر کرپشن کوئی قومی برائی ہوتی تو پاکستانی قوم اس وقت دنیا کے نقشہ پر نظر نہ آتی۔
آپ یہ کہیں گے کہ جو سیلاب 2023 میں آیا تھا وہ بھی تو عذاب الہیٰ ہی تھا، جو کرپشن کی وجہ سے آیا ہو گا۔ اب اس بات کا کیا جواب ہے، کہ قوم نے تو اس سیلاب سے بھی خوب مزے لیے، متاثرین کے نام سے آئے ہوئے امداد متعلقہ اہلکاروں نے اپنے عزیز و اقارب میں تقسیم کیے، خود سیلاب متاثرین نے ٹرک لے جاکر امدادی سامان لوٹی تھیں، تاجروں نے مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھ کر خیموں کی قیمتیں تین گنا بڑھا دیں، یہاں تک کہ کچھ درندہ صفت انسانوں (جنہیں انسان لکھتے ہوئے میرا قلم لرز رہا ہے ) نے متاثرین کو راشن کا جھانسا دے کر ان کی عزتیں تک پامال کیں۔ (عذاب تو اس عمل پر آنا چاہیے تھا مگر نہیں آیا ۔
جہاں تک پاکستان میں کرپشن کی تعریف کا سوال ہے تو میں یہ سمجھ سکا کہ کرپشن سے مراد وہ بدعنوانی ہے جسے کوئی دوسرا کرے۔ میرا خیال ہے کہ دل سے ہر آدمی کرپشن کے حق میں ہے لیکن چونکہ اس عمل کو ہمارے نظام انصاف میں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں ہو سکا اور نہ ہی معاشرے میں اتنی جراٴت پیدا ہوئی کہ اسے ایک نارمل عمل کا درجے دے کر اسے قبولیت کا شرف دیتا، لوگ اس عمل کو کرتے ہوئے بھی اس کی مذمت کرنے پر مجبور ہیں (بس انگلیاں دوسری طرف کر کے کرپشن کو گالیاں دیتے ہیں ) گویا کرپشن کے ساتھ ساتھ منافقت کا عمل بھی جاری ہے۔
کرپشن کے ویسے تو کئی فوائد ہیں جیسے لوگوں کا خوشحال ہونا، امیر طبقے میں لوگوں کا اضافہ ہونا، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہونا (جب لوگوں کی آمدنی میں (ناجائز ) اضافہ ہوتا ہے تو اضافی آمدنی کو بازاروں میں، ہوٹلوں، ناچ گانوں، عیاشیوں اور اس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں خرچ کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگوں کی آمدنی میں (جائز) اضافہ ہوتا ہے اور اس طرح معیشت کا پیہ گھومنے لگتا ہے ) ، ترقیاتی کام بھی دراصل کرپشن سے مشروط ہیں، پل اور سڑکیں بنیں گے تو افسران اور سیاست دانوں کو کچھ ملے گا ورنہ کہاں سے کھائیں گے۔ اس سلسلے میں یہاں صرف چند مثالیں دینے کی جسارت کر رہا ہوں :
ہمارے علاقے میں ایک انتہائی بے ایمان آدمی، جو کرپشن کرنے میں بڑا مشہور تھا، منشائے الہیٰ اور رضامندی عوام سے ٹاؤن کا ناظم بن گیا۔ اس کرپٹ ناظم کے دور میں علاقے میں جتنا کام ہوا اتنا کام پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نہیں ہوا تھا۔ پینے کے پانی کی لائنیں، سیوریج لائنیں، اسٹریٹ لائٹنگ، سڑکیں، گلیوں کی سی سی فلورنگ، فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر و توسیع اور تزئین و آرائش، اسکولوں کی تعمیر، ڈسپینسریوں کا قیام جیسے منصوبے بنے اور مکمل ہو گئے۔
یہ درست ہے کہ ان منصوبوں کے پایہ تکمیل تک پہنچتے پہنچے ناظم کا اپنا بنگلہ بھی مکمل ہو گیا، اس کے پاس نئی گاڑی بھی آ گئی اور اب وہ اورنگی ٹاؤن سے گلشن اقبال شفٹ ہو گئے ہیں مگر علاقے والوں کو اس کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں ہوا کیوں کہ ان کے مسائل تو حل ہو گئے، لہذا عوام بھی خوش اور ناظم بھی۔ اس کے برعکس ایک اور ٹاؤن والوں نے ایک انتہائی نمازی اور پرہیزگار انسان کو، جو رشوت دینے اور لینے کو حرام سمجھتے تھے، ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے منتخب کیا مگر وہ متقی انسان اپنے مدت نظامت میں ایک دھیلے کا کام بھی اپنے علاقے میں نہیں کروا سکا، کیونکہ وہ نہ کھاتا تھا نہ ہی کھلاتا تھا جس کی وجہ سے اس کے بنائے ہوئے سارے اسکیم فائلوں کی نظر ہو گئے (اب وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔
یہ کرپشن ہی کی برکتیں ہیں جس کی وجہ سے بڑے بڑے اسکیم بنائے جاتے ہیں، ہر منصوبے کے پیچھے منصوبہ ساز کا اپنا مالی یا ذاتی فائدہ یا مفاد چھپا ہوتا ہے۔ موٹر وے کے منصوبے ہوں، بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں سے معاہدے ہوں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ایمنسٹی اسکیم دینے کا معاملہ ہو، رنگ روڈ کا منصوبہ ہو یا راوی اربن ڈیویلپمنٹ پروگرام، اورنج، بلیو یا ریڈ لائن، پشاور بی آر ٹی ہو یا مالم جبہ پروجیکٹ، سب میں کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں لیکن ملک و قوم کی ترقی تو ہوئی ہے، یہی سوچ کر بیچاری پبلک خوش ہوتی ہے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کرپشن کا لفظ صرف سیاسی بدعنوانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جب کہ دیگر بدعنوانی کرنے والے خود کو معصوم تہجد گزار سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ایک وسیع معنی رکھنے والا لفظ ہے جس میں ہر وہ برائی شامل ہے جس کا منفی اثر معاشرے کے دوسرے انسانوں پر پڑ تا ہو۔ اس لحاظ سے معاشرے کا کوئی فرد ہی شاید اس لعنت سے پاک ہو۔ ذخیرہ اندوز، ملاوٹ کرنے والے، قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھانے والے، اسٹاک ایکسچینج کو یرغمال بنانے والے، کارٹلائزیشن کر کے مارکیٹ کو قابو کرنے والے، ٹیکس چوری کرنے والے، خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے، بچوں کے ساتھ زیادتیاں کرنے والے، رشوت دینے اور لینے والے، مسجدوں اور مدرسوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے والے، بجلی و گیس چوری کرنے والے، بہن اور بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرنے والے، یتیموں کا مال کھانے والے، بیوی کی کمائی پر عیش کرنے والے، سب کے سب کرپشن کے زمرے میں آتے ہیں، مگر معاشرے میں مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ کرپشن فائدہ مند ہے کہ نقصان دہ۔


