رمضان، بھکاری اور کراچی


رمضان شریف کی آمد کے ساتھ ہی کراچی پر اندرون ملک سے آئے ہوئے پیشہ ور بھکاریوں اور گدا گیروں کی یلغار شروع ہوجاتی ہے روزانہ ہزاروں بھکاری مختلف مافیاز کی مدد سے کراچی آتے ہیں ان میں ہر عمر کی خواتین۔ مرد اور بچے شامل ہوتے ہیں جو یا تو معذور ہوتے ہیں یا گیٹ اپ کے ذریعے خود کو اندھا اور اپاہج بنا کر شہر کے مختلف بازاروں۔ ہسپتال۔ سگنلز۔ شاپنگ سینٹر۔ مسجدوں اور بازاروں میں گروہ در گروہ شہریوں پر ہلہ بول دیتے ہیں۔ آپ کچھ کر لیں یہ بغیر لے نہیں ٹلتے۔ اگر کار کے شیشے بند بھی ہوں تو اس وقت تک کھٹکھٹاتے رہیں گے جب تک کچھ وصول نہ کر لیں۔ ان بھکاریوں کے ساتھ ہی دو جعلی ہیجڑے بھی مانگتے نظر آتے ہیں۔ کیا یہ سب بغیر انتظامیہ اور پولیس کی اعانت کے بغیر ممکن ہے؟ بالکل نہیں یہ ایک وسیع کاروبار ہے۔

سب کو حصہ ملتا ہے۔ ہر ٹریفک سگنل اور بازاروں میں بھکاریوں کے جمگھٹے ٹریفک کانسٹیبل اور پولیس کے سامنے خاندان سمیت ڈیرہ ڈالے بیٹھے نظر آتے ہیں لیکن ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ ہر سگنل ہر بازار بکا ہوا ہے جہاں وہی فقیر مانگے گا جس نے زیادہ مال دیا ہے اس جگہ کوئی دوسرا بھکاری نہیں مانگ سکتا۔

میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بھکاریوں کو باقاعدہ پک اینڈ ڈراپ کیا جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا کہ اچھا خاصا انسان رکشہ سے اتر کر زمین پر گھسٹنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سب اداکاری کرتے ہیں اور عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ یہی نہیں اب ان کے ریٹ بھی آسمان پر ہیں دس پانچ روپے دینے والے کو نہایت حقارت سے دیکھتے ہیں اور شاید گالیاں بھی دیتے ہوں۔

میرے خیال میں تو فقیر اور گداگیر یا بھکاری دو مختلف چیزیں ہیں۔ ”فقیر“ لفظ فقر سے نکلا ہے جو اللہ کے برگزیدہ بندوں کی خاصیت ہے۔ فقر کم پر قناعت کرنے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے کی علامت ہے جنکا گدا گیری اور بھیک مانگنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ ایک روایت ہے کہ بنی پاک جب معراج پر تشریف لے گئے تو انہوں نے ایک گروہ دیکھا جن کے چہرے کا گوشت نچا ہوا تھا۔ حضور نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو جبرائیل نے جواب دیا یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو لپٹ لپٹ کر بھیک مانگتے تھے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ”انفاق“ کا ذکر ہے جس کے معنی دینے کے ہیں اور دینے والے یا اوپر والے ہاتھ کو بہتر بتایا گیا ہے۔

پیشہ ور بھکاری اور گداگیر معاشرے پر ایک بدنما داغ ہیں یہ انسانی جذبات سے کھیلتے ہیں۔ مانگتے تو اللہ کے نام پر ہیں لیکن ایک وقت کی نماز نہیں پڑھتے نہ ہی روزہ رکھتے ہیں۔ یہ مسجد کے باہر کھڑے نماز کے ختم ہونے کا انتظار تو کرتے ہیں لیکن خود کبھی مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ گروہ بچوں کے اغوا اور ان کے جسمانی معذور کرنے کے بھی مجرم ہوتے ہیں۔

میرے خیال میں تو پیشہ ور منگتوں کو ”بھیک“ دے کر ہم ان سفید پوش افراد کی حق تلفی کرتے ہیں جو ضرورت مند اور مستحق تو ہوتے ہیں لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔ کیا ہمارے اطراف میں وہ سفید پوش نہیں جو اپنی عزت نفس کی خاطر سوال بھی نہیں کرتے۔ کیا ایسے لوگ ہمارے خاندان اور اطراف میں نہیں جو اپنے علاج۔ بچوں کی تعلیم اور بیٹیوں کی شادی نہیں کر سکتے سب سے پہلا حق انہی کا ہے اور ہم سے ان کے متعلق روز قیامت سوال ہو گا ان کا ہم پر حق ہے اگر ہم دینے کے قابل ہیں تو شکر کریں اور اپنا فرض جان کر ان کی خاموشی سے مدد کریں یہ ہم پر فرض ہے۔ ہم کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ بمشکل اپنا فرض ادا کر رہے ہیں

آج کل کراچی میں ان ”مستحقین“ کو شتر مرغ کے گوشت کی کڑاہی کی سحری کرائی جا رہی ہے اور اس کی مختلف تاویلیں بھی پیش کی جا رہی ہیں جس کی بحث میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ افطار اور سحر میں لمبے لمبے دسترخوان لگتے ہیں اس کے علاوہ بھی سارا سال شہر کے مختلف رفاہی ادارے ان نام نہاد بھوکوں کو مٹن قورمہ کھلاتے ہیں جبکہ ایک سفید پوش دال روٹی کو ترسا ہوا ہے۔

کسی کے لیے بھی ایک اجنبی شہر میں جا بسنے کی اس سے بڑی ایٹریکشن اور کیا ہو سکتی ہے کہ نئے شہر میں اعلی قسم کے کھانے تو بغیر محنت کئیے بلا قیمت مل ہی جائیں کے۔ رہنے کو بھی بیشمار فٹ پاتھ۔ پل۔ کچی بستیاں موجود ہیں جہاں مفت میں سیوریج کے سہولتیں۔ گیس۔ اور بجلی استعمال کرتے ہیں اور اس کا بوجھ مقامی شہریوں کو اضافی بل اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق روز دس سے پندرہ ہزار نئے لوگ کراچی آرہے ہیں اور شہر کے وسائل پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ہر قسم کی سیاسی مفادات سے قطع نظر اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ ان غیر مقانی افراد کا شمار اور اندراج بھی ہو جو جرائم کی روک تھام میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے اس کے علاوہ ہر بڑے اور کاسموپولیٹن شہر کی طرح ”کراچی میں بھی“ کاسموپولیٹن ٹیکس ”ہر نئے آنے والے شخص پر لاگو کیا جائے اس رقم کو شہر کی ترقی اور تزئین پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ایک طرف تو بے تحاشا آبادی کی یلغار کی حوصلہ شکنی ہوگی اور دوسری طرف شہر کے دستیاب وسائل سے بلا معاوضہ فیض یاب ہوئے والوں پر کسی حد تک قدغن لگ سکتی ہے۔ کراچی اب مزید آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ضروری ہے کہ اس کو روکا جائے۔ ہمارے مذہب میں بھی شہروں کے سائز چھوٹا رکھنے کا حکم ہے۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔

Facebook Comments HS