ایک اور کٹی گردن کا بوجھ

بھی تو نور مقدم کی کٹی گردن کا منظر آنکھ سے مٹا نہیں تھا کہ ایک اور گردن کا بوجھ اس ریاست کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔ ابھی تو نور کی چیخوں کی بازگشت ہی تھمی نہ تھی کہ آصف کی دل سوز چیخوں سے دھرتی کانپ اٹھی ہے۔ اس سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ بھی یقیناً اس غم انگیز منظر کو قید کرتے ہوئے ٙ خون کے آنسو روئی ہو گی۔ فرق بس اتنا ہے تب کیمرے نے نور کی گردن اترنے سے پہلے اور اب کی بار آصف کی گردن کٹنے کے بعد کے منظر کو ہمیشہ کے لیے قید کر لیا۔ اور وہ منظر بھی کیا قیامت خیز منظر تھا بس ایک کہرام تھا جو صرف ایک چھوٹی سی دھاتی ڈور نے آنا فانا برپا کر دیا تھا۔
فیصل آباد کی شور بھری زندگی میں یہ بھی بہت سے دنوں کی طرح بظاہر ایک عام سا دن تھا جب آصف گھر سے ماں اور بہنوں کی دعاؤں کے سائے میں اپنے خوابوں کے ہمراہ نکلا تھا۔ ہوا کے دوش ہر اپنا موٹر بائیک دوڑاتے اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایک تیز دھاتی خونی تار سمن آباد کی ہلچل بھری سڑک پر اس کے موٹر بائیک کے رستے میں جھولتے ہوئے ٙ اس کی گردن پر پھرنے کے لیے بے قراری سے انتظار کر رہی ہو گی۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ سڑک جہاں زندگی قہقہے لگا رہی تھی اب آصف کی دردناک چیخوں سے کراہ رہی تھی۔
خون میں لت پت اپنی زندگی کی بازی ہارنے والا وہ 22 سالہ جوان سڑک پر ایسے کٹا پڑا تھا جیسے قربانی کا جانور۔ آس پاس کے لوگوں میں سے کوئی پانی کے لئے بھاگ رہا تھا۔ کوئی ایمبولینس کے لیے تو کوئی اس نوجوان کی لرزہ خیز موت اور اپنی بے بسی پر سینہ پیٹ رہا تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل نوحہ کناں۔ لیکن کوئی کچھ نہ کر پایا۔ ظالم ڈور موت کا پنجہ بن کر اس کی زندگی کی ڈور کاٹ چکی تھی۔
آصف تو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے ٙ گا۔ لیکن میں یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہوں کہ جب آصف تڑپ تڑپ کر سڑک ہر بے یار و مددگار اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا کہاں تھی ریاست ماں جس نے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ اقتدار کے محلوں کی اونچی فصیلوں پر بیٹھے ان سلاطین کو کب یہ احساس ہو گا کہ محل کے نیچے کھڑی یہ عوام کوئی رینگنے والے کیڑے نہیں بلکہ پچیس کروڑ جیتی جاگتی روحیں ہیں۔ ان میں سے ہر ذی روح ایک مکمل کہانی ہے نہ کہ محض حکومتی اعداد و شمار یا پھر میڈیا کی ایک خبر؟
کیوں ریاست کی بے حسی کی قیمت ہمیشہ معصوم لوگوں کو اپنے پیاروں کو کھو کر ہی چکانا پڑتی ہے؟ ریاست کو کوئی ایکشن لینے کیے کتنے اور آصفوں کا خون درکار ہو گا؟ اس منحوس پتنگ بازی سے جان کی بازی ہارنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ تو تھا نہیں لیکن اس غفلت، نالائقی اور بے حسی کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونے والی ہر جان اس ریاست کے ضمیر پر داغ اور ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔
اس جوان، خوبصورت چہرے اور ہنستی آنکھوں والے بچے کے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر جیتے جی جو قیامت گزری سو گزری لیکن اس ریاست کی ہر ماں کو اس بچے میں یقیناً اپنا بچہ نظر آیا ہو گا۔ ہر باپ نے آصف میں اپنے بچے کا عکس دیکھا ہو گا۔ ہر بھائی کا بازو کٹا ہو گا اور ہر بہن نے آصف کی ہنستی آنکھوں میں اپنے بھائی کی تصویر دیکھی ہو گی۔ اس ریاست کو بہت بہت مبارک ہو کیونکہ ہر ماں جو گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے بچے کے سر کا صدقہ اتار کر رخصت کیا کرتی تھی اب آصف کی درد بھری موت کے بعد اپنے بچوں کی گردنوں کا صدقہ اتارا کرے گی۔

